Wednesday , June 20 2018
Home / سیاسیات / سادھو یادو اپنی بہن رابڑی دیوی کے خلاف انتخابی میدان میں

سادھو یادو اپنی بہن رابڑی دیوی کے خلاف انتخابی میدان میں

پٹنہ۔/25مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) آر جے ڈی صدر لالو پرساد کے برادر نسبتی انیرودھ پرساد عرف سادھو یادو نے اعلان کیا ہے کہ وہ لوک سبھا انتخابات سرن حلقہ سے بطور آزاد امیدوار اپنی ہی بہن رابڑی دیوی کے خلاف لڑیں گے۔ انہوں نے میڈیا کو یہ بات بتائی۔ جب اُن سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ انتخابات کے وقت عوام کے درمیان وہ اس کا خلاصہ کر

پٹنہ۔/25مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) آر جے ڈی صدر لالو پرساد کے برادر نسبتی انیرودھ پرساد عرف سادھو یادو نے اعلان کیا ہے کہ وہ لوک سبھا انتخابات سرن حلقہ سے بطور آزاد امیدوار اپنی ہی بہن رابڑی دیوی کے خلاف لڑیں گے۔ انہوں نے میڈیا کو یہ بات بتائی۔ جب اُن سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ انتخابات کے وقت عوام کے درمیان وہ اس کا خلاصہ کریں گے۔ جب ان سے استفسار کیا گیا کہ ایک ہی خاندان میں ایک دوسرے کا حریف بن جانے کا فیصلہ کیا حیرت انگیز نہیں ہے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست میں یہ سب چلتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ سادھو یادو کے سرن حلقہ سے انتخابی میدان میں اُترنے کا فیصلہ رابڑی دیوی کے لئے ضرور مشکلات پیدا کرسکتا ہے

کیونکہ اسی حلقہ سے لالو پرساد نے 1977ء میں پہلی بار پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور یہی وہ حلقہ ہے جہاں چارہ اسکام میں ملوث پائے جانے پر انہیں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ رابڑی دیوی کو بی جے پی امیدوار راجیو پرتاپ روڈی سے پہلے ہی سخت مقابلہ ہے۔ اس حلقہ میں پانچویں مرحلہ میں 7مئی کو انتخابات منعقد شدنی ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ یہ وہی سادھو یادو ہیں جہاں آر جے ڈی کے 15سالہ دور اقتدار میں ان کا طوطی بولتا تھا اور وہ لالو پرساد کے دست راست تصور کئے جاتے تھے۔ لالو پرساد بھی انہیں بہت عزیز رکھتے تھے کیونکہ ان کا قول تھا کہ ’ساری خدائی ایک طرف۔

جورو کا بھائی ایک طرف‘۔ لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے۔2009ء میں سادھو یادو کے لالو یادو سے تعلقات خراب ہوگئے اور انہیں پارٹی سے خارج کردیا گیا اور اسی سال سادھو یادو نے کانگریس کے ٹکٹ پر بتیا حلقہ انتخاب سے الیکشن لڑا لیکن ناکام رہے۔ حال ہی میں جب انہوںنے وزیر اعلیٰ گجرات نریندر مودی سے ملاقات کی تھی تو کانگریس نے بھی انہیں باہر کا دروازہ دکھادیا تھا اور اس طرح سادھو یادو نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔سادھو یادو جس وقت لالو پرساد کے قریب تھے تو تقریباً ہر سیاسی فیصلہ میں ان سے مشاورت ضرور کی جاتی تھی۔ جیساکہ کہا وت ہے کہ ان کے پوچھے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا تھا لیکن آج ایک ایسا دور بھی ہے جہاں وہ نہ آر جے ڈی کے رہے اور نہ کانگریس کے۔

TOPPOPULARRECENT