Friday , May 25 2018
Home / Top Stories / زمانہ بدل گیا! سخت گیر جدوجہد کی اہمیت باقی نہیں رہی

زمانہ بدل گیا! سخت گیر جدوجہد کی اہمیت باقی نہیں رہی

پسماندہ اضلاع کی ترقی سماجی انصاف کی سمت اہم قدم ، پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں وزیراعظم مودی کا خطاب

نئی دہلی ۔ 10 مارچ ۔( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہاکہ انتہائی پسماندہ اضلاع کی ترقی کے لئے کام کرنا سماجی انصاف کی سمت ایک اہم قدم ہوگا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہڑتال و احتجاج کی ’سخت گیر سیاست‘ کی اب ایسی اہمیت و افادیت باقی نہںے رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی ۔ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں ’’ہم برائے ترقی ‘‘ کے زیرعنوان ارکان مقننہ کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہئوے کہا کہ ملک کی شناخت شدہ 115 انتہائی پسماندہ اضلاع کی ہمہ گیر ترقی کے تناظر میں سماجی انصاف کے موضوع پر اظہار خیال کررہے تھے ۔ ان اضلاع کی ترقی کیلئے ان کی حکومت نے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ وزیارعظم نے کہاکہ اگر تمام طلبہ اسکول جائیں اور تمام گھروں کو برقی حاصل ہوجائے تو یہ بھی سماجی انصاف کیسمت ایک قدم ہوگا ۔ وزیراعظم نے مرکزی وزراء ، ارکان پارلیمنٹ اور مختلف ریاستوں کے ارکان مقننہ سے خطاب کررہے تھے ادعاء کیا کہ ترقی کے فقدان کیللئے کسی وجہ بجٹ یا وسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ حکمرانی کے فقدان کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ مودی نے کہاکہ ترقی کیلئے بہتر حکمرانی کے فقدان کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ مودی نے کہا کہ ترقی کیلئے بہتر حکمرانی ، اسکیمات پر موثر عمل آوری اور سرگرمیوں پر بھرپور توجہہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انھوں نے ارکان پارلیمنٹ اور ریاستوں کے ارکان مقننہ سے کہا کہ ’’ایک ایسا بھی وقت تھا جب ساری سیاست صرف ایجی ٹینشوں پر مبنی ہوتی تھی اور سخت گیر جدوجہد کام کردکھاتی تھی ۔ لیکن اب وقت اور زمانہ کے حالات بدل گئے ہیں۔ اب آپ خواہ اقتدار پر ہوں کہ اپوزیشن میں رہیں اہمیت صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ آیا آپ عوام کی مدد کے لئے آگے آتے ہیں ۔ انھوں نے کاکہ ایسی باتیں قصۂ پارینہ بن گئی ہیں کہ آپ نے کتنا ایجی ٹیشن کیا تھا۔ آپ کتنے مورچہ منظم کئے تھے ۔ آپ کتنی مرتبہ جیل گئے تھے ۔ جیسی باتیں 20 سال پہلے آپ کے سیاسی کیرئیر میں اہمیت رکھتی تھی لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے ، حالات بدل چکے ہیں۔ مودی نے قانون سازوں سے کہا کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں ترقیاتی اہداف کی تکمیل کیلئے کام کریں۔ انھوں نے کہاکہ سماجی انصاف پر کوئی بحث اکثر سماجی حالات تک محدود رہتی ہے حالانکہ اس کے کئی دوسرے پہلو بھی ہیں۔ اگر کسی گھر یا گاؤں میں بجلی رہتی ہے اور پڑوسی گھر یا گاؤں میں بجلی نہیں ہے تو سماجی انصاف کا تقاضہ ہوتا ہے کہ وہاں بھی بجلی سربراہ کی ائے ۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان میں ’سماجی انصاف ‘ کی اصطلاح سیاسی معنوں سے پُر ہے کیونکہ اکثر سیاسی جماعتیں بالخصوص ’’جنتا پریوار‘‘ سے تعلق رکھنے والی جماعتیں پسماندہ طبقات اور سماج کے دیگر کمزور طبقات سے حصول تائید کے لئے اس کا استعمال کیا کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ ان کی حکومت 115 اضلاع کی پسماندہ ضلعوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ اُمنگوں پر مبنی اضلاع کی حیثیت سے شناخت کی ہے کیونکہ لفظ پسماندہ سے منفی پہلو اُجاگر ہوتا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ’’ہم پسماندہ کے درمیان نہیں بلکہ ترقی یافتہ کے درمیان ماسبقت چاہتے ہیں ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT