Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / زندہ دلان حیدرآباد کی محفل طنز و مزاح، نوٹ بندی اور وزیراعظم کے وعدوں پر طنز، محفل قہقہہ زار

زندہ دلان حیدرآباد کی محفل طنز و مزاح، نوٹ بندی اور وزیراعظم کے وعدوں پر طنز، محفل قہقہہ زار

حیدرآباد کو طنز و مزاح میں راجدھانی کا مقام، پدم شری ڈاکٹر مجتبیٰ حسین و دیگر مزاحیہ فنکاروں کی تخلیقات پر داد و تحسین
حیدرآباد۔26 نومبر (سیاست نیوز) زندہ دلان حیدرآباد کی سالانہ تقاریب کا آغاز آج شام ادبی اجلاس سے ہوا، جس میں اردو کے پرستاروں اور طنزو مزاح کے شائقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اندرا پریہ درشنی آڈیٹوریم (باغ عامہ) میں منعقدہ اس تقریب میں ملک کے نامور مزاح نگاروں نے اپنے دلچسپ اور طنز و مزاح سے بھرپور مضامین کے ذریعہ محفل کو قہقہہ زار بنادیا۔ مضامین کے زیادہ تر موضوعات وزیراعظم ہند نریندر مودی کے اعلانات اور اقدامات، حالیہ دنوں میں ملک بھر میں نوٹ بندی کے باعث پیدا عوام کی مشکلات، بینکوں پر عام لوگوں کا ہجوم، طلاق ثلاثہ، یکساں سیول کوڈ اور اس طرح کے دیگر عصری موضوعات کو مضمون نگاروں نے اپنے انشائیوں کے ذریعہ نہایت دلچسپ انداز میں پیش کرکے خوب داد و تحسین حاصل کی۔ برصغیر کے نامور مزاح نگار پدم شری جناب مجتبیٰ حسین نے اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ دنیا بھر میں حیدرآباد کو طنزو مزاح کی راجدھانی کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ آج کا ادبی اجلاس اس بات کا ثبوت ہیکہ طنز و مزاح کے شائقین بینکوں کے قطاروں سے نکل کر زندہ دلان کے اس اجلاس میں شریک ہیں۔ عام طور پر ادبی جلسوں میں اتنی بڑی تعداد دیکھنے میں نہیں آتی لیکن آج حیدرآباد کے اردو پرستاروں نے اپنی شرکت اور دلچسپی کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ ان کیلئے طنز و مزاح کس قدر اہمیت رکھتا ہے، جناب مجتبیٰ حسین نے کہا کہ آج ہمارا ملک انتہائی سنگین اور پرآشوب دور سے گذر رہا ہے۔ موجودہ حالات نے عوام میں دہشت اور سنگینی پیدا کردی ہے۔ جمہوریت آج ڈکٹیٹر شپ کا روپ دھارتی ہوئی نظر آتی ہے۔ عوام کے مسائل شب و روز بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ ان حالات میں ہمارے ادیبوں، شاعروں نے جو کچھ لکھا ہے وہ قابل ستائش ہے۔  نواب قادر عالم خان، جناب مصطفی شہاب (لندن)  اور جناب بی وینکٹیشم سکریٹری ٹورازم اسپورٹس و کلچر نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ ابتداء میں جناب غلام احمد نورانی جنرل سکریٹری زندہ دلان حیدرآباد نے خیرمقدم کیا۔ جناب امتیاز الدین کنوینر ادبی اجلاس نے مضمون نگاروں کا تعارف کروایا اور تقریب کی کارروائی چلائی۔ اس موقع پر رنگارنگ اور دیدہ زیب ساوینر ’’شگوفہ‘‘ کی رسم اجرائی عمل میں آئی۔ ڈاکٹر محمد علی رفعت نائب صدر زندہ دلان حیدرآباد نے ساوینر کی رسم اجراء انجام دی۔ اس موقع پر شگوفہ کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر سید مصطفی کمال کو رسالہ شگوفہ کے 48 سال مکمل ہونے پر تہنیت پیش کی گئی۔ سب سے پہلے مضمون نگار مسرور شاہ جہاں پوری (لکھنؤ) نے ’’بیتی‘‘ کے عنوان پر مزاح سے بھرپور اپنا مضمون سنایا۔ ڈاکٹر رفیعہ نوشین نے ’’آٹو کی سواری جو ہوئی نہ پوری‘‘ کے موضوع پر نہایت دلچسپ مضمون پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا۔ ڈاکٹر ممتاز مہدی کا مزاحیہ مضمون ’’کاٹنا‘‘ کافی پسند کیا گیا۔ سید امتیاز الدین کنوینر نے اپنے مضمون ’’ہیرا کبھی پتھر ہے کبھی انمول‘‘ ہیں۔ 1000 اور 500 روپیوں کی منسوخی پر طنز کے خوب تیر برسائے۔ جدہ سے آئے ہوئے مہمان ڈاکٹر علیم خان فلکی نے ’’دکھنی زبان کی شان‘‘ میں تحریر کردہ  اپنے مضمون میں حیدرآباد کی عوامی زبان اور اس کے لب و لہجہ کو نہایت مزاحیہ انداز میں پیش کرکے داد حاصل کی۔ ڈاکٹر فرزانہ فرح (بھٹکل)،  اب حیدرآباد کیلئے محتاج تعارف نہیں رہی جو زندہ دلان کے ہر ادبی اجلاس میں مدعو کی جاتی ہے۔ اس بار انہوں نے ’’دھن کی بات‘‘ کے موضوع پر تحریر کردہ اپنے انشائیے میں نوٹ بندی سے پیدا صورتحال کا جائزہ لیا اور وزیراعظم کے اعلانات اور ان کے وعدوں کا نہایت عمدگی سے مذاق اڑایا۔  ان کے بعد نصرت ظہیر (دہلی) نے اٹھنی کے عنوان پر مضمون سنایا جس میں بدعنوان سیاستدانوں کے اسکام اور اسکینڈلوں کا بھرپور مذاق اڑایا گیا۔ ملک کے نامور مزاح نگار جناب فیاض احمد فیضی نے ’’بال کی کھال‘‘ قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم‘‘ سنا کر خوب داد تحسین حاصل کی۔  ادبی اجلاس میں پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی تلنگانہ، پروفیسر شوکت حیات، جناب  ایس کے افضل الدین، ڈاکٹر بیگ احساس، جناب عابد صدیقی، ظفر فاروقی، احمد صدیقی مکیش، تسنیم جوہر، ڈاکٹر جاوید کمال، خان اطہر، حامد کمال، ڈاکٹر محسن جلگانوی، ڈاکٹر فاروق شکیل، سید اصغرحسین کے علاوہ اردو کے پروفیسرس، ادیب، شعراء، صحافیوں اور باذوق سامعین کی بڑی تعداد شریک تھی۔ ادبی اجلاس میں موسم سرما کے باوجود شائقین طنز و مزاح شروع سے اختتام تک مضامین سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ اندرا پریہ درشنی ہال تنگ دامنی کا شکوہ کررہا تھا۔ کئی اصحاب و خواتین کو ہال کے باہر کھڑے ہوکر اجلاس کی کارروائی سے استفادہ کرنا پڑا۔

TOPPOPULARRECENT