Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / سائبر آباد کے حدود میں مسلم تاجرین پولیس ہراسانی کا شکار

سائبر آباد کے حدود میں مسلم تاجرین پولیس ہراسانی کا شکار

حکومت تلنگانہ کے احکام کی خلاف ورزی ، پولیس کا متعصبانہ رویہ
حیدرآباد ۔10جون (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری کردہ 24گھنٹے کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت کے احکام شائد سائبرآباد پولیس تک نہیں پہنچ پائے ہیں ۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران شہر اور اضلاع میں تجارتی اداروں کو رات دیر گئے تک کھلا رکھنے کی اجازت دیئے جانے کی قدیم روایات پر عمل کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے بھی یہ اعلان کیا گیا کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران رات دیر گئے تک تجارتی ادارے کھلے رکھے جا سکتے ہیں لیکن شہر حیدرآباد سے متصل کمشنریٹ سائبرآباد کے حدود میں پولیس کی جانب سے رات کے اوقات میں ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کاروبار بند کروایا جا رہا ہے۔  سائبر آباد ‘ مادھا پور ‘ گچی باؤلی ‘ جوبلی ہلز جیسے علاقوں میں رات کے اوقات میں کاروباری اداروں با لخصوص ہوٹلوں کو بند کروایا جانا متعصبانہ رویہ کی دلیل ہے۔ان علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کو بند کروانے پہنچنے والے عہدیدار یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں 24گھنٹے تجارتی اداروں کو کھلا رکھنے دینے کے کوئی احکام وصول نہیں ہوئے ہیں۔ حکومت میں شامل وزراء کو چاہئے کہ وہ اس خصوص میں توجہ مرکوز کرے چونکہ پولیس کی جانب سے کی جانے والی ان کاروائیوں سے حکومت کی نیک نامی متاثر ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ تین یوم سے سائبرآباد کے حدود میں حلیم کی تجارت کر رہے تاجرین کو نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ پولیس کے اہلکار واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ علاقہ میں تجارت کرنے والے ایک تاجر نے استفسار کیا کہ آیا پولیس حکومت سے بڑھ کر ہے جو اپنے احکام نافذ کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے؟ حکومت کی جانب سے اجازت دیئے جانے کے باوجود پولیس کی کاروائیاں نا قابل فہم ہیں۔ ریاست میں رمضان المبارک کے دوران رونقوں میں اضافہ کیلئے عوام کی سہولت کیلئے رات دیر گئے تجارتی مراکز کو کھلا رکھنے کی اجازت کی فراہمی کے سلسلہ میں ہر حکومت کی جانب سے قبل از وقت احکام جاری کئے جاتے ہیں اور اس مرتبہ بھی ایسا ہی کیا جا چکا ہے لیکن سائبر آباد پولس کی جانب سے ان احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے کاروبار بند کروایا جانا حکومت کے احکامات کی توہین کے مترادف ہے اسی لئے تاجرین نے کمشنر سائبرآباد سے اپیل کی کہ وہ مذکورہ علاقوں میں تجارتی اداروں کو رات دیر گئے تک کھلا رکھنے کے احکامات سے اپنے ماتحتین کو واقف کروائیں تا کہ تاجرین اور عوام دونوں کو سہولتیں حاصل ہوسکیں۔ تاجرین نے بتایا کہ پرانے شہر کے طرز پر سائبر آباد کے علاقوں میں بھی حلیم کی خرید و فروخت کی سرگرمیاں تیز ہوتی جا رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT