Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / سابق رکن اسمبلی سامیا ٹی آر ایس سے نالاں ، کانگریس میں شمولیت کی تیاری

سابق رکن اسمبلی سامیا ٹی آر ایس سے نالاں ، کانگریس میں شمولیت کی تیاری

انتخابات کے پیش نظر ٹی آر ایس میں گروپ بندیاں اور اختلافات منظر عام پر
حیدرآباد ۔ 11 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی کے سامیا حکمران ٹی آر ایس سے سخت ناراض ہیں ۔ کانگریس کی بس یاترا کے دوران کانگریس پارٹی میں اپنی شریک حیات اور حامیوں کے ساتھ شامل ہونے کی تیاریاں کررہے ہیں جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں ویسے ویسے حکمران ٹی آر ایس میں اختلافات اور گروپ بندیاں منظر عام پر آرہے ہیں ۔ ٹی آر ایس کے بشمول تلگو دیشم کے بھی کئی قائدین کانگریس سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ اسمبلی حلقہ سرپور کی نمائندگی کرنے والے ٹی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی اور ان کی شریک حیات سابق میونسپل چیرپرسن سائی لیلا ٹی آر ایس میں انہیں نظر انداز کرنے پر پارٹی قیادت سے سخت ناراض ہیں ۔ 13 مئی سے ضلع عادل آباد میں کانگریس کی بس یاترا شروع ہونے والی ہے ۔ بس یاترا کے دوران وہ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اور دوسرے کانگریس قائدین کی موجودگی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرلیں گے ۔ متحدہ ضلع عادل آباد کے کانگریس صدر اے مہیشور ریڈی اور منچریال کے سابق رکن اسمبلی جی اروند ریڈی نے کے سامیا سے تبادلہ خیال کیا ہے اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کرانے اور آئندہ انتخابات 2019 میں اسمبلی حلقہ سرپور سے کانگریس کا ٹکٹ دینے کا تیقن دینے کا بھی علم ہوا ہے ۔ انہوں نے ایک دو دن میں اپنے حامیوں سے مشاورت کرنے کے بعد قطعی فیصلہ کرنے کا اتم کمار ریڈی سے وعدہ کیا ہے ۔ کانگریس پارٹی سے سیاسی زندگی کا آغاز کرنے والے کے سامیا نے سال 2001 کے دوران اپنی شریک حیات کے سائی لیلا کو کاغذ نگر میونسپل چیرپرسن کی حیثیت سے کامیاب بنالیا تھا ۔ 2007 میں وہ ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ۔ 2009 میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اس کے بعد منعقدہ دو ضمنی انتخابات میں بھی وہ کامیاب ہوئے ۔ 2014 کے انتخابات میں شکست سے دوچار ہوگئے ۔ بی ایس پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے کونیرکونپا فوری ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے تب سے کے سامیا کی ٹی آر ایس میں اہمیت گھٹ گئی ۔ چار سال تک انہیں کوئی نامزد عہدہ بھی نہیں دیا گیا جس سے وہ حکمران ٹی آر ایس سے ناراض ہیں اور وہ کانگریس میں گھر واپسی کی تیاریاں کررہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT