Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / سائنس فیر کو وسعت دینے کیلئے جامع منصوبہ

سائنس فیر کو وسعت دینے کیلئے جامع منصوبہ

حیدرآباد ۔ 17 جنوری (سیاست نیوز) حکومت اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ اقلیتی طلبہ کو اپنے مسائل کی یکسوئی کرنے اور مطالبات کومنوانے کیلئے منظم پیمانے پر سرکاری محکمہ جات سے رجوع کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں اے پی اقلیتی کمیشن امور کی انجام دہی کیلئے نہایت سنجیدہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب عابد رسول خان چیرمین اے پی مائناریٹیز کمیشن نے یہاں

حیدرآباد ۔ 17 جنوری (سیاست نیوز) حکومت اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ اقلیتی طلبہ کو اپنے مسائل کی یکسوئی کرنے اور مطالبات کومنوانے کیلئے منظم پیمانے پر سرکاری محکمہ جات سے رجوع کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں اے پی اقلیتی کمیشن امور کی انجام دہی کیلئے نہایت سنجیدہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب عابد رسول خان چیرمین اے پی مائناریٹیز کمیشن نے یہاں دفتر سیاست کے محبوب حسین جگر ہال میں منعقدہ سائنس فیر اکیڈیمی کے خصوصی اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ اسکول انتظامیہ لیباریٹیز لائبریریز اور دیگر سہولتیں حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے اقلیتی کمیشن کی جانب سے تمام تر سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ سائنس فیر کو فروغ دینے کیلئے اپنے بھرپور تعاون کا پیشکش کیا۔ ڈاکٹر قاضی سراج اظہر (امریکہ) جو ہندوستان میں سائنس فیر کو فروغ کیلئے سرگرم ہیں، نے کہاکہ پڑوسی ریاستوں تاملناڈو اور کرناٹک میں یہ کام نہایت عمدگی سے ہورہا ہے۔ حیدرآباد اور آندھراپردیش میں اس میں وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

ملت سے کہا کہ وہ ہر روز ملت کے کام کیلئے کم از کم دو گھنٹے وقت نکالیں۔ اسکول انتظامیہ اس کیلئے سرکاری مدد حاصل کریں اور اپنے اساتذہ کو تربیت دیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر معین انصاری (امریکہ) کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ میں سائنسی ترقی سے کافی متاثر ہیں۔ ہندوستان میں بھی سائنس کی ترقی کے کافی مواقع ہیں۔ مسلمانان ہند کو دیگر ابنائے وطن کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے ترقی حاصل کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر سمیع اللہ خان سکریٹری نے خیرمقدم کیا۔ ڈاکٹر سید غوث الدین کے پروگرام کے انعقاد کے اغراض و مقاصد بتائیں۔ کسی بھی قسم کے کام کرنے کیلئے خلوص نیت اہم ہے۔ زبانی باتوں کے بجائے عملی اقدامات پر زور دیا گیا۔ مختلف دانشوروں نے اس مقصدی پروگرام میں حصہ لیں۔

سائنس فیر اکیڈیمی کی وسعت دینے اور اس کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے جن اصحاب نے شرکت کرتے ہوئے گول میز کانفرنس میں مشورہ دیا ان میں نسرین فاطمہ (نیو روزی اسکول)، ایم اے قدیر نائب ایم ڈی ایف، پروفیسر ایم انور، ڈاکٹر عبدالرحمن (اشرف المدارس)، عبدالرحمن، جے وی وی عبداللطیف عطیر، احمد بشیر الدین فاروقی، ایم اے حمید، محمد عابد حسین، احمد صدیقی مکیش، عبدالحمید فیڈریشن آف پرائیویٹ اسکولس مینجمنٹ کے نمائندہ عظمی سلطانہ، اشرف المدارس اور نیو روزری اسکول کے اساتذہ نے حصہ لیا اور یہ بات طئے پائی کہ کام کو اجتماعی طور پر متحدہ مساعی کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر احسان لطیف اور عبدالرحمن نے سائنس فیر کی اہمیت بتائی۔ آخر میں مظفر علی ساجد نے شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کا آغاز قاری محمد عثمان متعلم نیو روزی اسکول کی قرأت سے ہوا۔

TOPPOPULARRECENT