Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / سابق وزیر اقلیتی اُمور کے رحمن خان کے ہاتھوں دیانتدار آفیسر کی توہین

سابق وزیر اقلیتی اُمور کے رحمن خان کے ہاتھوں دیانتدار آفیسر کی توہین

…… رسّی جل گئی مگر بَل نہیں گئے ……

…… رسّی جل گئی مگر بَل نہیں گئے ……

نئی دہلی۔/23مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) جب اقتدار ہاتھ سے جانے والا ہو تو اعلیٰ سے اعلیٰ عہدیدار اور وزراء بھی چڑ چڑے پن کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اب ہمارا دور ختم ہورہا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ سابق وزیر اقلیتی اُمور کے رحمان خان کا بھی ہے جنہوں نے جاتے جاتے کوئی خوشگوار اثرات نہیں چھوڑے۔ جاریہ سال کے اوائل میں یہ خبر تقریباً ہر اخبار کی زینت بن چکی تھی کہ سینئر آئی پی ایس آفیسر محمد وزیر انصاری کو ترقی دے کر چھتیس گڑھ کے ڈی جی پی کا عہدہ تفویض کیا گیا ہے۔

اس وقت یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ انصاری کو ڈی جی پی کا عہدہ ملنے کے بعد وہ مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن(MAEF)کے سکریٹری کی حیثیت سے دستبردار ہوجائیں گے لیکن انہوں نے دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے MAEF سے اپنی وابستگی ختم نہیں کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے مئی کا مہینہ آگیا اور عام انتخابات کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں اور نتیجہ کانگریس کے لئے ہلاکت انگیز ثابت ہوا جہاں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنا بوریا بستر لپیٹنا شروع کردیا جہاں ان کے وزراء کو بھی ان کی تقلید کرنی تھی۔ ایسے میں وزیر اقلیتی اُمور رحمان خان کو بھی پتہ چل گیا کہ ان کے اقتدار کے بس تھوڑے ہی دن باقی بچ گئے ہیں جس نے انہیں بوکھلاہٹ اور چڑچڑے پن میں مبتلاء کردیا۔

انہوں نے الیکشن کمیشن کے انتخابی ضابطہ اخلاق کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کے سکریٹری وزیر انصاری کو برطرف کرتے ہوئے ان کی جگہ آئی پی ایس دینیش سنگھ بسٹ کی تقرری کو عملی جامہ پہنادیا۔ اس خبر نے ان لوگوں کو ضرور چونکا دیا جو انصاری کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کی خدمات سے واقف تھے، لیکن اون لوگوں کو نہیں چونکایا جو رحمان خان سے واقف تھے۔ یاد رہے کہ MEAF ایک ایسا ادارہ ہے جو اقلیتی بہبود کے لئے کارہائے نمایاں انجام دیتا ہے جیسے این جی اوز کے انفراسٹرکچر کیلئے امداد جو بنیادی تعلیم کے شعبہ میں کام کرتے ہیں۔ تعلیم کے شعبہ میں نمایاں خدمات انجام دینے والی طالبات کے لئے اسکالر شپس، صحت اسکیم، نالندہ پراجکٹ، مولانا آزاد میموریل لکچر اور بیداری پروگرام۔ فاؤنڈیشن کو قبل ازیں اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جب اس کے 2011-12 کے بجٹ میں مختص 100کروڑ روپئے کی گرانٹ میں سے صرف ایک لاکھ روپئے امدادی طور پر تقسیم کئے گئے تھے۔

وزیر انصاری ایک دیانتدار آفیسر تصور کئے جاتے ہیں جو لغو قسم کی حرکات کو ہرگز برداشت نہیں کرتے۔ 2001 میں انہیں نمایاں خدمات انجام دینے پر پولیس میڈل اور 2011 ء میں پولیس پریسیڈنیشل میڈل سے نوازا جاچکا ہے۔ کے رحمان خان نے جس طرح وزیر انصاری کے ساتھ سلوک کیا وہ دراصل انصاری کی توہین کے مترادف ہے جبکہ انہیں( انصاری) برطرف کرنے یا ان کا تبادلہ کرنے کی کوئی ٹھوس وجوہات نہیں تھی۔ رحمان خان نے ’’ رسّی جل گئی مگر بَل نہیں گئے‘‘ کے مصداق اپنی جاتی ہوئی وزارت کا انتقام ایک دیانتدار آفیسر سے لیا۔

TOPPOPULARRECENT