Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سائنس قدرت کی عطا کردہ نعمت، تحقیق میں زیادہ وقت لگانے کا مشورہ

سائنس قدرت کی عطا کردہ نعمت، تحقیق میں زیادہ وقت لگانے کا مشورہ

ماؤنٹ مرسی اسکول میں نیشنل سائنس فیر، جناب عامر علی خان، ڈاکٹر معین انصاری اور محترمہ شاہدہ انصاری کا خطاب
حیدرآباد 14 نومبر (دکن نیوز) جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے طلباء پر زور دیا کہ وہ سائنسی علوم میں ڈوب جائیں اس لئے کہ یہ وہ علم ہے جس میں تحقیق جتنی کی جائے اتنا ہی معلومات بہم پہنچاتی رہتی ہے۔ طلباء کو چاہئے کہ وہ اس علم میں اپنی دلچسپی کو بڑھاتے ہوئے جہد مسلسل کریں۔ سائنس دراصل قدرت کی عطا کردہ نعمت ہے۔ اس میں تمام اُمور پر تحقیق کرتے ہوئے اس کو منظر عام پر لاکر انسانیت کے قابل بنانے کا کام کیا گیا ہے۔ سائنس نے آج ترقی کرتے ہوئے انٹرنیٹ کے زیراثر بہت سارے اُمور کو باہر لے آیا ہے جس سے کروڑوں لوگ مستفید ہورہے ہیں۔ وہ آج یہاں نیشنل سائنس فیر کے معائنہ کے بعد والدین، طلباء اور اساتذہ کے ایک بڑے سائنس فیر سے مخاطب تھے۔ جو ماؤنٹ مرسی ہائی اسکول برنداون کالونی ٹولی چوکی میں منعقد ہوا تھا۔ اس سائنس فیر میں ماؤنٹ مرسی ہائی اسکول کے طلباء کے علاوہ نیو روزی ہائی اسکول، اقبالیہ ہائی اسکول، فوکس ہائی اسکول، امام بخش میموریل ہائی اسکول، جینس گرامر ہائی اسکول، کریسنٹ ہائی اسکول، انسائیٹ انٹرنیشنل اسکول، الائنس انٹرنیشنل اسکول و دیگر اسکول کے طلباء و طالبات نے بڑی دلجوئی و محنت کے ساتھ اس سائنس فیر میں مختلف سائنسی ماڈلس رکھتے ہوئے عملی مظاہرہ بھی کیا۔ جناب عامر علی خان نے ایک طالب کے Under Water Fire and Fire in Hand کے مظاہرہ کو دیکھ کر دم بخود ہوگئے اور طلباء کو مبارکباد دی۔ جناب عامر علی خان نے کہاکہ قرآن نے 1400 برس قبل جو علم حضور ﷺ نے آسمان، زمین، بحر و بر اور دیگر کا دیا جس کو آج کی سائنس مان چکی ہے اور اس میں مزید تحقیق جاری ہے ۔ اُنھوں نے کہاکہ کرۂ ارض کے بیشتر مقامات پر جو بلند پہاڑ ہیں اس کو قرآن کی رو سے دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے یہ پہاڑ ہم اس لئے وجود میں لائے ہیں کہ زمین ہچکولے نہ کھائے۔ طلباء کو چاہئے کہ وہ اپنی عصری تعلیم کے سلسلہ کے ساتھ قرآن اور حضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کا مطالعہ کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ قدرت نے طلباء میں چھپی ہوئی صلاحیتیں پوشیدہ رکھی ہیں۔ شرط اس بات کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو اگر استاد منظر عام پر لاتے ہوئے انھیں تیار کریں تو ان کا مستقبل سنور جائے گا۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی مدد سے دنیا جو مٹھی میں آگئی اور سہولت پیدا ہوئی ہے یہ چیز گزشتہ 20 تا 25 سال قبل موجود نہ تھی۔ پروفیسر معین انصاری پالمیر یونیورسٹی (شکاگو) نے کہاکہ سائنس نے آج بے پناہ مقبولیت حاصل کی اس لئے کہ انھیں تحقیق کرنے والے افراد زیادہ سے زیادہ ملے ہیں۔ آج امریکہ و شکاگو کے اسکولس میں اس طرح کے سائنس فیر منعقد ہوتے ہیں اور وہاں بھی طلباء میں چھپی صلاحیت کو منظر عام پر لایا جاتا ہے۔ طلباء کو چاہئے کہ اپنے مستقبل کو مستحکم کرنے کے لئے اپنی بنیاد کو مضبوط بنائیں اس لئے دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتے ہوں یہ سائنس اُنھیں بہت ساری مدد دے گی۔ طلباء کی بنیاد جتنی پختہ ہوگی اُس کا مستقبل اتنا ہی تابناک و روشن ہوگا۔ محترمہ شاہدہ انصاری نے کہاکہ آج طلباء کو انگریزی کے ساتھ اردو ادب و اخلاق سے وابستہ ہونا پڑے گا۔ اللہ نے قدرت کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا اگر اس پر وہ غور کرے تو اللہ کی یاد تازہ ہوجائے گی۔ انھوں نے استاد کے ساتھ ادب و توقیر سے رہتے ہوئے طالب علم ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی کوشش کریں۔ اس سے ان کا نتیجہ بھی صد فیصد رہے گا۔ طلباء نے سائنس فیر میں حصہ لیا اور مختلف موضوعات پر جو Manoment پیش کئے۔ اُن میں رقمی انعام دیا گیا۔ یہ 8 ویں انٹر اسکول سائنس فیر نیشنل سائنس فیر اکیڈیمی کی جانب سے منعقد ہوئی۔ فاطمہ فاروقی نے خیرمقدم کیا ۔ سید عبدالمتکبر ڈائرکٹر ماؤنٹ مرسی اسکول نے سائنس فیر کا افتتاح انجام دیا۔ اس موقع پر مظفر علی ساجد، نسرین فاطمہ جنرل سکریٹری، عبدالرحمن، فضل الرحمن، کشور راؤ شاد، غفور النساء، ساریہ ثمرین، ایم اے حمید، ڈاکٹر سید غوث الدین نے اس فیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جناب عامر علی خان جہاں طلباء و طالبات نے اپنی محنت و تحقیق کرتے ہوئے اس سائنس فیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تو وہ بڑے متاثر نظر آنے لگے۔ محترمہ نسرین  فاطمہ نے رپورٹ پیش کی اور کارروائی چلائی۔ محترمہ فاروقی فاطمہ نے شکریہ ادا کیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT