Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / سابقہ حکومتوں نے 5 سال میں جو خرچ کیا ،ہم نے ایک سال میں کردکھایا

سابقہ حکومتوں نے 5 سال میں جو خرچ کیا ،ہم نے ایک سال میں کردکھایا

اقلیتوں کی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات :محمد محمود علی۔ اقلیتی بہبود کی جائیدادوں میں اضافہ کیا گیا : ہریش راؤ ، طلبہ کا مستقبل خطرہ میں : محمد علی شبیر

حیدرآباد۔22ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت ریاست کے اقلیتوں کی ترقی کیلئے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے اور جتنی رقومات سابقہ حکومتیں 5سال میں خرچ کیا کرتی تھیں اتنی رقم موجودہ حکومت اندرون ایک سال خرچ کرچکی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں جناب محمد علی شبیر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل کی جانب سے اٹھائے گئے سوال پر جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ جناب محمد علی شبیر نے سابقہ حکومت کے حوالہ دیئے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جب ریاست میں تلنگانہ راشٹر سمیتی اقتدار پر ہے تو وہ کیا کر رہی ہے اس سے واقف کروایا جائے۔انہوں نے حکومت کی جانب سے بارہا سابق حکومت سے تقابل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کے متعلق استفسار کو سابق حکومت سے تقابل کرتے ہوئے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔مسٹر ٹی ہریش راؤ ریاستی وزیر آبپاشی نے وقفہ سوالات کے دوران جاری اس بحث میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے وقت تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود میں صرف 35جائیدادیں منظورہ تھیں اور چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقتدار حاصل کرتے ہی محکمہ اقلیتی بہبود کی جائیدادوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا اور اسے بڑھا کر 135کیا گیا جس میں 72جائیدادوں پر عہدیدار برسر خدمت ہیں مابقی جائیدادوں پر تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ بہت جلد تقررات کا اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ مسٹر ہریش راؤ نے مزید بتایا کہ حکومت ریاست کے اقلیتوں کی ترقی کے عہد کی پابند ہے  اور ریاست میں جاری اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر مؤثر عمل آوری کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کی جائیدادوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

جناب محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شادی مبارک اسکیم کے تحت دلہن کی والدہ کو رقومات کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے جو کہ درست نہیں ہے علاوہ ازیں حکومت تعلیمی وظائف اور فیس باز ادائیگی اسکیم کے لئے بجٹ جاری نہیں کر رہی ہے جس کے سبب طلبہ کا مستقبل خطرہ میں ہے۔ قائد اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ شادی مبارک اسکیم کی رقومات لڑکی کی والدہ کو جاری کرنے کے عمل سے دستبرداری اختیار کی جائے۔ جناب محمد محمود علی نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے کافی غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے سابق میں یہ رقومات دلہن کے کھاتہ میں ہی روانہ کی جاتی تھیں لیکن ان رقومات کے لئے ساس بہو کے تنازعات کے واقعات کے سبب حکومت نے لڑکی کی شادی پر خرچ کرنے والے والدین کے کھاتے میں یہ رقم جمع کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے جاریہ سال شادی مبارک اسکیم کے تحت 25ہزار 120درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں 15167درخواستیں زیر التواء ہیں۔ جناب محمد علی شبیر کی جانب سے استفسارکردہ درخواستوں کی عدم یکسوئی کی وجہ بتاتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اضلاع کی تقسیم کے سبب عملہ اور عہدیدار مصروف ہیں جس کی وجہ سے ان درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک اسکیم کا بجٹ ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس بجٹ کو گرین چیانل کے ذریعہ جاری کیا جائے گا۔ جناب محمد علی شبیر نے ریاستی اردو اکیڈیمی کی کارکردگی پر سوال کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اکیڈیمی کے تحت چلائے جانے والے لائبریری اور کمپیوٹر مراکز میں خدمات انجام دینے والوں کی تنخواہوں کی اجرائی میں تاخیر کی وجہ کیا ہے ؟ اور اردو اکیڈیمی کی تقسیم کا عمل کیوں تعطل کا شکار بنا ہوا ہے؟ ڈپٹی چیف منسٹر نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لائبریریز اور کمپیوٹر مراکز کی اسکیم کو اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کو تفویض کئے جانے کے سبب تنخواہوں کی اجرائی میں تاخیر ہو رہی ہے  اور اکیڈیمی شیڈول 10میں ہونے کے سبب تقسیم کے عمل کی تکمیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ جناب محمد محمود علی نے بتایا کہ جاریہ مالی سال کے دوران حکومت محکمہ اقلیتی بہبود کا 80تا90فیصد بجٹ خرچ کرنے کا نشانہ رکھے ہوئے ہے اور اس بجٹ کو خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں تلنگانہ ریاست اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے اسکیمات اور بجٹ کے معاملہ میں دیگر ریاستوں کے لئے مثال بن چکی ہے ۔          (سلسلہ صفحہ 8پر)

TOPPOPULARRECENT