زینہ پورہ کے ہائی سیکورٹی علاقے میں حملہ: 4پولیس اہلکار جاں بحق

اقلیتی فرقے کی حفاطت پر مامور پولیس چوکی پردن دھاڑے دھاوا، 4 سروس رائفلیں لوٹ کر حملہ آور فرار

زینہ پورہ(شوپیاں)-جنوبی ضلع شوپیان میں زینہ پورہ تحصیل ہیڈکوارٹر پر جنگجوئوں نے دن دھاڑے انتہائی ہائی سیکورٹی علاقے میں کشمیری پنڈتوں کی حفاظت پر مامور پولیس چوکی پر دھاوا بول دیا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے پولیس کے 4جوانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی 4ایس ایل آر رائفلیں اڑا کر فرار ہوئے۔حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جنگجوئوں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کردی ہے۔
مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ زینہ پورہ مین ٹائون کے پنڈت محلہ میں دن کے تقریباً ایک بجے کا وقت تھا، جب انہوں نے پہلے ایک چھوٹا سا دھماکہ سنا اور ساتھ ہی اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں سنیں اور سکوت چھا گیا۔
انکا کہنا تھا کہ انہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر کیا ہوا۔اسکے بعد پولیس یہاں پہنچ گئی جن کے ساتھ فوج بھی تھی لیکن وہ اس مکان میں داخل نہیں ہوئے جہاں پولیس چوکی قائم کی گئی تھی، کیونکہ باہر کا گیٹ بند پڑا تھا۔مقامی لوگوں کے مطابق قریب 20یا 25منٹ بعد پولیس اندر داخل ہوئی جہاں انہوں نے چار پولیس اہلکاروں کو خون میں لت پت پایا جن میں سے ایک کی سانس چل رہی تھی۔
اسے فوری طور پر اسپتال لیجایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا۔بعد میں اس بات کی جانکاری دی گئی کہ جنگجوئوں کے ایک گروپ نے مذکورہ مکان کے پچھلے طرف دیوار پھلانگ کر راستہ بنایا اور اُس وقت پولیس اہلکاروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ دوپہر کے کھانے کی تیاری کررہے تھے۔
جنگجوئوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی اور 4رائفلیں اڑا کر پچھلے راستے سے ہی فرار ہوئے جہاں سے وہ آئے تھے۔لوگوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے کسی بھی جنگجو کو نہیں دیکھا تاہم بعد میں یہ بات معلوم ہوئی کہ انکے لئے پنڈتوں کی بستی کے پچھلی طرف سیڑھیوں سے آگے کوئی گاڑی انتظار کررہی تھی جس میں وہ فرار ہوئے۔
پولیس چوکی میں کل 5اہلکار تعینات ہوتے تھے جن میں سے حوالدار بشیر احمد چھٹی پر گھر گیا ہوا تھا۔بعض اطلاعات یہ ہیں کہ جنگجوئوں نے پہلے پولیس اہلکاروں کو اسلحہ سونپنے کے لئے کہا لیکن پولیس اہلکاروں نے ایسا نہیں کیا جس کے بعد انہیں ہلاک کیا گیا۔
پنڈت محلہ میں اب صرف 3پنڈت کنبے رہائش پذیر ہیں۔ان میں سومناتھ،صاحب جی اور پوسکت ناتھ بھی شامل ہیں جوس کی بینائی نہیں ہے۔یہ پنڈت کنبے بہت غریب ہیں اور وہ وادی سے فرار نہیں ہوئے ہیں۔
یہاں کشمیری مسلمانوں اور پنڈتوں کے درمیان کافی گہرے مراسم ہیں اور مسلمان انہیں خود کی طرح دیکھ بھال کرتے ہیں۔پنڈت محلہ گائوں کے وسط میں واقع ہے۔ یہاں قائم کی گئی پولیس چوکی سے محض دو سو فٹ کی دوری پر زینہ پورہ پولیس سٹیشن ہے۔
اسکے ساتھ ہی پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کا کیمپ ہے۔ تھوڑا آگے چل کر سی آر پی ایف 118بٹالین کا کیمپ ہے اور اس سے تھوڑا آگے 3آر آر کا کیمپ موجود ہے۔ان کیمپوں کی دوری ایک دوسرے سے 100فٹ بھی نہیں ہوگی۔
اگر ہر ایک کیمپ سے پنڈت محلہ کی جانب  پیدل چل کر آئیں گے تو 5منٹ سے بھی کم وقت میں یہاں پہنچ سکتے ہیں۔اور اگر گاڑی میں آئیں گے تو دو منٹ میں پہنچ پائیں گے۔پنڈت محلہ اسپتال اور پولیس سٹیشن کے پیچھے بستی میں واقع ہے۔
مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پولیس یا سیکورٹی فورسز محض کچھ منٹ میں یہاں پہنچ سکتے تھے لیکن انہوں نے قریب آدھا گھنٹہ دیا۔اتنا ہی نہیں بلکہ زینہ پورہ سے مختلف علاقوں کی طرف نکلنے والے راستوں میں جو بھی قریب کے علاقے آتے ہیں وہاں سیکورٹی فورسز کے کیمپ موجود ہیں۔
زینہ پورہ سے بالکل قریب با پورہ میں سی آر پی ایف کا کیمپ ہے۔داچھو میں بھی کیمپ ہے۔اسکے بعد وچی میں بھی فورسز تعینات ہے۔

پولیس ترجمان نے واقعہ کی نسبت ایک تحریری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ زینہ پورہ شوپیان میںجنگجوئوں نے گارڈ پوسٹ پر مامورپولیس اہلکاروں پہ حملہ کرکے 4پولیس اہلکاروں کوجاںبحق کردیا ۔
پولیس ترجمان کے مطابق عسکریت پسندوں نے منگل بعد دوپہر زینہ پورہ شوپیاں میں گارڈ پوسٹ پر مامور پولیس اہلکاروں پہ اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار موقع پر ہی جاںبحق ہوئے جبکہ ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہواجس کو علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا،جہاں وہ بعد ازاں دم توڑ بیٹھا۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے آس پاس علاقوں کو محاصرے میں لے کر حملہ آئوروں کی تلاش شروع کی ہے
۔مہلوک پولیس اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل انیس احمد بیلٹ نمبر 480/SPN،ساکن کولگام ،سلیکشن گریڈ کانسٹیبل عبد المجید بیلٹ نمبر 193/SPNساکن شالہ بگ گاندر بل ،کانسٹیبل معراج الدین بیلٹ نمبر 477/SPNساکن اجس بانڈی پورہ اور کانسٹیبل حمید اللہ بیلٹ نمبر860/SPNساکن فتح پورہ اننت  ناگ کے بطور ہوئی ۔
 مہلوک پولیس اہلکاروں کی نعشیں ضلع پولیس لائنز شوپیان لائی گئیں ،جہاں اُن کے تابوتوں پر گلباری کی گئی اور تعزیتی تقریب میں خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔اس سلسلے میں ڈسٹرک پولیس لائنز شوپیان میں ایک تقریب کے دوران عبدالمجید گنائی، معراج الدین ڈار، انیس احمد میر اور حمید اللہ گنائی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
اس موقعہ پر اے ڈی جی پی منیر احمد خان، آئی جی کشمیر ایس پی پانی ، ڈی آئی جی امت کمار سمیت سیول اور پولیس افسران نے عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔
TOPPOPULARRECENT