Wednesday , September 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / زیب و زینت اور اظہارِ مسرت

زیب و زینت اور اظہارِ مسرت

مولوی محمد مستان علی قادری

مولوی محمد مستان علی قادری
مذہب اسلام میں فضول اور لایعنی کاموں کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام کی نظر میں عید کا دن ایک مقدس دن ہے، جس میں انسان کو خالق و مخلوق دونوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ خالق کا خیال، اس کے حضور سجدہ ریزی ہے، جب کہ مخلوق کا خیال، انھیں اپنی خوشیوں میں شریک کرنے کے علاوہ خورد و نوش، لباس، طہارت و نظافت کا خاص اہتمام کرکے اپنی خوشیوں کو دوبالا کرسکتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہاں کے لوگوں نے سال میں دو دن کھیل کود اور تفریح کے لئے مقرر کر رکھا ہے۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا ’’یہ دو دن کیسے ہیں؟‘‘۔ لوگوں نے بتایا کہ دور جاہلیت میں ہم لوگ ان دو دنوں میں خوشیاں منایا کرتے تھے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان دو دنوں کو ان سے بہتر دنوں میں بدل دیا ہے، ایک عید الفطر کا دن اور دوسرا عید الاضحی کا دن‘‘۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بازار سے ایک ریشمی کام والا جبہ خدمت اقدس میں لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’یارسول اللہ! اسے خرید لیجئے، تاکہ اسکے ذریعہ عیدین کے موقع پر آراستہ ہوسکیں‘‘ (بخاری شریف، باب فی العیدین والتجمل فیہ) اس سے معلوم ہوا کہ عیدین کے موقع پر اچھے کپڑے پہننا اور زیب و زینت سنت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن عیدگاہ جانے سے قبل طاق عدد کھجوریں تناول فرمالیا کرتے تھے۔ حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کچھ کھا نہ لیتے عیدگاہ تشریف نہ لے جاتے اور عید الاضحی کے دن جب تک قربانی نہ کرلیتے کچھ تناول نہ فرماتے۔ (ابن ماجہ، دار قطنی) عیدین کے نماز واجب ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر اس کی پابندی فرمائی، ایک بار بھی چھوڑنا ثابت نہیں ہے، حتی کہ کسی سال عید کے دن بارش ہونے لگی تو آپﷺ نے عیدگاہ کی بجائے مسجد میں نماز عید پڑھائی، لیکن ترک کرنا گوارا نہیں فرمایا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے اور اس دن کا اولین عمل نماز ہوا کرتا تھا۔

معلوم ہوا کہ عیدگاہ میں نماز پڑھنا بہتر ہے۔ نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں ذی الحجہ کی عصر تک تکبیرات تشریق کہنا ضروری ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نویں تاریخ کی فجر کے بعد سے آخری ایام تشریق کی عصر تک، جب بھی فرض نماز کا سلام پھیرتے، تکبیر کہا کرتے تھے۔ (دار قطنی، مستدرک حاکم)۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عید کے دن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ جاتے وقت اور واپس آتے وقت راستہ تبدیل فرمایا کرتے تھے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ جس نے عیدین کی شب یعنی شب عید الفطر اور شب عید الاضحی میں طلب ثواب کیلئے قیام کیا، اس دن اس کا دل نہیں مرے گا، جس دن لوگوں کے دل مر جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT