Wednesday , October 17 2018
Home / Top Stories / سائبر خطرات سے نمٹنے ملکوں کے درمیان معلومات کی فراہمی ضروری

سائبر خطرات سے نمٹنے ملکوں کے درمیان معلومات کی فراہمی ضروری

NEW DELHI, NOV 23 (UNI):- Prime Minister Narendra Modi awarding the winners of cyber peace hackathon, at the inauguration ceremony of the 5th Global Conference on Cyber Space (GCCS2017), in New Delhi on Thursday. UNI PHOTO-80U

دہشت گردی اور تشدد پسندی میں ملوث افراد کے لیے ڈیجیٹل سہولتیں زبردست فائدہ مند، وزیراعظم نریندر مودی کا خطاب

نئی دہلی۔23 نومبر(سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج اس بات پر زور دیا کہ سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے ملکوں کے درمیان معلومات کی فراہمی ضروری ہے۔ دہشت گردی اور تشدد پسندی میں ملوث افراد کے لیے ڈیجیٹل سہولتیں زبردست فائدہ مند ثابت ہورہی ہیں۔ انہیں اس سے استفادہ سے روکنے کے لیے باہمی حکمت عملی پر غور کرنا چاہئے۔ رازداری اور قومی سلامتی کے درمیان ایک بہترین توازن کو برقرار رکھا جانا چاہئے۔ انٹرنیٹ تک کھلے طور پر آسانی سے رسائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سائبر حملوں جیسے اہم واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ہم کو سب سے بڑے توجہ طلب علاقوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے حملوں کو روکنے عصری طرز کے آلات کے ساتھ ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے انہیں ٹریننگ دینی چاہئے تاکہ وہ سائبر خطرات کا مقابلہ کرسکیں۔ سائبر اسپیس پر یہاں عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ انٹرنیٹ اب فطری طور پر ایک ضرورت بن گیا ہے لیکن اس تک کھلے طور پر آسانی سے رسائی نے اکثر سائبر حملوں جیسے واقعات کو آسان بنادیا ہے۔ ویب سائٹس کے ہیک کرنے اور انہیں خراب کرنے کی کہانیاں روزانہ سامنے آتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائبر حملے اب غیر معمولی خطرہ بنتا جارہا ہے۔ جمہوری دنیا میں یہ خطرات تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں۔ ہم کو ہمارے سماج کے اہم شعبوں کو ان خطرات کا شکار بننے نہیں دینا چاہئے۔ وزیراعظم نے خبردار کیا کہ ہم کو سائبر سکیوریٹی کے بارے میں چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سال مئی۔جون میں گلوبل سائبر حملے ہورہے ہیں۔ اس سے زائداز 3,00,000 کمپیوٹرس متاثر ہوئے ہیں۔ بینکوں اور ملٹی نیشنل فرمس میں کام بھی درہم برہم ہوجاتا ہے۔ بندرگاہی کام کاج کو بند کردینا پڑتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سائبر حملوں کو روکنے اور کمپیوٹر ہیک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ خرابیوں کو دور کیا جائے۔ سائبر شعبہ کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے قابل اور ماہرین کی خدمات حاصل کی جانی چاہئے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ان تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے طور پر ذمہ داری لیتے ہوئے ڈیجیٹل اسپیس کو دہشت گردوں اور تشدد پسندوں کے لیے ایک پلے گرائونڈ نہ بننے دیا جانا چاہئے۔ ان دنوں دہشت گرد تنظیمیں ڈیجیٹل سہولتوں سے استفادہ کرکے خطرات پیدا کررہے ہیں۔ سکیوریٹی ایجنسیوں کے درمیان معلومات کی فراہمی اور ٹیکنیکل تعاون کے بارے میں راز داری برتنی چاہئے۔ ہم رازداری اور کھلے پن کے درمیان ایک بہترین توازن پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم کو قومی سلامتی پر بھی توجہ دینا چاہئے۔ عالمی اور کھلے نظام کے درمیان فرق کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ مستقبل میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے طورپر کئی ممالک ابھرتے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں اہم سوالات شفافیت، رازداری اور بھروسہ کے علاوہ سلامتی کا مسئلہ ہے جس پر فوری طور پر توجہ دینی چاہئے۔ مودی نے کہا کہ ان کی حکومت نے بینک اکائونٹس موبائیل فونس اور بائیومیٹرک شناختی ڈیٹا نیز آدھار حاصل کیا ہے تاکہ سبسیڈی سے استفادہ کرنے والوں کی نشاندہی کی جاسکے۔ اب تک ہم نے 10 بلین امریکی ڈالر کی بچت کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT