Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / سابق بوسنیائی سرب لیڈر کراڈزک جنگی جرائم کا مرتکب : 40 سال قید کی سزا

سابق بوسنیائی سرب لیڈر کراڈزک جنگی جرائم کا مرتکب : 40 سال قید کی سزا

Ex-Bosnian Serb leader Radovan Karadzic sits in the court of the International Criminal Tribunal for former Yugoslavia (ICTY) in the Hague, the Netherlands March 24, 2016. REUTERS/Robin van Lonkhuijsen/Pool

بوسنیا کی جنگ کے دوران بدترین مظالم ڈھانے کا شاخسانہ ۔ اقوام متحدہ کی جنگی جرائم ٹریبونل کا فیصلہ ۔ دیگر ملزمین کے خلاف سماعت جاری
ہیگ 24 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بوسنیا کے سابق سرب لیڈر راڈوان کراڈزک کو آج اقوام متحدہ کی ایک عدالت نے نسلی صفایا اور دیگر 9 الزامات کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 40 سال قید کی سزا سنائی ہے ۔ یوگوسلاویہ کے جنگی جرائم سے متعلق ٹریبونل نے کراڈزک کو سرب مظالم کو یقینی بنانے کے اقدامات کا مرتکب قرار دیا ہے ۔ یہ جرائم 1992-95 کی بوسنیا کی جنگ کے دوران کئے گئے تھے ۔ اس جنگ میں ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ اقوام متحدہ کی عدالت نے کراڈزک کو 1995 میں سربرینکا قتل عام کے ذریعہ نسلی صفایا کا مرتکب قرار دیا ہے جس میں تقریبا 8 ہزار مسلمان افراد اور بچوں کو قتل کردیا گیا تھا ۔ کراڈزک پر قتل ‘ عام شہریوں پر حملے اور دہشت پھیلانے کے الزامات بھی ثابت ہوئے ہیں۔ اس جنگی مجرم نے 44 مہینوں تک بوسنیائی دارالحکومت پر قبضہ کے دوران یہ مظالم ڈھائے تھے جب بوسنیا کی جنگ چل رہی تھی ۔ تاہم عدالت نے کراڈزک کو نسلی صفائے کے دوسرے الزام میں مجرم قرار نہیں دیا ۔ یہ واقعہ بوسنیائی مسلمانوں اور کروشیائی باشندوں کو سرب فورسیس کے کنٹرول والے گاوں سے نکال باہر کرنے کیلئے کیا گیا تھا ۔ کراڈزک پر جملہ گیارہ الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جن میں زیادہ سے زیادہ سزائے عمرقیدہوسکتی تھی

تاہم اسے 40 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔ کراڈزک اس سزا کے خلاف اپیل بھی کرسکتا ہے ۔ استغاثہ نے کراڈزک پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بحیثیت ایک سیاسی لیڈر و کمانڈر ان چیف سرب افواج اس قتل عام کا ذمہ دار تھا ۔ کراڈزک بوسنیا میں سرب افواج کا کمانڈر ان چیف تھا ۔ اس دور میں انتہائی بدترین مظالم ڈھائے گئے اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ۔ 70 سالہ کراڈزک کا اصرار تھا کہ وہ بے گناہ ہے اور اس کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران اس نے جو کچھ بھی کیا وہ سربیائی باشندوں کے تحفظ کیلئے تھا ۔ اقوام متحدہ ٹریبونل اور بین الاقوامی قوانین کو بہتر بنانے کے معاملہ میں اس مقدمہ کو کافی اہمیت حاصل تھی ۔ کراڈزک انتہائی سینئر بوسنیائی سرب قائدین میں شامل ہے جسے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ کراڈزک کو سزا دئے جانے سے فوج کی جانب سے ان کے دور اقتدار میں کئے جانے والے فوجداری جرائم کی سیاسی قائدین کو سزا دلانے میں کراڈزک کو دی جانے والی سزا انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ سربیا کا صدر سلوبودان میلوسیوچ 2006 میں ہیگ میں اپنی جیل کے تہہ خانہ میں مرگیا تھا جبکہ اس کے خلاف ابھی مقدمہ کی یکسوئی نہیں ہوئی تھی ۔ کراڈزک کا مقدمہ یوگوسلاویہ جنگی جرائم ٹریبونل میں جاری مقدمات کے اختتام کا حصہ رہا ہے ۔ یہ عدالت 1993 میں قائم کی گئی تھی اور اس کے ذریعہ 161 مشتبہ افراد کو ماخوذ کیا گیا تھا ۔ ان میں اب تک 80 افراد کو خاطی قرار دیتے ہوئے سزائیں سنائی گئی ہیں جبکہ 18 کو بری کردیا گیا 13 کے خلاف مقدمات کو مقامی عدالتوں کو سونپ دیا گیا ہے اور 36 خاطی یا تو مرچکے ہیں یا انکے خلاف مقدمات بند کردئے گئے ہیں۔ اس مقدمہ میں کراڈزک کو سزا ملنے کے بعد مزید تین مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ جاری ہے ان میں کراڈزک کا فوجی سربراہ جنرل راٹلو ملاڈک اور سر الٹرا نیشنلسٹ وجیسلاؤ سیسیلی بھی شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT