زمانہ نیا ، راگ پرانا : بی جے پی مندر مسئلہ پر واپس

ہر کوئی ایودھیا میں رام مندر چاہتاہے ، صبر کی ضرورت ، راجناتھ سنگھ کا پارلیمنٹری پارٹی میٹنگ سے خطاب

نئی دہلی ۔18 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اب جب کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے قانون بنانے حکومت پر ہندو توا تنظیموں کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے ، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج بی جے پی قانون سازوں سے کہا کہ اس مسئلہ پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے ۔ بی جے پی پارلیمنٹری پارٹی میٹنگ میں رویندر کشواہا اور ہری نارائن راج بھر یہ دونوں اترپردیش سے لوک سبھا حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں ، انہوں نے اس معاملہ کے بارے میں حکومت کے موقف کے تعلق سے آگاہی چاہی ۔ ذرائع نے کہا کہ راجناتھ سنگھ نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے دونوں کو بتایا کہ ہر کوئی اُس مقام پر رام مندر چاہتا ہے جہاں لارڈ رام کی پیدائش مانی جاتی ہے اور پارٹی ایم پیز سے اس معاملہ میں صبر کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ۔ جب دو ایم پیز نے اس مسئلہ کو اٹھایا تو چند دیگر نے بھی ان کی تائید کی ۔ وزیراعظم نریندر مودی اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے اور نہ ہی صدر پارٹی امیت شاہ شریک تھے ۔ ہندو توا تنظیمیں بشمول راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے گذشتہ چند ماہ میں مندر کی عاجلانہ تعمیر کیلئے اپنے مطالبہ میں شدت پیدا کردی ہے اور ان میں سے کئی بشمول آر ایس ایس سربراہ موہن بھگوت اس تعمیر کو یقینی بنانے کیلئے قانون لانے پر زور دے رہے ہیں ۔

اگرچہ بی جے پی کو ان تنظیموں کے احساسات سے اتفاق ہے لیکن اس نے ابھی تک قانون لانے کے تعلق سے کوئی حامی نہیں بھری ہے ۔ رام مندر کی اراضی کا تنازعہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔ بی جے پی کی اندرون ایسی رائے ہے کہ مندر کی تعمیر کیلئے راہ ہموار کرنا لوک سبھا انتخابات میں اس کے امکانات کو تقویت دے گا ۔ راجناتھ سنگھ نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے پاس کوئی لیڈر نہیں جو مودی کی مقبولیت کی برابری کرسکے اور بی جے پی ایم پیز سے 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی دوبارہ کامیابی کیلئے کام کرنے کی اپیل کی ۔ حالیہ اسمبلی چناؤ میں پارٹی کی شکستوں کے بعد جس میں وہ اپنی حکمرانی والی تینوں ریاستو ں میں اقتدار سے محروم ہوگئی ، اب اپوزیشن کی طرف سے سخت چیلنج نظر آرہا ہے ۔ جسے ناکام بناتے ہوئے 2019ء میں مرکز میں اقتدار پر واپسی کیلئے بہت جتن کرنے ہوں گے ۔ وزیر پارلیمانی اُمور نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ ہم اپوزیشن سے بہت آگے ہیں ۔ حالات ہمارے لئے کافی اچھے ہیں ، تومر نے اخباری نمائندوں کو یہ بھی بتایا کہ ’’ تین طلاق بل ‘‘جو مسلم مردوں کو اپنی بیویوں کو فوری طلاق دینے کے مجرم پائے جائیں سزائے قید کی صراحت کرتا ہے ، اُس کی پارلیمنٹ میں منظوری حکومت کیلئے اولین ترجیح ہے ۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے رافیل مسئلہ کے بارے میں سپریم کورٹ فیصلہ کے تعلق سے پارٹی ایم پیز کو بریفنگ دی ۔تومر نے بتایا کہ اس کے علاوہ کانگریس لیڈر سجن کمار کی مخالف سکھ فساد کیس میں سزا دہی اور تین طلاق قانون سازی کے تعلق سے بھی شرکائے اجلاس کو واقف کرایا ۔

TOPPOPULARRECENT