Sunday , December 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / سائنس کا علم ، کیوں حاصل کرنا چاہئے؟

سائنس کا علم ، کیوں حاصل کرنا چاہئے؟

محمد غیاث الدین کورٹلوی
خداوند عالم نے تمام کائنات کو انسان ہی کے لئے پیدا کیا ہے۔ یہ وسیع و عریض آسمان، بلند و بالا پہاڑ، مختلف اقسام کے پیڑ پودے، مختلف اقسام کے جانور، ستارے، سیارے، غرض یہ تمام چیزیں حضرت انسان ہی کے لئے بنائی گئی ہیں۔ انسان ہی کے لئے سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے، سیارے گردش کرتے ہیں، دن اور رات تبدیل ہوتے ہیں، پھل اور پھول پیدا ہوتے ہیں، غرض کائنات کا ذرہ ذرہ حضرت انسان کی خدمت میں مشغول ہے۔ حضرت انسان کو مخدوم کائنات کا ہونے کا شرف بخشا گیا، اشرف المخلوقات کا تاج پہنایا گیا۔ آخر انسان کو یہ اعزازات کیوں نصیب ہوئے؟ وہ اس لئے کہ انسان کے پاس چند اہم انعامات خداوندی ہیں، مثلاً حواس خمسہ، عقل و شعور، ایمان و علم وغیرہ۔
اول الذکر ’’حواس خمسہ‘‘ ہے، جو انسان اور جانوروں میں مشترک ہے، کیونکہ جانوروں میں بھی یہ حواس موجود ہوتے ہیں، بلکہ بعض حواس انسانوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ثانی الذکر ’’عقل و شعور کی نعمت‘‘ ہے، یہ نعمت مؤمن و کافر دونوں میں یکساں ہے۔ ثالث الذکر ’’ایمان کی نعمت عظمٰی‘‘ ہے، یہ انعامات باری تعالیٰ میں سے عظیم الشان نعمت ہے۔ تمام دنیا کی نعمتیں مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں، کیونکہ اسی کی بنیاد پر کل آخرت میں جنت یا جہنم کیا فیصلہ ہوگا۔ اس نعمت میں تمام اہل اسلام مساوی ہیں۔ رابع الذکر ’’علم کی نعمت‘‘ ہے۔ اگر دولت ایمان کے ساتھ نعمت علم بھی حاصل ہو جائے تو نورٌ علی نور کے مصداق ہے، کیونکہ علم ہی کی بدولت ذات باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس نعمت کی بدولت مؤمن کا درجہ دوسرے مؤمنوں سے بڑھ جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’کیا علم والے اور جاہل برابر ہوسکتے ہیں؟‘‘ یعنی عالم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔فی زمانہ علم کو دو شاخوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، ایک خاص دینی علم، جس کی کئی شاخیں ہیں، جیسے حفظ قرآن، تفسیر قرآن، علم حدیث، علم ادب، علم فقہ، علم منطق وغیرہ۔ یہی درحقیقت علم نافع ہے، کیونکہ اسی سے احکام شریعت معلوم ہوتے ہیں۔ دوسری قسم میں ’’عصری علوم‘‘ ہیں، جنھیں بالفاظ دیگر علم سائنس کہا جاسکتا ہے۔ ہماری اس تحریر کا تعلق اسی علم، یعنی سائنسی علم سے ہے۔ ان دونوں علوم (یعنی دینی و سائنسی) کا حصول ضروری ہے، کیونکہ اگر دینی علوم حفاظت دین کا ذریعہ ہیں تو سائنسی علوم کو اشاعتِ دین کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔
کائنات کی حقیقتوں تک رسائی کا نام ’’سائنس‘‘ ہے، مخلوقات پر غور و فکر کا نام سائنس ہے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ مخلوقات پر غور کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ سورۂ آل عمران کے آخری رکوع میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بلاشبہ آسمانوں کے اور زمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں دلائل ہیں اہل عقل کے لئے، جن کی حالت یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوکر بھی، بیٹھے بھی، لیٹے بھی اور آسمان و زمین کے پیدا ہونے میں غور کرتے ہیں‘‘۔
(آل عمران۔۱۹۰)
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے: ’’کیا وہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے۔ اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح بلند کیا گیا ہے۔ اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ٹھہرایا گیا ہے۔ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح بچھائی گئی ہے‘‘۔ (سورۂ غاشیہ۔۱۷تا۲۰)

ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے: ’’یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں اور خود تمہاری ذات میں بھی اور کیا تم کو دکھائی نہیں دیتا‘‘۔
(سورۂ ذاریات۔۲۰،۲۱)
الغرض قرآن مجید میں کئی مقامات پر مخلوقات پر غور و فکر کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس غور و فکر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سمجھ میں آئے گی۔ کئی غیر مسلم سائنس دانوں نے قرآن مجید میں موجود سائنسی نظریات کی سچائی کو دیکھ کر اسلام قبول کرلیا۔ دورِ حاضر کے تعلیم یافتہ طبقہ کو اسلام کی دعوت دینے اور دین حنیف کی سچائی کو سمجھانے کے لئے علم سائنس کا حصول وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق میں گزشتہ صدیوں کے اکابر علماء، فقہاء اور سلف صالحین کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ ان حضرات نے ان تمام علوم کو حاصل کیا، جو اشاعتِ اسلام یا حفاظتِ اسلام کے لئے ضروری تھے۔ سب سے پہلے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر یہودیوں کی زبان کا علم حاصل کیا۔ دورِ صحابہ میں عقائد کے اندر عقلی مباحث کا ثبوت نہیں ملتا، بلکہ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اس کی مذمت منقول ہے، لیکن جب فلسفۂ یونان کا فتنہ اُٹھا اور اس نے اپنے فلسفہ کے زور پر عقائد اسلام میں عقلی شبہات پیدا کردیئے اور معتزلہ فرقہ وجود میں آیا، تو اس وقت کے اکابر علماء کرام و فقہائے عظام نے حالات کے پیش نظر نہ صرف علم فلسفہ کو سیکھا، بلکہ اس علم کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بناکر اسلام کی سچائی کو ثابت کیا۔ پھر ان حضرات کی کاوشوں اور جدوجہد کی وجہ سے اس عظیم فتنہ کا سدباب ہوا۔

اُس زمانے میں فلسفہ کا زور تھا، جب کہ دورِ حاضر میں سائنس کا زور ہے۔ موجودہ دور میں سائنس کے ذریعہ اسلامی عقائد اور قرآن و حدیث پر اعتراضات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوچکا ہے، حالانکہ قرآن مجید کی کوئی بات عقل یا سائنس کے خلاف نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسی بات پیش کی جاتی ہے تو اس میں قرآن مجید کا نہیں، بلکہ انسانی عقل، سمجھ اور تحقیق کا قصور ہے۔ لہذا دورِ حاضر میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اکابر علماء اور سلف صالحین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سائنسی علوم میں مہارت پیدا کرکے معترضین کو ان کے اعتراضات کا جواب دیا جائے۔ اس سے ہماری نئی نسل کے ایمان کو تقویت حاصل ہوگی اور وہ ہر طرح کی گمراہی سے محفوظ رہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT