Sunday , February 25 2018
Home / Top Stories / زمبابوے میں فوجی بغاوت ، سرکاری دفاتر پر مکمل کنٹرول زمبابوے میں فوجی بغاوت ، سرکاری دفاتر پر مکمل کنٹرول ٭ پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر بکتر بند گاڑیاں تعینات٭ موگابے اور ان کی اہلیہ کو فوج نے نظربند کردیا ٭ امریکی شہریوں کو محتاط رہنے امریکی سفارت خانہ کی ہدایت

زمبابوے میں فوجی بغاوت ، سرکاری دفاتر پر مکمل کنٹرول زمبابوے میں فوجی بغاوت ، سرکاری دفاتر پر مکمل کنٹرول ٭ پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر بکتر بند گاڑیاں تعینات٭ موگابے اور ان کی اہلیہ کو فوج نے نظربند کردیا ٭ امریکی شہریوں کو محتاط رہنے امریکی سفارت خانہ کی ہدایت

ہرارے۔ 15 نومبر (سیاست ڈ اٹ کام) زمبابوے کی فوج نے ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور صدر رابرٹ موگابے اور ان کی اہلیہ کو نظربند کردیا ۔ فوج نے تمام سرکاری دفاتر پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے دارالحکومت کی سڑکوں پر گشت شروع کردی ہے۔ کل رات کی گئی اس کارروائی کے بعد بغاوت کے اندازے ظاہر کئے جارہے تھے لیکن فوج کے حامیوں نے اسے ’’خونریزی کے بغیر درستگی‘‘ کا عمل قرار دیا۔ پہلی مرتبہ جنگی افریقی ملک میں فوج نے 93 سالہ موگابے کی مخالفت کی۔ وہ 1980ء میں زمبابوے کی آزادی کے بعد سے یہاں اقتدار تھے۔ فوجی جنرلس نے کسی بھی نوعیت کی بغاوت سے انکار کردیا ہے تاہم سرکاری ٹیلی ویژن پر جو پیغامات انہوں نے دیئے ہیں اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایسے تمام مجرمین کو نشانہ بنائیں گے جو صدر رابرٹ موگابے سے قریب تصور کئے جاتے ہیں۔ اس وقت پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر فوجی گاڑیاں کھڑی ہوئی ہیں جبکہ سینئر فوجیوں (جنرلس) نے کل رات ٹیلیویژن پر قوم کے نام ایک پیغام بھی نشرکیا۔ پارلیمنٹ کے آس پاس کی تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔ پیغام میں عوام کو تیقن دیا گیا ہے کہ صدر اور ان کا خاندان بالکل محفوظ ہے اور ان کے تحفظ کی پوری پوری ذمہ داری فوج کی ہے۔ میجر جنرل سیسو مویو نے تحریر کیا ہوا پیغام آہستہ آہستہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق رابرٹ موگابے کے مصاحبین میں جو ’’مجرمین‘‘ ہیں، صرف ان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ فوج کا مشن پورا ہوتے ہی حالات ایکبار پھر معمول پر آجائیں گے۔
میجر جنرل میویو نے کہا کہ ملک کے اقتدار پر فوج قابض نہیں ہوئی ہے۔ تاہم اس وقت 93 سالہ عمر رسیدہ موگابے کے لیے واقعتاً یہ لمحہ فکریہ ہے کیوں کہ فوج کی سرگرمیاں مشتبہ ہیں۔ رابرٹ موگابے زمبابوے کے برطانیہ سے 1980ء میں آزاد ہونے کے بعد سے صدر کے عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں تاہم حالیہ دنوں میں موگابے اور ملک کی فوج میں کشیدگی پیدا ہونے کے بعد حالات اس قدر خراب ہوئے کہ اسے عوامی سطح پر بھی محسوس کیا جانے لگا۔ حکمراں ZANU-PF پارٹی نے فوجی سربراہ جنرل کونسٹانٹینو چیونگا پر غداروں جیسی حرکت کرنے کا الزام عائد کیا تھا جب انہوں نے نائب صدر ایمرسن نانگاوا کو معطل کرنے پر صدر موگابے کو زبردست تنقیدوں کا نشانہ بنایا تھا۔ نانگاوا کی برطرفی کے بعد موگابے کی 52 سالہ اہلیہ گریس کے لیے ایک اچھا موقع ہاتھ آگیا کہ وہ اپنے شوہر کی جانشین بن جائیں تاہم اعلی سطحی فوجی عہدیداروں نے اس کی سختی سے مخالفت کی تھی۔ جیسے جیسے صورت حال بد سے بدتر ہورہی ہے موگابے کی خانگی رہائش گاہ کے قریب رات کے اوقات میں فائرنگ کی متواتر آوازیں سنائی دیں۔ اسی دوران زمبابوے میں واقع امریکی سفارت خانے نے تمام امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فی الحال جہاں ہیں وہیں رہیں۔ کیوں کہ اس وقت ملک میں سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ سفارت خانہ کے عملہ کے علاوہ وہاں سیاحت پر آئے دیگر امریکی شہریوں کو بھی خصوصی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ہوٹلوں میں رہنے کو ترجیح دیں۔ فی الحال امریکی سفارت خانہ نے اپنی تمام تر سرگرمیوں کو بند کردیا ہے اور عوامی خدمات فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ شہری سڑکوں پر بکتر بند گاڑیاں دندناتی پھر رہی ہیں کیوں کہ چوینگا نے فوجی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کی خاموشی کا واضح مطلب یہی ہے کہ رابرٹ موگابے کی اقتدار پر گرفت کمزور پڑگئی ہے۔ اگر فوجی بغاوت ہوتی ہے تو اس صورت میں پورے ملک میں کرفیو کا نفاذ کیا جاسکتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ اس وقت عالمی سطح پر رابرٹ موگابے ایسے واحد سربراہ مملکت ہیں جن کی عمر سب سے زیادہ ہے۔ حالیہ دنوں میں ان کی خرابیٔ صحت کا بھی میڈیا میں کافی چرچا ہوا تھا۔ اپنی تقاریر کے دوران بھی موگابے اکثر و بیشتر الفاظ کی صحیح ادائیگی نہیں کرپائے تھے اور تقریر کرتے کرتے کافی دیر تک توقف کرتے تھے کیوں کہ وہ کچھ دیر بولنے کے بعد ہی تھک جاتے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سڑکوں پر کبھی بھی فوجی دبابے نہیں دیکھے یا اگر دیکھے بھی ہوں گے تو شاذ و نادر ہی ایسا ہوا ہوگا۔ اسی دوران اپوزیشن ایم ڈی سی پارٹی نے بھی ملک میں عوامی حکومت (جمہوری) کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT