Saturday , November 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / ساداتِ کرام کو زکوٰۃ دینا ہرگز جائز نہیں

ساداتِ کرام کو زکوٰۃ دینا ہرگز جائز نہیں

شرعی اصطلاح میں بنی ہاشم سے حضرات علی‘ عباس‘ جعفر‘ عقیل اور حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہم کی آل و اولاد کو سادات کرام کہتے ہیں جنھیں زکوٰۃ دینا ہرگز جائز نہیں ورنہ زکوٰۃ ادا ہی نہیں ہوگی لیکن بعض گوشوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً بار بار اس طے شدہ مسئلہ کو متنازعہ بناتے ہوئے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ سادات کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
حالانکہ فقہی کتب میں زکوٰۃ کی شرعی تعریف ہی یہ ہے کہ ’’خالصًا سید ہاشمی یا سید کے غلام سے ہٹ کر کسی مسلمان فقیر کو شریعت میں مقرر کردہ اپنے مال کے ایک حصہ کا مالک بنادینا‘‘ زکوٰۃ ہے۔ مثلاً فتاوٰی عالمگیری میں ہے’’فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیرھاشمی ولا مولاہ‘‘
جب سادات کے غلام کو تک زکوٰۃ دینے پر شرعی ممانعت ہے تو پھر آقا کو کسطرح زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں شریعت میں حقیقی مانباپ کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی تو جن پر مانباپ فدا و قربان ہیں انھیں زکوٰۃ کس طرح دی جائے گی؟
سادات کو زکوٰۃ دینے کے جواز میں پیش کردہ تین ادعا مع جوابات درج ذیل ہیں۔
۱  پہلا ادعا یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حدیث شریف میں سادات کو صدقہ دینے سے روکا ہے مگر زکوٰۃ دینے سے نہیں روکا کیوں کہ زکوٰۃ کوئی صدقہ نہیں۔
حالانکہ ایسی ایک حدیث بھی موجود نہیں کہ جس میں صدقہ اور زکوٰۃ میں کوئی فرق بتایا گیا ہو اس کے برخلاف دو صحیح احادیثِ ذیل آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے واضح فرمادیا ہے کہ زکوٰۃ بلاشبہ صدقہ ہے۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ارشاد نبوی ہے  ’’زکوٰۃ الفطر صاعا من تمر (بخاری۔ مسلم)‘‘ نیز ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی دوسری حدیث میں ارشاد نبوی ہے ’’زکوٰۃ الفطر صاعا من طعام(بخاری۔ مسلم)‘‘ان دونوں احادیث میں صدقۂ فطر کی جگہ زکوٰۃ الفطر سے ثابت ہوا کہ زکوٰۃ صدقہ ہی ہے۔ لغوی طور پر بھی زکوٰۃ بمعنٰی صدقہ اور تزکٰی بمعنٰی صدقہ دینا ہے۔ (المنجد) لہٰذا یہ ادعا کالعدم ہوگیا کہ زکوٰۃ‘ صدقہ نہیں ہے۔
۲  دوسرا ادعا ہے کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ اور دیگر علماء کا قول بھی ہے کہ سادات کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ مخفی مباد کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’اگر میرے قول و قیاس کے خلاف کوئی حدیث مل جائے تو اسے قبول کرتے ہوئے میرے قول کو دیوار پر دے مارو یعنی مسترد کردو‘‘ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ ’’صدقات لوگوں کے میل ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور اٰل محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو حلال نہیں‘‘ لہٰذا اس حدیث کے بعد خود امام اعظمؒ کا یا کسی فقیہ و محدث کا یا کسی علامہ یا مولانا کا شخصی قول قبول کرنے کے قابل ہرگز نہیں رہا۔ کیونکہ فقہ کے اساسی اصول کی بناء پر کسی کے شخصی خیال کی اہمیت نہیں بلکہ جمہور علمائے دین کے متفقہ مفتی بہ قول کا لحاظ کیا جاتا ہے۔
۳  تیسرا ادعا یہ ہے کہ زکوٰۃ کا مال ناپاک نہیں بلکہ پاک ہوتا ہے۔ واضح ہو کہ کسی چیز سے دور کی گئی یا نکالی گئی گندگی یا میل ناپاک ہوتا ہے اور باقی بچا ہوا مال پاک ہوجاتا ہے لیکن تعجب ہے کہ نکالے گئے میل کو پاک قرار دیا جارہے ہے
ع    بریں عقل و دانش بباید گریست
پھر طرفہ تماشہ یہ کہ ناپاک و حرام چیز کو ’’نذرانہ‘‘ کا دلفریب نام دے کر اس کو پاک اور حلال بنادیا جارہا ہے۔ العیاذ باللہ
سادات کرام کی خدمت میں اگر کچھ پیش کرنا ہی ہو تو کیا (2.5) فیصد زکوٰۃ کا ناپاک مال ہی رہ گیا ہے۔ اس کے بجائے باقی بچے ہوئے(97.5)  فیصد پاک مال میں سے نذرانہ پیش کرکے عقیدت کا اظہار کیوں نہیں کیا جاتا؟
بہرحال مفتی بہ قول اور جمہور علمائے دین کے اجماع و اتفاق سے طے شدہ قطعی فیصلہ کی رو سے ساداتِ کرام کو زکوٰۃ دینا ہرگز جائز نہیں دکن کی مشہور و معروف جامعہ نظامیہ کا اوردیگر علمی اداروں کا بھی یہی فتوٰی ہے۔ عالم اسلام کی عظیم وقدیم جامعہ ازہر مصر کا بھی یہی فتوٰی ہے ۔ دیگر عرب ممالک میں بھی حبیب حضرات (سادات کرام) نہ زکوٰۃ لیتے ہیں نہ انھیں زکوٰۃ دی جاتی ہے۔
اس قدر واضح شواہد اور ناقابل انکار دلائل کے باوجود سادات کو زکوٰۃ دینے کے متنازعہ مطالبہ پر اصرار کیا جائے تواس سے دین و ملت میں فتنہ و انتشار پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ قرآن پاک فتنہ کو قتل سے بڑا گناہ قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہرکسی کو نیک توفیق عطا کرے۔ آمین         (ق س ا ع ص ق)

Top Stories

TOPPOPULARRECENT