Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / زیرگشت جملہ نوٹ تقریباً قبل از تنسیخ سطح پر

زیرگشت جملہ نوٹ تقریباً قبل از تنسیخ سطح پر

تنسیخ سے قبل زیرگشت کرنسی کی مالیت اور موجودہ زیرگشت کرنسی میںاضافہ

ممبئی ۔ 4مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت کی جانب سے بڑی مالیت کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے 15ماہ بعد تمام اعلیٰ مالیتی کرنسی نوٹوں کی زیرگشت تعداد ماقبل تنسیخ زیر گشت تعداد کے تقریباً مساوی ہوچکی ہے ۔ جملہ زیرگشت کرنسی نومبر 2016ء کی سطحوں کے قریب پہنچ چکی ہے ۔آر بی آئی کی جمعہ کے دن جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ مالیتی کرنسی نوٹوں کی مالیت 17.06 لاکھ کروڑ روپئے 18فبروری کو ہوجائیگی‘ جبکہ28اکٹوبر 2016ء کو اس کی مالیت 17.01 لاکھ کروڑ روپئے تھی ۔فی الحال اس میں وہ نقد رسم شامل نہیں ہیں جو بینکوں میں ہیں ۔ جب کہ زیرگشت کرنسی میں ایک روپیہ اور چھوٹے سکے شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ تجارتی بینکوں میں کرنٹ اور سیونگ کھاتوںمیں جمع کردہ رقم بھی شامل کی گئی ہے ۔ 23فبروری کو جملہ زیرگشت کرنسی کی مالیت 17.82لاکھ کروڑ روپئے یعنی نوٹ بندی سے پہلے کی سطح کی 99.17 فیصد تھی ۔ نوٹوں کی تنسیخ سے پہلے کی زیرگشت کرنسی کی مالیت 17.97لاکھ کروڑ روپئے تھی ۔ آر بی آئی نے بینکنگ نظام میں اوسطاً 0.6فیصد ہر ہفتہ اضافہ کیا ہے ۔گذشتہ 8ہفتوں میں یہی سطح برقرار رکھے گی ۔ امکان ہے کہ جملہ زیر گشت کرنسی آبادی میں اضافہ کی شرح سے بھی آئندہ ہفتہ زیادہ ہوجائے گی ۔ اعداد و شمار کوایک ہفتہ کے فرق سے برسرعام ظاہر کردیا جائے گا ۔ 16فبروری کو زیرگشت کرنسی کی مالیت 17.52لاکھ کروڑ روپئے تھی جب کہ آر بی آئی کے پاس صرف 19کروڑ روپئے کے نوٹ بینکنگ کے شعبوں میں موجود تھے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آر بی آئی جو نوٹ چھاپ رہی تھی

 

ان کی زیادہ تر تعداد زیرگشت تھی‘ تاہم جملہ کرنسی کا 86.4فیصد زیر گشت تھا ۔ نومبر 2016ء کو نقد رقم میں اضافہ دیکھا گیا تھا جس کی وجہ سے ایک ہزار روپیہ کی مالیت کے نوٹ مکمل طور پر بینکنگ نظام سے دستبردار کروالئے گئے جب کہ دو نئے مالیتی نوٹ دو ہزار روپیہ اور دوسو روپیہ مالیتی نوٹ جاری کئے گئے ۔ جب کہ دو ہزار روپیہ مالیتی نوٹ زیرگشت کرنسی کا پچاس فیصد ہیں ۔ مارچ 2017ء کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جب آر بی آئی درس کرنسی نوٹوں کی تعداد کو بشمول 500روپئے ‘200روپئے ‘100روپئے اور 50روپئے مالیتی نوٹوں کو جاری کرے تو یہ تعداد مکمل ہوجائے گی ۔ ذرائع نے قبل ازیں توثیق کی تھی 2000 اور 500روپئے مالیتی نوٹ جملہ بینک نوٹوں کا زیادہ تر حصہ ہے جبکہ چھوٹی مالیت کے نوٹ 10فیصد سے بھی کم ہے ۔ آر بی آئی کی سالانہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوٹوں کی 98.96تعداد جو منسوخ قرار دی گئی تھی بینکنگ نظام کو واپس کی جاچکی ہیں ۔ آر بی آئی نے بینکنگ نظام میں جو نوٹ جمع کروانا جاری رکھا تھا ان میں ہر ہفتہ 0.6فیصد کا اضافہ کیا گیا ۔ امکان ہے کہ جملہ زیر گشت کرنسی آبادی میں ہر ہفتہ اضافہ کی شرح سے تجاوز کرجائے گی ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT