Sunday , November 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / سابق رکن اسمبلی جئے پرکاش ریڈی اور حامی گرفتار

سابق رکن اسمبلی جئے پرکاش ریڈی اور حامی گرفتار

سنگاریڈی میں میڈیکل کالج کے قیام کیلئے غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال سے قبل پولیس کارروائی
سنگاریڈی۔ 17 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سابق رکن اسمبلی سنگاریڈی و ترجمان تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ٹی جئے پرکاش ریڈی کو ان کے سینکڑوں حامیوں کے ہمراہ آج دوپہر سنگاریڈی ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے قریب پولیس نے حراست میں لے لیا۔ جئے پرکاش ریڈی عرف جگاریڈی سنگاریڈی میں میڈیکل کالج کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے آج سے جدید کلکٹریٹ کے روبرو غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال منظم کرنے والے تھے اور وہ اپنے مکان واقع نزد رام مندر قدیم بس اسٹانڈ سنگاریڈی سے سینکڑوں حامیوں کے ہمراہ احتجاجی ریالی کے ساتھ روانہ ہوئے تاہم پولیس نے ریالی کو ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے قریب ہی روک دیا۔ ڈی ایس پی سنگاریڈی ترپت انا کی قیادت میں پولیس حراست میں لیتے وقت کانگریسی کارکنوں نے کافی مزاحمت کی اور حکومت کے خلاف نعرے بلند کئے۔ پولیس نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام احتجاجیوں کو حراست میں لے لیا۔ جئے پرکاش ریڈی کو پلکل پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا جبکہ کانگریس قائدین و کارکنوں کو سنگاریڈی رورل پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ جئے پرکاش ریڈی سابق رکن اسمبلی سنگاریڈی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں آمرانہ راج ہے۔ عوامی مسائل پر آواز بلند کرنے کے جمہوری و دستوری حق کو سلب کیا جارہا ہے۔ عوامی مسائل کی یکسوئی اور حق دلانے کا مطالبہ کرنے پر پولیس کے ذریعہ گرفتار کروایا جارہا ہے لیکن وہ حکومت کی ان کارروائیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ عوامی مسائل کی یکسوئی اور سنگاریڈی کی ترقی کیلئے وہ ہزار مرتبہ بھی گرفتار ہونے تیار ہیں۔ حلقہ اسمبلی سنگاریڈی کی ترقی کیلئے وہ خود کو وقف کرچکے ہیں اور ہر طرح کی قربانی دینے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور اقتدار میں ان کی نمائندگی پر کانگریس حکومت نے سنگاریڈی میں میڈیکل کالج کے قیام کی منظوری دی لیکن ٹی آر ایس حکومت سنگاریڈی کیلئے منظور کردہ میڈیکل کالج کو اپنے اقتدار کی طاقت کے بل بوتے پر زبردستی اس کالج کو سدی پیٹ منتقل کردیا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سنگاریڈی کیلئے منظور کردہ میڈیکل کالج جوں کا توں سنگاریڈی میں ہی برقرار رکھا جائے جبکہ سدی پیٹ کیلئے مزید ایک نیا علیحدہ میڈیکل کالج منظور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران سنگاریڈی کی کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ کانگریس کے دور میں سنگاریڈی میں آئی آئی ٹی اور سلطان پور، جوگی پیٹ میں جے این ٹی یو کو جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کئے گئے۔ سنگاریڈی سرکاری میڈیکل کالج بھی منظور کیا گیا۔ تلنگانہ حکومت کے دور میں سنگاریڈی کے کونسے بڑے اقدامات کئے گئے۔ حکومت کو واضح کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل پر اپنی جدوجہد کو بلاخوف و خطر جاری رکھیں گے اور سنگاریڈی کی ترقی کے مسئلہ کو عوامی عدالت میں مسلسل پیش کرتے رہیں گے۔ عظمی شاکر جنرل سیکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی، نرملا جئے پرکاش ریڈی صدر ضلع مہیلا کانگریس، توپاجی زینت کشن، شیخ صابر صدر ضلع اقلیتی سیل کانگریس، معراج خاں ہاشمی، مرزا امیر بیگ، غلام محی الدین بابا، محمد قطب الدین، محمد اظہرالدین، رام کرشناریڈی، ایم اے ظفر، شنکر گوڑ، کے سنتوش، کرن، انجنیلو، محمد عابد، محمد احمد، راما گوڑ سابق چیرمین بلدیہ سداسیوپیٹ، پون کمار صدر یوتھ کانگریس سداسیوپیٹ، محمد خلیل سابق رکن بلدیہ سداسیوپیٹ اور دیگر قائدین و کارکنان موجود تھے۔ پولیس ذرائع کے بموجب غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال اور احتجاجی ریالی کیلئے پولیس کی اجازت نہیں تھی چنانچہ احتجاجیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT