Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / زکوٰۃ کی رقم اُمت کی ترقی و فلاح و بہبود کیلئے خرچ کرنے کا مشورہ

زکوٰۃ کی رقم اُمت کی ترقی و فلاح و بہبود کیلئے خرچ کرنے کا مشورہ

حیدرآباد زکوٰۃ اینڈ چیارٹیبل ٹرسٹ کا سالانہ اجلاس، اے کے خان، غیاث الدین بابو خان کا خطاب

حیدرآباد۔11جون(سیاست نیوز) اللہ رب العزت زکواۃ ادا کرنے والوں کے مال میں کمی نہیں کرتے بلکہ امت کا مالدار طبقہ اللہ کی جانب سے عطا کردہ دولت کو مستحقین تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے ۔ زکواۃ کی رقم امت کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے خرچ کی جانی چاہئے تاکہ اس رقم سے استفادہ کرتے ہوئے امت کا غریب طبقہ ترقی کی منزلیں طئے کرسکے۔ حیدرآباد زکواۃ اینڈ چیاریٹبل ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن فار اکنامک اینڈ ایجوکیشنل کی جانب سے منعقدہ سالانہ اجلاس کے دوران مولانا مفتی محمد اعظم نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس اجلاس کی صدارت جناب غیاث الدین بابو خان نے کی جبکہ اجلاس میں جناب محمد عبدالقیوم خان مشیر برائے حکومت تلنگانہ (اقلیتی امور) ‘ ڈاکٹر عامر اللہ خان ڈائریکٹر سی ایس ای اکیڈمی ‘ جناب محمد جلال الدین اکبر آئی ایف ایس‘ جناب مزمل خان آئی اے ایس‘جناب خلیل احمد‘ جناب عارف مرزا‘ جناب احمد سعید کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ ڈاکٹر عامر اللہ خان نے اس موقع پر جناب بشیرالدین بابو خان مرحوم کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ 25سال قبل وہ بھی اس ٹرسٹ کے استفادہ کنندگان میں شامل ہیں اور 25سال سے یہ ٹرسٹ قوم و ملت کی مختلف طریقوں سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں پنہاء ہے اور حیدرآباد زکواۃ اینڈ چیاریٹبل ٹرسٹ کی جانب سے تعلیمی ترقی کو ہی سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جو کہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جناب محمد عبدالقیوم خان نے ٹرسٹ کی تعلیمی خدمات کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت کی اسکیمات کو روبعمل لانے کے لئے سرکاری محکمہ جات سے تعاون اور عوام میں شعور بیداری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ غرباء کی مدد کیلئے ایک خانگی ادارہ کی جانب سے انجام دی جانے والی ان خدمات کے خود سرکاری ادارے معترف ہیں۔ جناب محمد جلال الدین اکبر نے بھی اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران حیدرآباد زکواۃ اینڈ چیاریٹبل ٹرسٹ سے اپنی وابستگی اور ٹرسٹ کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے ملت کی تعلیمی ترقی میں رول کا تذکرہ کیا۔ جناب غیاث الدین بابو خان نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ مالی سال 2016-17 کے دوران ٹرسٹ نے 1995مستحق طلبہ کو 4.31کروڑ کی اسکالر شپس جاری کی ہیں جن میں تلنگانہ ‘ آندھرا پردیش اور مہاراشٹرا کے طلبہ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں 236انتہائی قابل و مستحق طلبہ بھی شامل ہیں جنہیں 1.71کروڑ روپئے کے اسکالرشپس جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرسٹ کی جانب سے 99اردو میڈیم اور 3 انگریزی میڈیم اسکول چلائے جا رہے ہیں جن میں جملہ 24ہزار طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں9ہزار800اردو میڈیم اسکولوں کے طلبہ کو اسکول یونفارمس کی تقسیم عمل میں لائی گئی ہے۔ان پراجکٹس پر ٹرسٹ کی جانب سے 1.16کروڑ روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ جناب غیاث الدین بابو خان نے بتایا کہ ٹرسٹ کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کے علاوہ اعلی نشانات سے دسویں جماعت کامیاب لڑکیوںکو نقد انعامات بھی دیئے جا رہے ہیں اور ماہ رمضان المبارک کے دوران ٹرسٹ کی جانب سے غریب شہریوں میں افطار‘ اشیائے تغذیہ اور کپڑوں کی تقسیم بھی عمل میں لائی جاتی ہے اور یہ تمام امور مخیر شہریوں اور ملت کے فکر مندوں کی جانب سے کئے جانے والے تعاون کے ذریعہ ہی ممکن ہو پاتا ہے ۔اجلاس کی ابتداء میں جناب احمد سعید نے سالانہ رپورٹ پیش کی۔

TOPPOPULARRECENT