Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / سابق فوجیوں کی شکایات کی یکسوئی کیلئے حکومت کا سنجیدہ رویہ

سابق فوجیوں کی شکایات کی یکسوئی کیلئے حکومت کا سنجیدہ رویہ

بعض عناصر حکومت کا منفی امیج اُبھارنے کی کوششوں میں مصروف : مملکتی وزیر دفاع

نئی دہلی ۔ 14 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) مملکتی وزیر دفاع سبھاش بھامرے نے آج یہاں کہا کہ مرکزی حکومت بشمول او آر او پی ، سابق فوجیوں کے تمام مسائل سے واقف ہے لیکن چند عناصر حکومت کا منفی امیج اُجاگر کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ بھامرے نے پہلے یوم سینئر مسلح افواج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے وزیراعظم اور وزیر دفاع آپ (سابق فوجیوں) کے تمام مسائل سے باخبر ہیں ۔ ہم آپ کی تمام شکایات کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن بدقسمتی سے چند عناصر دفاعی اُمور پر غلط بیانات دے رہے ہیں اور مفروضے پیدا کررہے ہیں جو درست نہیں ہیں‘‘ ۔ اس تقریب میں مملکتی وزیر کے ساتھ فوج کے سربراہ بپن راؤت بھی موجود تھے ۔ بھامرے نے ایک عہدہ ایک وظیفہ ( او آر او پی ) پر کوئی کارروائی نہ کرنے کیلئے سابق حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہاکہ وزیراعظم نے اس مسلہ پر اپنے وعدہ کی تکمیل کی ہے جو گزشتہ 40 سال سے زیرتصفیہ تھا ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے او آر او پی کے لئے 3 فبروری 2016 ء کو احکام جاری کئے ۔ مختلف عہدوں اور زمروں کے نظرثانی شدہ وظیفہ کی تفصیلات احکام کی عمل آوری کے 101 مختلف تختہ جات پر دستیاب ہیں۔ انھوں نے کہاکہ او آ ر او پی کے 20,71,103 استفادہ کنندگان کے منجملہ 20,06,003 کو پہلی قسط اور علی الحساب رقم ادا کی گئی ۔ اس ضمن میں 4,115.65 کروڑ روپئے ادا کئے گئے ۔ 15,46,857 کیسیس میں دوسری قسط کے طورپر 2,281.63 کروڑ روپئے ادا کئے گئے ۔ 8 ڈسمبر 2016 ء تک 6,397.28 روپئے ادا کئے گئے ۔

بھامرے نے کہا کہ ’’مالی مسائل کے باوجود سالانہ 7000 روپئے کے مصارف کے ساتھ اس ضمن میں 10,000/- کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ چنانچہ وزیراعظم نے اپنا وعدہ پورا کیا‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ ’’اس مختصر وقت کے دوران زیادہ سے زیادہ مسائل حل کئے گئے ۔ ہم نے ہر ایک سابق فوجی تک پہونچنے کی کوشش کی۔ 1962 ء کے ہند۔ چین جنگ اور 1971 ء کی ہند۔ پاک جنگ کے ضمن میں تقریباً 20,000 تا 30,000 فیملی پنشن کیسیس زیرتصفیہ ہیں۔ اگرچہ ہمارے پاس ان کی تمام تفصیلات نہیں ہیں جس کے باوجود ہم ان تک رسائی کی کوشش کررہے ہیں‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے پنشن عدالتوں کے علاوہ 100، ’پنشن ریلیاں‘ منظم کی گئیں۔ ایک خاتون کو 40 لاکھ روپئے ادا کئے گئے ۔ چند دوسروں نے بھی اس مساعی کے تحت بقیہ جات وصول کئے ۔ اس بات پر کہ یوم مسلح افواج منانے کیلئے 14 جنوری کا انتخاب کیوں کیا گیا ۔ ایک سینئر فوجی عہدیدار نے کہاکہ 1953 ء میں اسی روز ہندوستانی فوج کے پہلے ہندوستانی کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل کے ایم کری اپا وظیفہ پر سبکدوش ہوئے تھے ۔ بھامرے نے کہاکہ یہ دن اس سال سے فوج کے تینوں شعبوں کے سبکدوش سینئرس کیلئے ہر سال یوم مسلح افواج کے طورپر منایا جا

TOPPOPULARRECENT