Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / سابق چیف منسٹر متحدہ آندھرا پردیش کرن کمار ریڈی کی آج بی جے پی میں شمولیت متوقع

سابق چیف منسٹر متحدہ آندھرا پردیش کرن کمار ریڈی کی آج بی جے پی میں شمولیت متوقع

حیدرآباد /7 جنوری (سیاست نیوز) متحدہ آندھرا پردیش کے آخری چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی 8 جنوری کو بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ سے ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ امیت شاہ دو روزہ دورہ پر 7 جنوری کی شام حیدرآباد پہنچ رہے ہیں۔ وہ حیدرآباد میں قیام کے علاوہ وجے واڑہ کا بھی دورہ کریں گے۔ ملک کی 13 ریاستوں پر قبضہ کرنے والی بی ج

حیدرآباد /7 جنوری (سیاست نیوز) متحدہ آندھرا پردیش کے آخری چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی 8 جنوری کو بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ سے ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ امیت شاہ دو روزہ دورہ پر 7 جنوری کی شام حیدرآباد پہنچ رہے ہیں۔ وہ حیدرآباد میں قیام کے علاوہ وجے واڑہ کا بھی دورہ کریں گے۔ ملک کی 13 ریاستوں پر قبضہ کرنے والی بی جے پی اب اپنی ساری توجہ جنوبی ہند پر مرکوز کرچکی ہے اور تلنگانہ و آندھرا پردیش کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امیت شاہ سے ملاقات کرتے ہوئے دیگر جماعتوں بالخصوص وائی ایس آر کانگریس قائدین بی جے پی شامل ہونے والے ہیں۔ ذرائع کے بموجب 8 جنوری کو این کرن کمار ریڈی کا بی جے پی میں شمولیت کا امکان ہے، کیونکہ بی جے پی اب تک کرن کمار ریڈی سے کئی بار مشاورت کرچکی ہے، تاہم بی جے پی نے اب تک اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ اس سلسلے میں جب کرن کمار ریڈی سے بات چیت کی گئی تو انھوں نے میڈیا کے نمائندوں کو انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، میڈیا کو اس سے واقف کرائیں گے۔ ابھی اگر سب کچھ واضح کردیا گیا تو تجسس ختم ہو جائے گا۔

ذرائع کے بموجب وائی ایس آر کانگریس کے قائد و سابق ڈپٹی اسپیکر ویدا ویاس نے بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو اور مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو سے ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اسی طرح ضلع کرشنا کے وائی ایس آر کانگریس صدر و سابق وہپ اُدے بھانو، سابق وزیر پی سبھاش چندر بوس، حلقہ اسمبلی بھیما ورم کے سابق رکن اسمبلی جی سرینواس، سابق وزیر کے رام کرشنا ریڈی کے بشمول دیگر قائدین کی بی جے پی میں شمولیت کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں سابق صدر پردیش کانگریس و سابق وزیر بی ستیہ نارائنا کے بارے میں بھی شمولیت کی افواہ تھی، مگر انھوں نے اس افواہ کی تردید کی ہے۔ اس سلسلے میں آندھرا پردیش بی جے پی کے صدر و رکن پارلیمنٹ ہری بابو سے بات چیت کی گئی تو انھوں نے کہا کہ بی جے پی نے بی ستیہ نارائنا سے رابطہ نہیں پیدا کیا اور نہ ہی انھوں نے بی جے پی سے بات چیت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کو مودی کی قیادت اور بی جے پی کے اصولوں پر بھروسہ ہوگا، وہ بی جے پی میں شامل ہوں گے۔ ہم نے کسی سے رابطہ نہیں کیا، یہ سارے قائدین رضاکارانہ طورپر بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT