Thursday , November 15 2018
Home / کھیل کی خبریں / سائنا نے سندھو کو ہراکر دوسرا سونے کا تمغہ جیتا

سائنا نے سندھو کو ہراکر دوسرا سونے کا تمغہ جیتا

گولڈ کوسٹ۔15اپریل(سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی شٹلر سائنا نہوال نے اہم مقابلے میں اولمپک میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والی پی وی سندھو کے خلاف ایک بار پھر اپنا دبدبہ ثابت کرتے ہوئے 21 ویں دولت مشترکہ کھیلوں کے آخری دن اتوار کو خواتین سنگلز بیڈمنٹن مقابلے میں سونے کا تمغہ اپنے نام کرلیا ۔ اسی کے ساتھ وہ ان کھیلوں میں سونے کے دو تمغے جیتنے والی پہلی ہندوستانی بیڈمنٹن کھلاڑی بھی بن گئی ہیں۔لیکن حال ہی میں عالمی نمبر ایک کھلاڑی بننے والے کدامبی شری کانت کو فائنل میں شکست کے بعد چاندی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔ سائنا نہوال کا ان کھیلوں میں یہ دوسرا تمغہ ہے ۔اس سے قبل انہوں نے مکسڈ ٹیم مقابلے میں سونے کا تمغہ بھی جیتا تھا۔ ساتھ ہی وہ گولڈ کوسٹ میں اپنے سبھی 12 میچوں میں غیر مفتوح بھی رہیں۔ سائنا کے نام 2010 کے دلی دولت مشترکہ کھیلوں کا سونے کا تمغہ بھی ہے ۔خاتون سنگلز کے ہائی وولٹیج سونے کے تمغے کے مقابلے میں ہندوستانی اولمپک تمغے یافتہ دونوں کھلاڑی سائنا اور سندھو آمنے سامنے تھیں اور تجربہ کار سائنا نے 56 منٹ تک چلے مقابلے میں 21-18، 23-21سے جیت اپنے نام کرتے ہوئے سونے کے تمغے پر قبضہ کر لیا جبکہ سندھو کے ہاتھ چاندی کا تمغہ آیا۔ دولت مشترکہ کھیلوں میں ایسا موقع پہلی بار تھا جب دونوں ہندوستانی کھلاڑیوں کے مابین خواتین سنگلز کے سونے کے تمغے کے لئے مقابلہ ہوا۔ سائنا اور سندھو فائنل کے سلسلے میں کافی پرجوش تھیں اور لندن اولمپک میں کانسے کا تمغہ فاتح نے میچ میں اچھا آغاز کرتے ہوئے اوپننگ گیم میں ہی 11۔6 کی برتری قائم کرلی۔ سائنا نے پہلے گیم میں مسلسل پانچ پوائنٹ لئے اور چھ گیم پوائنٹ حاصل کرتے ہوئے 22 منٹ میں پہلا گیم 21۔8 سے نپٹا دیا۔ٹخنے کی چوٹ کے باوجود ایک بھی گیم گنوائے بغیر فائنل تک پہنچیں سندھو، سونے کے تمغے کے مقابلے میں بھی گیم نہیں جیت سکیں اور کئی غلطیاں کرنے پر بالآخر دوسرا گیم 34 منٹ کی جدو جہد میں 21۔23 سے گنوا بیٹھیں اور انہیں چاندی کے تمغے پر ہی صبر کرنا پڑا۔سائنا نے سندھو کے خلاف تین مقابلوں میں دو بار جیت حاصل کی ہے اور انہوں نے گزشتہ برس قومی چمپئن شپ کے فائنل میں بھی سندھو کو شکست دی تھی۔ گزشتہ دو برسوں سے چوٹ سے متاثر سائنا نے 11 دنوں کے دوران 11 میچوں میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور کورٹ پر انہیں فٹنیس سے متعلق کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT