Friday , November 24 2017
Home / اداریہ / سادھوی پرگیہ کو این آئی اے کلین چٹ

سادھوی پرگیہ کو این آئی اے کلین چٹ

خود ترے حسن تغافل کا سہارا لیکر
آج مقتل میں اس انداز سے قاتل تڑپا
سادھوی پرگیہ کو این آئی اے کلین چٹ
قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) نے 2008 کے مالیگاوں بم دھماکوں کے کیس میں ملزم سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو اس مقدمہ سے بری کردینے کی درخواست کی حمایت کردی ہے ۔ این آئی اے نے توقعات کے عین مطابق اپنے موقف میں تبدیلی لائی ہے ۔ حالانکہ این آئی اے نے سابق میں کہا تھا کہ وہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی مالیگاوں بم دھماکوں کے مقدمہ سے بری کردینے کی درخواست کی مخالفت کریگی ۔ سادھوی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے 2008 میں ہوئے مالیگاوں بم دھماکوں کا منصوبہ تیار کیا تھا اور وہ اس مقدمہ کی سماعت کے سلسلہ میں جیل میں رہیں۔ گذشتہ ہفتے ہی سادھوی نے این آئی اے کی ایک عدالت میں درخواست پیش کرتے ہوئے خود کو اس مقدمہ سے بری کرنے کی استدعا کی تھی ۔ بمبمئی ہائیکورٹ کی جانب سے سادھوی کو 25 اپریل کو اس کیس میں ضمانت فراہم کی گئی تھی ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ نہیں ہے ۔ این آئی اے نے ضمانت کی منظوری کے وقت کہا تھا کہ وہ سادھوی کی براء ت کی درخواست کی مخالفت کریگی اور اس کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کا حکمنامہ صرف اس کی ضمانت منظور کرنے تک محدود ہے ۔ تاہم آج ایجنسی نے اپنے موقف میں یو ٹرن پیدا کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے کہا کہ اسے بھی سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو اس مقدمہ میں بری کردینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اس نے پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو کلین چٹ دیدی ہے ۔ مالیگاوں میں 29 ستمبر 2008 کو ہوئے بم دھماکہ میں چھ افراد ہلاک اور تقریبا 100 زخمی ہوئے تھے ۔ یہاں ایک بم کو موٹر سائیکل پر چھپا کر رکھا گیا تھا اور یہ پھٹ پڑا جس کے نتیجہ میں یہ اموات ہوئی تھیں۔ اس کیس میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے علاوہ فوجی لیفٹننٹ کرنل پرساد سریکانت پروہت کے بشمول 12 افراد کو ماخوذ کیا گیا تھا ۔ سادھوی پرگیہ کو 25 اپریل کو بمبئی ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت مل جانے کے بعد 27 اپریل کو بھوپال میں ضمانت کی شرائط کی تکمیل کے بعد عدالتی تحویل سے رہا کردیا گیا تھا ۔ وہ بھوپال میں کینسر کا علاج کروا رہی ہے ۔ واضح رہے کہ سادھوی کو اس سے قبل قتل کے ایک مقدمہ میں کلین چٹ دیدی گئی تھی جس کے بعد اسے براء ت مل گئی ہے ۔
یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ جس وقت سے مرکز میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہوئی ہے اس وقت سے ملک میں ہندو دہشت گردی کے مقدمات میں ماخوذ کئے گئے تمام ملزمین کو کسی نہ کسی طرح سے راحتیں ملنی شروع ہوگئی ہیں۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) کی جانب سے اب تک کی گئی تحقیقات کا رخ ہی بدلتے ہوئے ملزمین کو کلین چٹ دی جا رہی ہے ۔ کئی گوشوں سے یہ الزامات عائد کئے جارہے ہیں کہ این آئی اے ان مقدمات کی تحقیقات میں جانبداری سے اور سیاسی دباؤ میں کام کرتے ہوئے بھگوا کارکنوں کو عدالتی کشاکش سے نجات دلانے کی سمت میں کام کر رہی ہے ۔ این آئی اے نے یہ واضح نہیں کیا کہ چند دن میں اس نے کن بنیادوں پر سادھوی پرگیہ کو کلین چٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ این آئی اے ہی نے بمبئی ہائیکورٹ کی جانب سے سادھوی کو ضمانت دئے جانے کے وقت کہا تھا کہ وہ مقدمہ سے براء ت کی درخواست کی مخالفت کریگی ۔ تاہم اب اس کے موقف میں یو ٹرن آگیا ہے ۔ اس یو ٹرن کی وجوہات بتانے کی ضرورت ہے ۔ آخر دو ہفتوں کے وقت میں این آئی اے کی تحقیقات میں یہ تبدیلی کس طر ح سے پیدا ہوگئی اور دو ہفتے قبل اس نے کیوں کہا تھا کہ وہ براء ت کی درخواست کی مخالفت کریگی ۔ موجودہ حالات میںیہ الزامات بے بنیاد قرار نہیں دئے جاسکتے کہ این آئی اے کی جانب سے سیاسی دباؤ میں کام کیا جا رہا ہے ۔ این آئی اے کو اپنے موقف کو واضح کرنا چاہئے اور جو شبہات پیدا ہو رہے ہیں ان کو جامع انداز میں دور کرنے کی ضـرورت ہے ۔
اس مقدمہ میں تحقیقات کا رخ جس انداز سے موڑا جا رہا ہے اس سے یہ اندیشے بھی پیدا ہوگئے ہیں کہ حقیقی خاطی سزا سے بچ جائیں گے ۔ اس سے تحقیقاتی ایجنسیوں کے رول پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ سب سے پہلے تو اس مقدمہ میں سیمی کے کارکنوں پر شبہ ظاہر کیا گیا ۔ بعد میں ایک چارچ شیٹ پیش کرتے ہوئے ان دھماکوں کیلئے ابھینو بھارت ٹرسٹ کو ذمہ دار قرار دیا گیا ۔ بی جے پی اور اس کی ساتھی جماعتیں ابتداء سے ہندو کارکنوں کی گرفتاری کی مخالفت کرتی رہی تھیں اور اب اس مقدمہ میں ہندو ملزمین کو بھی کلین چٹ دی جا رہی ہے تو سوال یہ پیدا ہوگا کہ آیا تحقیقاتی ایجنسیاں ان دھماکوں کے حقیقی خاطیوں کا پتہ چلانے اور انہیں سزا دلانے میں کامیاب بھی ہونگی یا نہیں ؟ ۔

TOPPOPULARRECENT