Saturday , December 16 2017
Home / دنیا / سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے ہند۔چین تعلقات بحال کئے : سابق چینی سفارتکار

سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے ہند۔چین تعلقات بحال کئے : سابق چینی سفارتکار

بیجنگ ۔ 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیراعظم ہند آنجہانی راجیو گاندھی نے 1988ء میں جس وقت چین کا دورہ کیا تھا تو اس دورہ کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی تھی کہ چین اور ہندوستان کے کشیدہ تعلقات پر جمی ہوئی برف کو پگھلانے میں انہوں نے اہم رول ادا کیا تھا۔ چین کے ایک سابق سفارتکار کے مطابق راجیو گاندھی کے دورہ کے بعد ہی ہندوستان اور چین کے تعلقات ایک بار پھر نہ صرف معمول پر آگئے تھے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور ترقی میں مزید استحکام بھی پیدا ہوا۔ ژینگ ژیانگ جنہوں نے نئی دہلی میں واقع چینی سفارتخانے میں بطور کونسلر اپنے فرائض انجام دیئے تھے، نے اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا ہیکہ راجیو گاندھی اور ہندوستان میں موجود چینی سفیر لی لیانگنگ کی جس وقت 1987ء میں ملاقات ہوئی تھی، اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دورخی تعلقات کوئی خاص خوشگوار نہیں تھے۔ راجیو گاندھی عرصہ دراز یعنی 34 سالوں کے بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیراعظم تھے۔ اس وقت راجیو گاندھی کو نئی نسل کا قائد کہا جاتا تھا اور اپنی سحرانگیز شخصیت سے انہوں نے اپنے کئی مداح بنا لئے تھے۔ لہٰذا چین کے دورہ کے دوران بھی انہوں نے کئی معاشی اصلاحات کو متعارف کروایا لیکن یہ بات بھی محسوس کرلی کہ ان کے جو مقاصد ہیں ان کی راہ میں حالات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ژینگ نے اپنی مضمون میں تحریر کیا ہیکہ راجیو گاندھی کے دورہ کا چین نے کس طرح احاطہ کیا ہے اور وہ کیا حالات تھے جن کے تحت راجیو گاندھی چین کا دورہ کرنے پر آمادہ ہوئے۔ انہوں نے اس وقت کے اعلیٰ سطحی چینی قائدین بشمول ڈینگ ژیاؤپنگ سے بھی خفیہ ملاقاتیں کیں۔ مذکورہ مضمون دراصل ’’اسٹوریز آف چائنا اینڈ انڈیا‘‘ نامی ایک ناول کا باب ہے۔ اس باب کو 18 اکٹوبر کو حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPI) کے منعقد شدنی اجلاس سے قبل میڈیا میں گشت کروایا گیا ہے جہاں توقع ہیکہ صدر چین ژی جن پنگ پانچ سال کی دوسری میعاد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر یہی بات دہرائی کہ مجموعی طور پر راجیو گاندھی کا دورہ چین دراصل ’’برف پگھلانے‘‘ والا دورہ تھا جس کی وجہ سے ہندوستان اور چین کے درمیان خوشگوار تعلقات بحال ہوئے تھے۔ کتاب کے بارے میں یہ کہا جارہا ہیکہ یہ دراصل ان چینی سفارتکاروں کے گزرے ہوئے دور کی یاد تازہ کرتی ہے جنہوں نے ہندوستان میں اپنی خدمات انجام دیں۔ ہندوستان کے علاوہ پاکستان اور نیپال دو ایسے ممالک ہیں جن کے بارے میں سابق چینی سفارتکاروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستان کے پاکستان کے ساتھ کئی سالوں تک ناخوشگوار تعلقات رہے (جو اتفاق سے اب بھی ہیں) 1987ء میں ہندوستان سری لنکا میں ہوئی خانہ جنگی میں بھی ملوث پایا گیا جبکہ چین کے ساتھ سرحدی سیکوریٹی پر ہوئی بات چیت کے کوئی ٹھوس اور فیصلہ کن نتائج سامنے نہیں آئے۔ ژینگ نے کہا کہ ہندوستان اور چینی فوجیوں کے درمیان ’’سردجنگ‘‘ والا رویہ 1986 میں سومودروگونچو میں طویل ترین رہا جیسا کہ آج ڈوکلام میں دیکھنے میں آیا جہاں اروناچل پردیش میں ہندوستان نے اپنی سرحد کو مختص کرتے ہوئے چینی فوج کے ساتھ ٹکراؤ کا ماحول پیدا کیا۔ اس طرح جب دونوں ممالک میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہوگی تو دورخی تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس وقت راجیو گاندھی نے خود کو بے چین پایا اور سوچا کہ اگر حالات یوں ہی جاری رہے تو اپوزیشن پارٹیوں کے پاس ان کے خلاف ایک اچھا موقع ہاتھ آجائے گا اور آئندہ عام انتخابات میں وہ اس موقع کا خوب فائدہ اٹھا سکتے ہیں جس سے خود راجیو گاندھی کے اقتدار کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ مسٹر ژینگ کے مطابق اسی بے چینی نے انہوں نے اپنی چینی پالیسی پر نظرثانی کرنے کا ذہن بنا لیا اور اس وقت کے چینی سفیر لی لیانگنگ کے ساتھ خانگی ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی کیونکہ انہیں قوی امید تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بحال ہوجائیں گے۔ اپنے مضمون میں مسٹر ژینگ نے راجیو گاندھی کی اس وقت کے چینی وزیراعظم لی پینگ سے ملاقات اور بات چیت کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ تبتی علحدگی پسندوں کو ہندوستان میں چینن مخالف سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت نہیں تھی جس پر ہندوستان نے اس وقت چینی پالیسیوں کی زبردست ستائش کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT