Saturday , January 20 2018
Home / سیاسیات / سابق وزیراعظم سے جج کے متنازعہ تقرر پر جواب طلبی

سابق وزیراعظم سے جج کے متنازعہ تقرر پر جواب طلبی

نئی دہلی۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی قائد نے آج کہا کہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کو تین سابق چیف جسٹیسس آف انڈیا کو ’’نامناسب سمجھوتے‘‘ کرنے کی جواب دہی کرنی چاہئے۔ یو پی اے دور حکومت میں اس نوعیت کے سمجھوتوں کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے بی جے پی کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے کہا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگری

نئی دہلی۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی قائد نے آج کہا کہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کو تین سابق چیف جسٹیسس آف انڈیا کو ’’نامناسب سمجھوتے‘‘ کرنے کی جواب دہی کرنی چاہئے۔ یو پی اے دور حکومت میں اس نوعیت کے سمجھوتوں کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے بی جے پی کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے کہا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کو آگے آنا چاہئے اور مختلف دستوری اداروں کی الزام تراشی پر جواب دہی کرنی چاہئے جن میں عدلیہ بھی شامل ہیں۔ سیاسی وجوہات کی بناء پر اختیارات کا استحصال کیا گیا تھا۔ یہ انتہائی بدبختانہ اور فکرمندی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور کرپشن ’’ہم معنی الفاظ‘‘ ہیں اور عدالتی تقررات میں یو پی اے کی جگلری (بازیگری) دستوری اداروں کے کانگریس کی جانب سے استحصال کی ایک اور مثال ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے جو فی الحال پریس کونسل آف انڈیا کے صدرنشین ہیں، کل ایک تنازعہ پیدا کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ہندوستان کے تین سابق چیف جسٹسوں نے یو پی اے دور اقتدار میں نامناسب سمجھوتہ کرتے ہوئے ٹاملناڈو کے ایک جج کو جن پر بدعنوانی کے الزامات تھے، توسیع دے دی تھی۔ بی جے پی ارکان پارلیمنٹ کا ایک اجلاس قبل ازیں ایوان پارلیمنٹ کے مرکزی ہال وزیراعظم کی زیرقیادت منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں بھی ہندوستان کے اندیشوں سے حال ہی میں اختتام پذیر برازیل کی برکس چوٹی کانفرنس میں رکن ممالک کو واقف کروانے کی ستائش کی گئی۔ پارٹی قائدین نے ہندوستان کی زیرقیادت برکس بینک کے قیام پر بھی وزیراعظم کی ستائش کی۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے وزیر خارجہ سشما سوراج کے کل راجیہ سبھا میں غزہ کی صورتِ حال پر دیئے ہوئے بیان کی ستائش کی۔ پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ایک ہفتہ طویل تربیتی کیمپ بی جے پی ارکان پارلیمنٹ کے پرسنل اَسسٹنٹس کیلئے رام بھاؤ پربھودنی ممبئی میں منعقد کیا جائے۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ وزیراعظم نے پارٹی ارکان پارلیمنٹ کی موثر انداز میں مسائل اٹھانے اور ان کی یکسوئی کرنے پر ستائش کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ارکان نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مسائل موثر انداز میں اٹھائے اور ان کی یکسوئی کی ہے، حالانکہ اپوزیشن کا رویہ اور کردار تباہ کن اور کانگریس کا کردار منفی تھا۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے خواہش کی کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بلس پر مباحث میں شرکت کریں۔

TOPPOPULARRECENT