Friday , September 21 2018
Home / ہندوستان / سائنس کی ترقی کیلئے مصارف میں اضافے کی ضرورت پر زور

سائنس کی ترقی کیلئے مصارف میں اضافے کی ضرورت پر زور

جموں ۔3 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم منموہن سنگھ نے سائنس کی ترقی و فروغ کیلئے مزید فنڈس کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے آج کہا کہ ملک میں سائنس اور ٹکنالوجی پر سالانہ مصارف مجموعی گھریلو پیداوار کا کم سے کم دو فیصد حصہ ہونا چاہئے ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ ’’ سائنس میں ترقی کے لئے کسی کو اُس پر خرچ بھی کرنا چاہئے ۔ ہمیں سائنس اور

جموں ۔3 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم منموہن سنگھ نے سائنس کی ترقی و فروغ کیلئے مزید فنڈس کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے آج کہا کہ ملک میں سائنس اور ٹکنالوجی پر سالانہ مصارف مجموعی گھریلو پیداوار کا کم سے کم دو فیصد حصہ ہونا چاہئے ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ ’’ سائنس میں ترقی کے لئے کسی کو اُس پر خرچ بھی کرنا چاہئے ۔ ہمیں سائنس اور ٹکنالوجی پر اپنی مجموعی گھریلو پیداوار کا کم سے کم 2 فیصد حصہ صرف کرنا چاہئے اور یہ حصہ حکومت و صنعت دونوں ہی شعبوں کی طرف سے موصول ہونا چاہئے ‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’جنوبی کوریا جیسے ممالک جہاں مجموعی گھریلو پیداوار کا بڑا حصہ سائنس کیلئے مختص کیا جاتا ہے جس میں صنعتی شعبہ بھاری حصہ ادا کرتا ہے ‘‘ ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ جموں میں آج 101 ویں انڈین سائنس کانگریس کے افتتاح کے بعد خطاب کررہے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان بھی اب نیوکلیر تحقیق کے ایک باوقار ادارہ میںمعاون رکن کی حیثیت سے شامل ہورہا ہے ۔ انھوں نے مزید کہاکہ ’’دنیا کے بڑے سائنسی ترقی و ترویج کے بڑے پراجکٹوں میں ہندوستان بھی بین الاقوامی سائنسی برادری کا ایک اہم ساجھے دار بن جائیگا ۔ قوت کشش کی لہر کے تجربہ کے ضمن میں ہندوستان تیسرا تفتیشی و شناختی تجربہ کرنا چاہتاہے ۔ تمل ناڈو میں 1450 کروڑ روپئے کے مصارف سے ایک رسد گاہ تعمیر کرنے کی تجویز ہے ‘‘ ۔ زمینی سائنس ، خلاء اور ایٹمی توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے ہندوستانی سائنسدانوں کی ستائش کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان نے ان شعبوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ’’ ہندوستانی نیوکلیر سائنسداں فاسٹ بریڈر ری ایکٹر کی ترقی کیلئے اپنی کوششوں میں اس وقت عالمی دلچسپی اور توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ کلپکم میں ایسے ری ایکٹر کی تعمیر کا کام اس سال مکمل ہوجائے گا ، جس کے ساتھ ہم بھی چند ممالک میں شامل ہوجائیں گے جنھیں دنیا کو آلودگی سے بچانے موثر نیوکلیئر ٹکنالوجی کے جدید طریقوں پر مکمل عبور و دسترس حاصل ہے

‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’چاند اور مریخ کے لئے ہمارے مشنس کا آغاز دراصل خلائی تحقیق میں لگائی جانے والی اہم جست کی ایک دلیل ہیں ، اب ہم میں یہ صلاحیت پیدا ہوچکی ہے کہ سونامی کی صورت میں ہم اندرون 13 منٹ الرٹ نوٹس جاری کرسکتے ہیں‘‘۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2004 ء کے دوران بحرہند میں سونامی کی تباہ کاریوں کے بعد وزارت زمینی سائینس کے قیام اور 2007 ء میں سونامی کے خطرات سے خبردار کرنے والے عالمی درجہ کے آلات کے استعمال کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ طبقات الارض اور موسمیات کے شعبوں میں بھی ہندوستان کی ترقی کا واضح ثبوت اڈیشہ میں طوفان کے دوران دیکھا گیا۔ جب ہمیں آنے والے طوفان کی تباہ کاریوں کے بارے میں انتہائی درست پیش قیاسی موصول ہوئی تھی جو معروف بین الاقوامی اداروں کی طرف سے کی گئی پیش قیاسیوں سے بھی کہیں زیادہ درست ثابت ہوئی ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ انڈین سائنس کانگریس جموں میں منعقد کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT