Sunday , October 21 2018
Home / ادبی ڈائری / ’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے‘‘

’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے‘‘

ڈاکٹر فاروق شکیل

یوسف علی خلوصؔ
اجمالی تعارف :
نام : محمد یوسف علی ، قلمی نام : یوسف علی خلوصؔ، پیدائش : 1901 ء ، تعلیم : فارسی کی تعلیم حضرت کیفی حیدرآبادی سے حاصل کی۔ یوسف علی خلوصؔ معلم مدرسۂ دینیات مندامری عادل آباد رہے اور مندامری، بیلم پلی لکشٹی پیٹ، رام کشٹا پور وغیرہ کے قاضی بھی رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بیرون حیدرآباد گزارا، ملازمتوں کے سلسلے میں پربھنی ، ورنگل ، سنگا ریڈی وغیرہ میںبھی مقیم رہے ۔ عدالت العالیہ امور مذہبی سے بھی وابستہ رہے اور آخر میں ہائیکورٹ سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے۔ یوسف علی خلوصؔ کہنہ مشق شاعر تھے لیکن وہ صرف مخصوص حلقہ احباب کی محفلوں ہی میں کلام سناتے تھے اور گمنامی کی زندگی کواس دورِ تشہیر میں ضمیر فروشی سے ہونے والی ناموری پر مقدم سمجھتے تھے۔ ادبی سیاست نے انہیں آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا۔ یوسف علی خلوصؔ حضرت صفی اورنگ آبادی کے دورِ اول کے تلامذہ میں شامل تھے ۔ ان کے کلام میں بھی مکتب صفی کی خصویات سلاست ، فصاحت ، بلاغت ، محاور بندی اور ضرب الامثال موجود تھیں۔ ان کا کوئی مجموعہ کلام منظر عام پرنہ آسکا ۔ ان کے فرزند ارجمند ، محمد صدیق علی (صحافی) نے اپنے والد کا کلام مہیا کیا۔
منتخب غزلیات
حادثے پر حادثہ افتاد پر افتاد ہے
زندگی دنیا کی یا رب کتنی بے بنیاد ہے
کب گری دل پر مرے بجلی نہیں اس کا خیال
مسکرا کراس نے دیکھا تھا بس اتنا یاد ہے
ساتھ ان کے ، ان کے حسن و عشق کے چرچے گئے
اب نہ وہ مجنوں نہ وہ یوسف نہ وہ فرہاد ہے
بیکسی میں کوئی اپنا پوچھنے والا نہیں
دل جو اک مونس ہے خود اپنی جگہ ناشاد ہے
دیکھ کر دنیائے مطلب آشنا کوائے خلوصؔ
کنج تنہائی ہے اب میں ہوں خدا کی یاد ہے

اک نظر تجھ کو جوائے انجمن آرا دیکھے
دونوں عالم کونظر میں تہہ و بالا دیکھے
ناز بردار کوئی ناز اٹھائے تیرے
اور انداز کوئی دیکھنے والا دیکھے
آج کل دل میں ہے بس ایک یہ ارمان خلوصؔ
جس کو میں دیکھ رہا ہوں اسے دنیا دیکھے
پوشیدہ وہ نگاہ سے میری کہاں رہے
میں سایہ بن کے ساتھ رہا وہ جہاں رہے
ٹھکراکے میری قبر کو کہتا ہے وہ شریر
آخر ہمارے آنے کا کچھ تو نشاں رہے
مطلب زباں پہ آ نہ سکا رعبِ حُسن سے
ہم اس کی بزم میں جو رہے بے زباں رہے
بے یار و غمگسار ہی اپنی کٹی خلوصؔ
دنیا میں مثلِ یوسفِ بے کارواں رہے

اس کو سمجھ جو سمجھ سے دور ہے
معرفت کا ایک ہی دستور ہے
کون سمجھے عقل خود معذور ہے
پاس وہ جتنا ہے اتنا دور ہے
بندہ سب کچھ ہوکے پھر کچھ بھی نہیں
اسطرح مختار یوں مجبور ہے
شیخ صاحب غیر میں سمجھوں کسے
ذرے ذرے میں اسی کا نور ہے
کیوں ہے تو تسکین کا طالب خلوص ؔ
دل تڑپنے کیلئے مامور ہے

TOPPOPULARRECENT