Monday , November 20 2017
Home / مضامین / سادھوی پراچی کیوں ملک کو مسلمانوں سے پاک کرنا چاہتی ہیں

سادھوی پراچی کیوں ملک کو مسلمانوں سے پاک کرنا چاہتی ہیں

غضنفر علی خان
وشوا ہندو پریشد کی انتہائی متنازعہ لیڈر سادھوی پراچی نے پھر  ایک بار مسلمانوں کے تعلق سے ایک حد درجہ نامعقول اور نازیبا بیان دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہندوستان کو مسلمانوں کے وجود سے پاک کیا جائے۔ یہ بے ہنگم خیال صرف ملک دشمنوں کے ذہن ہی میں آسکتا ہے ورنہ کوئی ہوشمند ہندوستانی باشندہ خواہ اس کا تعلق کسی مذہبی عقیدہ سے ہو ایسی بات زبان پر بھی لا نہیں سکتا۔ اس ملک میں جو بھی لوگ ہیں ان میں ہر کسی کی وطن دوستی ، حب الوطنی اتنی ہی شدید اور بے پناہ ہے جتنی کہ سادھوی پراچی اور ان کی طرح کا ذہن و فکر رکھنے والوں کی ہے ۔اس ملک میں کوئی گروہ کوئی فرقہ کوئی فرد  غدار نہیں ہے ۔ ہر کوئی ہندوستان پر ا تناہی حق رکھتا ہے جتنا سادھوی پراچی یا وشوا ہندو پریشد کا کوئی لیڈر رکھتا ہے۔ ہندوستان نہ تو کانگریس سے آزاد یا پاک کیا جاسکتا ہے اور نہ اس ملک سے مسلم آبادی کا تخلیہ یا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔ سادھوی پراچی کی بات ان کے ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے ۔

ملک کے 125 کروڑ لوگوں میں مسلمانوں کی آبادی 20 تا 25 کروڑ ہے ۔ یہ آبادی عددی اعتبار سے دنیا بھر کے کسی ملک کی آبادی کے قریب ہے ۔ انڈونیشیا واحد ملک ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد ہندوستانی مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ ہمارے ملک کے پڑوسی ممالک ، ایران ، افغانستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کی آبادی ہم (ہندوستانی مسلمانوں) سے بھی کم ہے ۔ ملک میں ہندو آبادی کے بعد جو مختلف اقلیتیں بستیں ہیں ان میں سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی ہے۔ پراچی کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی بڑی اور صدیوں سے یہاں بسنے والے مسلمان سے ملک کو پاک کیا جاسکتا ہے ۔ یہ ایک بکواس ہے۔ ہندو توا کے حامی لیڈر وقفہ وقفہ سے ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف بادہ گوئی کرتے رہتے ہیں ۔ ان کی عادت ہوگئی ہے لیکن ان مٹھی بھر فرقہ پرستوں کے مقابل غالب اکثریت خود ہندو بھائیوں کی ہے جو ملک کی تکثریت ہی میں ملک کی بقاء دیکھتے ہیں۔ نہ مسلمان ایسی دھمکیوں سے ڈرتے ہیں اور نہ کبھی ڈریں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے ملک کسی ایک فرقہ کا نہیں ہے بلکہ ان تمام فرقوں ، ذاتوں ، مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کا ہے جو خود کو ہندوستانی باشندہ کہلانے پر فخر کرتے ہیںاور دوسرے تمام عقائد کا احترام کرتے ہیں ۔ سادھوی پراچی جیسی بے اثر وشوا ہندو پریشد کی کسی لیڈر کا یہ کہنا کہ ہندوستان کو مسلمانوں سے پاک کر یں گے ۔ ایک ایسے مذہبی جنون پروری کی نشاندہی کرتا ہے جس کے لئے ملک کے قانون ، دستور ملک کے عدلیہ ، مقننہ اور دستور میں کوئی جگہ نہیںہے ۔ اصولاً تو سادھوی پراچی کے خلاف اس بیان کی پاداش میں قانونی کارروائی کی جانی چاہئے کیونکہ ان کا یہ بیان ملک کی دوسری بڑی اقلیت کے خلاف  منافرت پھیلانے، مذہبی رواداری کی دھجیاں اڑانے کے مصداق ہے ۔ ان کے خلاف اب اگر قانونی کارروائی نہیں کی گئی تو اور بھی ہندوتوا کے حامی لیڈر اس قسم کے بیانات دیتے رہیں گے، جس سے ملک کی عام فضاء پراگندہ اور مسموم ہوجا ئے گی ۔ یہ بیان مودی حکومت کیلئے ایک لمحہ فکر ہے۔ اس کو اپنے خواب غفلت سے بیدار کرنے کیلئے ایک ’’بانگ درا‘‘ ہے ۔ لیکن گزشتہ ہوئے واقعات کے بعد سے آج تک مودی حکومت نے کسی بھی زہر افشانی کرنے والے لیڈر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ راقم نے بارہا لکھا ہے کہ اس طرح کا رویہ جو حکومت نے اختیار کیا وہ فرقہ پرستوں کی پشت پناہی یا ان کی خاموش تائید کرنے کے مماثل ہے ۔ سادھوی پراچی کوئی اہم لیڈر نہیں ہیںلیکن ان پر قانون کا شکنجہ اگر ابھی نہیں کسا گیا تو پھر آئندہ اور بھی سادھوی پیدا ہوں گی۔ ملک کی شیرازہ بندی کو خطرہ لاحق ہوگا۔ سارا نظام درہم برہم ہوکر رہ جائے گا ۔ حکومت سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہئے کہ وہ ایسے ملک دشمن عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔

حکومت کی پالیسی ان عناصری کی درپردہ تائید اور پشت پناہی کرنا ہے ۔ مودی حکومت فرقہ پرست پارٹی اور اس کے قائدین کی بکواس کو دیدہ دانستہ طور پر نظر انداز کردیتی ہے ۔ ملک کی جمہوری اور سیکولر طاقتیں بھی اس انداز میں فرقہ پرستوںکے خلاف صف آراء نہیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہئے لیکن آج ان دشوار حالات میں بھی ان ہی طاقتوں پرملک و قوم کی نگاہیں مرکوز ہیں اور عام ہندوستانی یہ یقین رکھتا ہے کہ سیکولر طاقتیں فرقہ پرستوں کے مذموم عزائم کو شکست دیں گی ۔ دن بدن ملک کے حالات خطرناک حد تک بگڑ رہے ہیں ۔ مسلم دشمنی کے مظاہرے اب کھل کر کئے جارہے ہیں ۔ دہرہ دون کے قریب واقع رواتی مقام پر فرقہ وارانہ جھڑپ ہوئی تھی جس میں 32 افراد زخمی ہوئے تھے ۔ بات دراصل یہ تھی ، ایک مقامی بک اسٹور میں کسی مذہبی کتاب کی بے حرمتی کرنے کے سلسلہ میں ایک تنازعہ پیدا ہوگیا تھا جو باہمی جھڑپ کی شکل اختیار کرگیا ۔ خان پور کے ایم ایل اے کنور پرانو سنگھ کے مکان پر حملہ بھی ہوا تھا، اس حملہ کے بارے میں پراچی کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ پہلے ہی سے طئے شدہ سازش کا نتیجہ ہے ۔ مقامی پولیس اور کسی تحقیقاتی ایجنسی نے سادھوی پراچی کی کہی ہوئی بات کی ابھی تک تائید نہیں کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر مجوزہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی یوگی آدتیہ ناتھ کو پار ٹی کے چیف منسٹر امیدوار کی حیثیت سے پیش کرتی ہے تو بی جے پی کو اترپردیش میں 300 سیٹس حاصل ہوں گی ۔ خود یوگی آدتیہ ناتھ بھی مسلم دشمنی اور اپنی زہر افشانی کے لئے بدنام ہیں ۔ انہوں نے ماضی میں کئی مرتبہ مسلم دل آزار بیانات دیئے ہیں۔ بی جے پی کی کوشش ہے کہ اترپردیش میں ہندو رائے دہنوں کو اپنی طرف لبھایا جائے ۔ اسکے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں لیکن بی جے پی یا وشوا ہندو پریشد یہ بھول رہی ہیں کہ اترپردیش ہی نہیں بلکہ ملک کی کئی ریاستوں میں انہیں مسلم ووٹ کی تائید کے بغیر کبھی اقتدار حاصل نہیں ہو سکتا ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کو اپنی اس غلط فہمی کو بھی ختم کرلینا چاہئے کہ تمام ہندو ووٹ انہیں حاصل ہوں گے کیونکہ 2014 ء کے عام چناؤ اور اس کے بعد بعض اہم ریاستوں میں ہوئے اسمبلی چناؤ (2016) میں ان فرقہ پرست عناصر کو 36 فیصد ووٹ ہی ملے تھے ، آج بھی ہندو باشندوں کی اکثریت انہیں پسند نہیں کرتی ہے۔ سادھوی پراچی اور اس کے تمام لیڈروں کو تاریخ کا تھوڑا بہت مطالعہ کرنا چاہئے ۔ عصری تاریخ اور قدیم تاریخ سے ان کی لاعلمی نے انہیں مسلمانوں کے تعلق سے ایسی  غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کا شکار بنادیا ہے ۔ ان کی مسلم دشمنی کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے خون جگر سے اس ملک کی آزادی  کی جنگ لڑی تھی جبکہ سادھوی پراچی ، یوگی آدتیہ ناتھ اور ایسے دوسرے انتہا پسند لیڈر چوہوں کی طرح بل میں چھپ گئے تھے یا پھر درپردہ اپنے انگریز آقاؤں کے تلوے چاٹا کرتے تھے۔

TOPPOPULARRECENT