Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / سابق کانسٹبل محمد عبدالقدیر جنہیں ملت نے فراموش کردیا

سابق کانسٹبل محمد عبدالقدیر جنہیں ملت نے فراموش کردیا

پچیس سال تین ماہ قید کی صعوبتیں برداشت کرنے والی شخصیت کو کسی سے شکوہ نہیں
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جون : ( نمائندہ خصوصی) : عام مہینے ہوں یا پھر رمضان المبارک کا ماہ مقدس ہم اپنی زندگیوں ، بیوی بچوں میں مگن ہیں ہر روز انواع و اقسام کے کھانے ہمارے دسترخوانوں پر چنے جارہے ہیں ۔ قسم قسم کے پھلوں سے ہم اپنے مہمانوں کی تواضع کررہے ہیں ۔ عید کی تیاریاں بھی زور و شور سے جاری ہیں ۔ گھروں کو سجایا جارہا ہے ۔ بچوں کے لیے ملبوسات جوتے چپل خریدے جارہے ہیں ۔ غرض خوشی کا ماحول ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ان خوشیوں میں اکثر ان گھروں کو فراموش کردیتے ہیں جہاں خوشیوں کی بجائے غم کا ماحول ہے ۔ جہاں روزہ دار تو ہیں لیکن ان کے دسترخوانوں پر انواع و اقسام کے کھانے نہیں پھل اور سبزیوں کی رونق نہیں وہاں عید کے نئے کپڑوں ، جوتے چپلوں کو پاکر خوش ہونے والے بچوں کی آوازیں بھی نہیں ۔ آخر ان گھروں میں ایسی خاموشی اداسی کیوں چھائی ہوئی ہے ؟ قارئین یہ گھر وہ ہیں جس کے جوان ، جس کے ذمہ دار جھوٹے الزامات میں جیلوں میں قید ہیں اور برسوں سے اپنے ناکردہ گناہ کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔ بعض ایسے بھی ہیں جو سزا قید سے چھٹکارا پاچکے ہیں لیکن وسائل نہ ہونے کے باعث ان کی زندگیاں کسی قید سے کم نہیں ۔ ایسی شخصیتوں کی مدد ہم سب کا فریضہ ہے ۔ کانسٹبل محمد عبدالقدیر کو کون نہیں جانتا نہ صرف حیدرآباد بلکہ ہندوستان اور بیرون ملک بھی ان کی اپنی ایک منفرد پہچان ہے ۔ ان کا شمار ہندوستان کے ان چند ایک قیدیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے برسوں جیل میں گذار دئیے ۔ کانسٹبل عبدالقدیر نے 8 دسمبر 1990 کو جو کچھ بھی کیا تھا اس بارے میں کچھ بتائے بناء راقم الحروف یہ کہہ سکتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد محمد عبدالقدیر کی زندگی اجیرن کردی گئی ۔ اس وقت ان کی عمر 29 سال تھی ۔ ایسی عمر میں لوگ زندگی سے بھر پور لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن اس نوجوان نے اپنی خوشیوں اور پر لطف زندگی کو صرف اس لیے مصیبتوں میں ڈالدیا کیوں کہ وہ ملت کے نوجوانوں پر ظلم نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی متعصب عہدہ دار بے قصور نوجوانوں کو اپنے ظلم و ستم اور گولیوں کا نشانہ بنائے ۔ بہر حال سابق کانسٹبل عبدالقدیر نے زائد از 25 سال 3 ماہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ۔ یہاں تک کہ دوران قید ہی شوگر اور مختلف عوارض کا شکار ہوئے جس کے نتیجہ میں ان کا ایک پاؤں جسم سے علحدہ کردیا گیا ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے محمد عبدالقدیر کی رہائی کے لیے خصوصی مہم چلائی ۔ انہوں نے تین چیف منسٹر وائی ایس آر ، کے روشیا اور کرن کمار ریڈی کو متعدد مکتوب لکھے اور اپنی اس مہم میں سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کٹجو کو بھی شامل کرلیا۔ اس طرح 26 جنوری 2016 کو حکومت تلنگانہ نے 251 جن قیدیوں کو رہا کیا ان میں سابق کانسٹبل محمد عبدالقدیر بھی شامل تھے ۔ راقم الحروف سے بات چیت کرتے ہوئے 55 سالہ محمد عبدالقدیر نے بتایا کہ ایک پاؤں کاٹ دئیے جانے کے بعد وہ نقل و حرکت سے قاصر ہیں ۔ گھر میں ہی دینی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے وقت گذارتے ہیں ۔ انہیں اس بات کا ذرہ بھی افسوس نہیں کہ ان کے بیوی بچوں ( دو بیٹیوں اور دو بیٹوں ) کو 25 برسوں تک پریشانیوں اور خطرناک آزمائشوں سے گذرنا پڑا ۔ وہ ہر حال میں بارگاہ رب العزت میں شکر بجا لاتے ہیں ۔ انہیں کسی سے کوئی شکوہ نہیں ۔ وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ کوئی ان کی مدد کے لیے آگے نہیں آتا ۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ اللہ رزاق ہے ۔ دال روٹی کا انتظام کردیتا ہے ۔ جس کے لیے اس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔ بہر حال جناب محمد عبدالقدیر سے گفتگو کے بعد ہمیں محسوس ہوا کہ ہم خوشیوں کو خود کی ذات تک محدود رکھدیتے ہیں ۔ ملت کے قیدیوں ، مجبور و بے کسوں کا خیال نہیں رکھتے ۔ انہیں ماضی کی ایک دردناک داستان سمجھ کر فراموش کردیتے ہیں ۔ کاش ہم ان کی مدد کرنے والے ہوتے ۔ جناب محمد عبدالقدیر سابق کانسٹبل سے فون نمبر 9849764644 پر ربط کرسکتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT