Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / زمبابوے کے نئے صدر کی حلف برداری متوقع

زمبابوے کے نئے صدر کی حلف برداری متوقع

برطرف شدہ نائب صدر مننگاگوا صدارت سنبھالنے کیلئے تیار
ہرارے ۔ 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) زمبابوے کے حال ہی میں برطرف شدہ نائب صدر اب اس ملک کے نئے صدر کی حیثیت سے حلف لینے وطن واپس ہورہے ہیں۔ صدر رابرٹ موگابے نے اپنے خلاف جاری تحریک مواخذہ کے درمیان اچانک عہدہ سے استعفیٰ کا اعلان کردیا جس کے ساتھ ہی برطرف شدہ نائب صدر ایم سن مننگاگوا کے صدارت پر فائز ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ 37 سال سے صدارت پر فائز موگابے کے استعفیٰ کے اعلان کے بعد سارے زمبابوے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لاکھوں افراد سڑکوں پر جمع ہوکر فرط مسرت میں رقص کرنے لگے۔ اب موگابے کے ایک دیرینہ نائب مننگاگوا پر توجہ مرکوز ہوچکی ہے۔ انہوں نے اقتدار پر قبضہ کی دوڑمیں رواں ماہ کے اوائل کے دوران عوام میں غیرمقبول گریس موگابے کو اپنے شوہر کی جگہ لینے سے روک دیا تھا۔ بعدازاں مننگاگوا اپنے جان کو خطرہ کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے جس کے نتیجہ میں فوج بھی متحرک ہوگئی تھی۔ حکمراں جماعت میں بغاوت منظرعام پر آگئی تھی اور عوام بھی صدر موگابے کی کھلے عام مخالفت پر اتر آئے تھے۔ ہنوز یہ واضح نہیں ہوسکا ہیکہ صدارت پر مننگاگوا کے فائزہونے کے بعد موگابے اور ان کی بیوی کا کیا رول رہے گا۔ مننگاگوا جو سبکدوش صدر موگابے کے قریبی اور بااعتماد نائب رہے ہیں لیکن قانون اول گریس موگابے کو صدارتی عہدہ پر فائز کرنے کی مخالفت کررہے تھے۔ اس مسئلہ پر اختلافات میں شدت کے بعد انہیں برطرف کیا گیا تھا۔

 

زمبابوے کے علاوہ جنوبی آفریقہ میں بھی جشن کا ماحول

٭ نقل مکانی کرنے والے ہزاروں زمبابوے شہریوں کا سڑکوں پر رقص اور سیٹیاں بجائیں
٭ ایمرسن نانگاگوا آئندہ امکانی صدر ، پارلیمنٹ میں موگابے کا استعفیٰ نامہ پڑھ کر سنایا گیا

ہرارے۔ 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) زمبابوے میں رابرٹ موگابے کے استعفیٰ کے بعد 37 سالہ دورِ حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور اب عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کا جانشین کون ہوگا اور ان کی تقرری کب عمل میں آئے گی۔ یاد رہے کہ پارلیمنٹ کے ایک خصوصی مشترکہ سیشن میں رابرٹ موگابے کے استعفیٰ کا اعلان کیا گیا جہاں ایم پیز اس بات کے خواہاں ہیں کہ 93 سالہ سابق صدر کا مواخذہ کیا جائے جو اپنے طویل ترین دور اقتدار میں زمبابوے میں عوامی زندگی کے ہر شعبہ پر چھائے رہے۔ جیسے ہی عوام کو یہ پتہ چلا کہ موگابے کے طویل ترین ظالمانہ دور حکومت کا خاتمہ ہوگیا ہے تو وہ سڑکوں پر جشن منانے نکل آئے۔ سڑکوں پر ہر طرف عوام کا ہجوم رقص کرتا ہوا نظر آیا اور ساتھ ہی ساتھ لوگوں نے اپنی اپنی گاڑیوں کے ہارن بھی تیز آواز میں بجانا شروع کردیئے جبکہ آئندہ صدر کیلئے ’’ایمرسن نانگاگوا‘‘ کا نام لیا جارہا ہے جنہیں موگابے نے جاریہ ماہ کے اوائل میں اپنے نائب کے طور پر برطرف کردیا تھا۔ موگابے کے اس اقدام نے فوجی سربراہان کو برہم کردیا تھا جس کے بعد انہوں نے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا اور بالآخر موگابے کو مستعفی ہونا پڑا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ سیاست میں نہ کوئی کسی کا مستقل دشمن ہوتا ہے، نہ مستقل دوست۔ یہی نانگاگوا کسی زمانے میں موگابے کے قریب ترین رفیق تصور کئے جاتے تھے لیکن دوسری طرف وہ موگابے کی جانشینی کے لئے موگابے کی اہلیہ گریس کے حریف بھی قرار دیئے گئے تھے۔ ان دونوں کی اقتدار کے لئے رسہ کشی نے عوام کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرلی تھی اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ’’ساجھے کی ہانڈی چوراہے پر پھوٹی‘‘ بالکل اسی طرح نانگاگوا کے صدر بننے کے امکانات تو روشن ہیں لیکن گریس ’’ان گریس‘‘ ہوگئیں۔

قبل ازیں پارلیمنٹ کے اسپیکر جیکب موڈنیڈا نے ایوان میں رابرٹ موگابے کا استعفیٰ نامہ پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے کہا کہ تھا کہ فوری اثر کے ساتھ اپنے عہدہ سے دستبردار ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے رہے ہیں اور اس کے لئے ان پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے۔ وہ فی الحال زمبابوے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے فکرمند ہیں اور اس بات کے خواہاں ہیں کہ اقتدار کی منتقلی پرامن طور پر مکمل ہوجائے۔ سابق صدر موگابے کے مواخذہ کے ارادے سے کانفرنس سنٹر میں آئے ایم پیز کو یہ محسوس بھی نہیں ہوا کہ وہاں سے رابرٹ ہوگابے کے پورٹریٹ کو بھی ہٹا لیا گیا ہے جبکہ ایک دیگر شخص نے نانگاگوا کی بڑی تصویر بھی دیوار پر آویزاں کردی۔ دوسری طرف رابرٹ موگابے کے ظالمانہ دور حکومت کے دوران جو لوگ زمبابوے چھوڑ کر جنوبی آفریقہ فرار ہوگئے تھے۔ انہیں بھی جب یہ اطلاع ملی کہ رابرٹ موگابے اب ملک کے صدر نہیں رہے تو وہ بھی جوہانسبرگ کی سڑکوں پر آگئے اور خوب جشن منایا۔ جوہانسبرگ کے قریب ایک چھوٹا سا مستقر ہل بروہے جہاں زمبابوے کے شہریوں کی کثیر تعداد آباد ہے۔ انہوں نے زمبابوے کے پرچم لہراتے ہوئے اور سیٹیاں بجاتے ہوئے موگابے کے دور اقتدار کے خاتمہ کا جشن منایا۔ اس موقع پر ایک 60 سالہ زمبابوے کے شہری نکوے کھومالو نے کہا کہ اس کا دل یہ چاہتا ہے کہ وہ آج رات ہی زمبابوے چلا جائے۔ میں 36 سال قبل صرف روزگار کی تلاش میں جنوبی آفریقہ آیا تھا۔ 1980ء میں برسراقتدار آنے کے بعد زمبابوے کو (جو کسی زمانے میں جنوبی آفریقہ کا ’’بریڈ باسکٹ‘‘ کہلاتا تھا) کو معاشی طور پر دیوالیہ کردیا تھا اور یہاں تک کہ زرعی پیداوار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے تھے جبکہ زمبابوے کو معدنیاتی ذخائر کا مرکز قرار دیا جاتا تھا جیسے پلاٹینم، سونا، ہیرے اور نِکل۔ ملک کی کرنسی بھی زوال پذیر ہوئی تھی اور سب سے زیادہ اثرات افراط زر کی وجہ سے پیدا ہوئی بیروزگاری نے مرتب کئے اور ملک کا پڑھا لکھا طبقہ نقل وطن کرنے پر مجبور ہوگیا تاکہ بہتر روزگار حاصل کیا جاسکے جن میں سب سے زیادہ نقل مکانی پڑوسی ملک جنوبی آفریقہ کے لئے ہوئی۔ آج زمبابوے کے ایسے کئی پڑھے لکھے نوجوان ہیں جنہوں نے جنوبی آفریقہ پہنچ کر ترقی کی اور آج خوشحال زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کے دل کے کسی گوشے میں رابرٹ موگابے کے لئے نفرت کے جذبات ضرور تھے لہذا انہوں نے بھی آج موگابے کے سیاسی کیریئر کے خاتمہ پر جشن منایا اور بار بار یہ کہتے جارہے تھے کہ ’’وی آر فری‘‘ (ہم آزاد ہیں)۔

 

TOPPOPULARRECENT