Wednesday , December 12 2018

ساؤتھ زون پولیس ہیڈ کوارٹر میں بدنام زمانہ افراد کی آزادانہ آمد و رفت

پولیس عہدیدار پر اراضی معاملت میں مداخلت کا الزام ‘ ایک شخص عدالت سے رجوع ‘راتوں رات مکان کا بھی تخلیہ

حیدرآباد 9 جنوری (سیاست نیوز) پرانا شہر حیدرآباد میں خدمات انجام دینے کیلئے کہا جاتا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار پہلے اعتراض اور منع کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے ان عہدیداروں کا خیال بدل جاتا ہے۔ اعتراض خواہش اور انکار ‘منت کی شکل اختیار کرتا جاتا ہے۔ آخر پرانے شہر میں ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ ایسے اعتراض کا کئی اعلیٰ عہدیداروں نے سابق میں اعتراف بھی کیا ہے۔ لیکن ساؤتھ زون پولیس سربراہ کی بات ہی کچھ نرالی ہے۔ ان کی شہرت کے چرچے تو ہر گلی کوچے اور ہر گوشہ میں ہیں چونکہ ان کے کام کا انوکھا انداز ہے۔ شہر میں ان کی خدمات نئی نہیں ہیں بلکہ اس عہدے پر ان کی شہرت بہت زیادہ ہوگئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کے ہر اقدام کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصد ضرور رہتا ہے۔ پولیس کی نئی دوستانہ پالیسیوں سے شہر بھر میں حالات بدل چکے ہیں لیکن ساؤتھ زون میں حالات صرف خیالات اور تشہیر ہی میں بدلے ہیں جبکہ عملی میدان میں آج بھی کئی خامیاں پائی جاتی ہیں جس سے عوام پریشانی کا شکار ہیں۔ ساؤتھ زون میں پولیس کی جانب سے ملاوٹی اشیاء، بچہ مزدوری، چبوترا مشن، کارڈن سرچ تو شہر میں سب سے زیادہ پرانے شہر میں انجام دیا گیا ۔ اسکے علاوہ غنڈہ عناصر، غیر سماجی عناصر کے خلاف کارروائی ہو یا اقدامات وقتیہ اور برائے نام ہونے کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ خانگی فینانسروں اور سود خوروں کیلئے پرانے شہر میں سازگار ماحول پایا جاتا ہے۔ ایک وقت پولیس کی کارروائی کا شکار پولیس کے ہاتھوں بدنام زمانہ ہونے کی شناخت حاصل کرنے والے افراد پرانے شہر میں من مانی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے عناصر دعوت و تقریب میں شرکت کے مماثل آزادانہ انداز میں ساؤتھ پولیس ہیڈکوارٹر میں آتے جاتے ہیں۔ عام طور پر رات کے وقت پولیس اسٹیشن جانے سے شہری خوف کا شکار ہوتے ہیں لیکن ان دنوں خانگی فینانسرس اور سود خور پولیس کے ہیڈکوارٹر میں بڑی شان بان سے آتے ہیں اور ان کے لئے نہ ہی وقت مقرر ہے اور نہ ہی کوئی رکاوٹ ہے ۔ جبکہ آٹو فینانسرس سٹہ بازوں اور جوے کے ٹھکانے بھی چلائے جارہے ہیں۔ بس انکے خلاف کارروائی تو ہوتی ہے لیکن وہ مستقل بند نہیں ہوجاتے ہیں جس کی تازہ مثال حالیہ دنوں ایک شخص کی خودکشی ہے جس نے جوے اڈہ پر رقم ہارنے کے بعد خودکشی کرلی۔ جس کے 5 بچے بشمول تین لڑکیاں ہیں۔ بیٹے کی میت کو دیکھتے ہوئے ضعیف ماں چیخ رہی تھی کہ جوے کے اڈے نے اس کے گھر کو اُجاڑ دیا۔ ساؤتھ زون پولیس کی مستعدی اور سماجی بھلائی اقدامات کی قلعی کھولنے کیلئے یہ واقعہ کافی ہے جبکہ سابق میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ پرانے شہر میں پولیس کی کارروائی تعریف سے زیادہ تنقید کا سبب بن گئی ہے اور پولیس ساؤتھ زون کے سربراہ سب سے زیادہ ان تنقیدوں کا سامنا کررہے ہیں اور سیاسی اشاروں پر اقدامات اور کارروائی کے الزامات میں یہ گھرے ہوئے ہیں۔ چندرائن گٹہ علاقہ میں اراضی معاملہ میں ایک فرد پولیس سربراہ کی کارروائی کے خلاف عدالت سے رجوع ہوگیا۔ جبکہ چارمینار کے حدود میں راتوں رات ایک مکان کو خالی کروایا گیا۔ یہ سب کارروائیاں سخت ترین تنقیدوں اور الزامات کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ آٹو موبائیل فینانسروں کے ایک بڑا جال سے ساز باز اور ملی بھگت کے الزامات کا بھی پولیس سامنا کررہی ہے۔ حالیہ دنوں چھتری ناکہ حدود میں اراضی معاملہ اور ایک اراضی کے قبضہ کی نگرانی اور درمیانی فرد کا رول ادا کرنے کے الزامات سے بھی ساؤتھ زون سربراہ گھرے ہیں ۔ یہ تمام کارروائیاں سیاسی اشاروں پر ہونے کے الزامات بھی عائد کئے جا رہے ہیں۔ سیاسی اشاروں پر پولیس کی کارروائی صحت مند سماج بالخصوص پولیس کی دوستانہ پالیسی کے لئے مضر ثابت ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT