Wednesday , December 13 2017
Home / ادبی ڈائری / زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے شاہدؔ صدیقی

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے شاہدؔ صدیقی

ڈاکٹر فاروق شکیلؔ

اجمالی تعارف :
نام : عبدالمتین ، قلمی نام : شاہد صدیقی ، تاریخ پیدائش : 1911 ء ، وفات : یکم اگست 1962 ء ، تعلیم : ہائی اسکول تک ، کتابیں : ’’چراغ منزل‘‘ (شعری مجموعہ) ۔ شیشہ و تیشہ کے کالم کی منتخب مزاحیہ نگارشات کا مجموعہ ’’شیشہ و تیشہ ‘‘ ۔ شاہد صدیقی نہ صرف نامور شاعر تھے بلکہ بہترین نثر نگار اور نقاد بھی تھے ۔ شاعری اور نثر نگاری میں ان کا رخش قلم اپنے جوہر دکھاتا تھا ۔ دنیائے صحافت میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ابتداء میں مختلف اخبارات میں اپنی خدمات انجام دیں۔ پھر روزنامہ ’’سیاست’‘ سے وابستہ ہوئے اور مشہور مزاحیہ کالم ’’شیشہ و تیشہ‘‘ کے عنوان سے آخری دم تک لکھتے رہے۔ ’’شیشہ و تیشہ‘‘ کے مستقل کالم کے علاوہ شاعر سیاست کے نام سے مزاحیہ نظمیں بھی لکھا کرتے تھے ۔ شاہد صدیقی نے غزل کو معنویت کا لباس پہنایا ہے ۔ ان کی شاعری میں اسلوب کی جدت ندرت اور کلام کی تازگی اور شگفتگی اپنی پوری توانائی کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے ۔
منتخب اشعار
جو کھوگئے ہیں اجالوں میں ان کو کیا معلوم
کہ ظلمتوں سے بھی ہوتا ہے راستہ معلوم
کچھ اس طرح مری دنیا پہ چھا گیا کوئی
مجھی کو میری نظر سے چھپا گیا کوئی
یہ رنج ہے کہ میں رودادِ شوق کہہ نہ سکا
خوشی یہ ہے مرا مفہوم پاگیا کوئی
کون سمجھے اثرِ سوزِ محبت شاہدؔ
یہ وہ بجلی ہے جو گرتی ہے نہ لہراتی ہے
نئی زندگی کی ہوا چلی تو کئی نقاب اُتر گئے
جنہیں انقلاب سے پیار تھا وہی انقلاب سے ڈر گئے
اے قافلے والو سچ کہنا بے وجہ تو ہم ناکام نہیں
منزل کا تصور عام سہی منزل کی محبت عام نہیں
کب روح کی آنکھیں کھلتی ہیں احباب کو کیونکر سمجھاؤں
میں نے جسے ا کثر دیکھا ہے افسوس وہ جلوہ عام نہیں
رودادِ جدائی کیا کہئے اس طرح بھی کچھ دن گزرے ہیں
ہر صبح سے پوچھا ہے میں نے اب اور تو کوئی شام نہیں
یہ لطفِ کشاکش کیا کم ہے سامانِ سکوں حاصل نہ سہی
کشتی کا کوئی وارث تو ملا طوفاں ہی سہی ساحل نہ سہی
ماضی کی فسردہ یادوں سے کیوں خون کریں مستقبل کا
محفل تو سجانی لازم ہے وہ پہلی سی محفل نہ سہی
ان کو منظور نہیں درد کا رسوا ہونا
آہ کرتا ہوں تو آواز بدل جاتی ہے
غمِ جاناں کو غم دہر سے بہلاتا ہوں
زندگی مصلحت اندیش ہوئی جاتی ہے

غزل
مستیوں کے دامن میں انقلاب پلتے ہیں
میکشوں کی لغزش سے میکدے سنبھلتے ہیں
کیوں ہمارے ساتھ ایسے سست گام چلتے ہیں
جو سفر سے گھبراکر راستے بدلتے ہیں
ظلمتیں اجالوں پر فتح پا نہیں سکتیں
اک چراغ بجھتا ہے سو چراغ جلتے ہیں
دیکھئے کہاں پہنچیں یہ سفر کے دیوانے
آسماں کو تکتے ہیں اور زمیں پہ چلتے ہیں
کیا ہوا جو ساکن ہے آج سطح دریا کی
تہہ میں کتنے ہی طوفاں کروٹیں بدلتے ہیں
زندگی کو ڈھلنا ہے آج ان کے سانچوں میں
زندگی کی گرمی سے جن کے دل پگھلتے ہیں
ایک پل کے رکنے سے دور ہوگئی منزل
صرف ہم نہیں چلتے راستے بھی چلتے ہیں
آشنا ہیں پروانے سوزِ غم کی عظمت سے
شمع ہو تو جلتے ہیں اور نہ ہو تو جلتے ہیں

TOPPOPULARRECENT