Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / ساری دنیا نور ہدایت کی محتاج، اسلام سارے عالم کیلئے رحمت

ساری دنیا نور ہدایت کی محتاج، اسلام سارے عالم کیلئے رحمت

قرآن اور صاحبِ قرآن سے دوری کے سبب دنیا خسارہ سے دوچار، مسجدحضرت عاقل حسامیؒ کا افتتاح، امام حرم کعبہ فضیلۃ الشیخ صالح بن محمد کا خطاب

حیدرآباد 6 اپریل (سیاست نیوز) دین اسلام میں مساجد کو کافی اہمیت حاصل ہے اور مسجدوں کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اُمت مسلمہ کے مراکز بنایا ہے۔ جن کے دلوں میں ایمان ہوتا ہے وہی اللہ کے گھروں کو آباد کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کے فوری بعد سب سے پہلے مسجد تعمیر کروائی۔ فضیلۃ الشیخ صالح بن محمد بن ابراہیم آل طالب نے آج مسجد حضرت عاقل حسامیؒ کے افتتاح کے موقع پر یہ کلمات ادا کئے۔ امام حرم کعبہ کی آمد سے قبل ہی مسجد کے علاوہ مدرسہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد کا صحن مکمل پُر ہوچکا تھا۔ امام حرم نے نماز مغرب کی امامت کی۔ بعدازاں مختصر تقریب منعقد ہوئی جس میں فضیلۃ الشیخ صالح بن محمد بن ابراہیم آل طالب کو تہنیت پیش کی گئی۔ علاوہ ازیں اُن کے ہمراہ تشریف لائے مہمانان عبدالمحسن بن محمد بن ابراہیم آل طالب، فہد بن علی بن مسفر کے علاوہ سعودی سفارت کار برائے مذہبی اُمور متعینہ ہند احمد بن علی بن سلیمان الرومی کو بھی تہنیت پیش کی گئی۔ مسجد حضرت عاقل حسامیؒ کے افتتاح کے موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی، جناب محمد علی شبیر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل، جناب اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ، جناب عبدالقیوم خان ڈائرکٹر جنرل محکمہ انسداد رشوت ستانی، جناب حامد محمد خان، مولانا حافظ پیر شبیر احمد، جناب الحاج محمد سلیم، مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری صدر قادریہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن، مولانا سید شاہ فضل اللہ قادری الموسوی، جناب منیرالدین مختار اور دیگر موجود تھے۔ منتظمین مولانا محمد رحیم الدین انصاری، مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ، مولانا عظیم الدین انصاری کے علاوہ دیگر نے مہمانوں کو تہنیت پیش کرتے ہوئے اُن کا خیرمقدم کیا۔ امام حرم مکی فضیلۃ الشیخ صالح بن محمد بن ابراہیم آل طالب نے اپنے خطاب کے دوران کہاکہ وہ سرزمین دکن و ہندوستان کے شہریوں کے لئے ملک سلمان بن عبدالعزیز کا پیام امن اور نیک تمنائیں لے کر آئے ہیں۔ اُنھوں نے ہندوستانی شہریوں کو علمائے حرمین شریفین کی جانب سے بھی سلام و نیک تمنائیں پیش کیں۔

اِس موقع پر اُنھوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جس طرح ہمیں مساجد میں جمع کررہا ہے اُسی طرح بروز محشر جمع کرے۔ اُنھوں نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ ساری دنیا نور ہدایت کی محتاج ہے اور اسلام سارے عالم کے لئے رحمت والا دین ہے۔ قرآن اور صاحبِ قرآن سے دوری کے سبب دنیا خسارہ میں ہے اور سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہورہا ہے۔ فضیلۃ الشیخ نے اپنے پُرمغز خطاب کے دوران کہاکہ دنیا میں آج طاقتور ترین ممالک سمجھے جانے والے دنیا کو امن و آشتی کا گہوارہ بنانے سے قاصر نظر آرہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے دامن میں ہی سکون حاصل ہوگا اور اِسی کے ذریعہ امن و آشتی برقرار رہے گی۔

اُنھوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد کا ثبوت دیں اور جو طاقتیں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں اُن سے دور رہیں۔ امام حرم نے بتایا کہ خرافات، دہشت، شدت کا تعلق اسلام سے نہیں ہے اور نہ ہی اسلام نے اِن کی تعلیم دی ہے۔ اسلام کی شبیہ بگاڑنے کے لئے جو لوگ کمربستہ ہیں وہ درحقیقت قرآن و حدیث سے دور ہیں۔ حصول علم بالخصوص دینی علوم سے آگہی کی تلقین کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ صحیح علوم کا حصول ہماری ذمہ داری ہے۔ دینی تعلیمات میں غلو سے اجتناب کی تلقین کرتے ہوئے امام حرم کعبہ نے کہاکہ قرآن کی ہدایات و احکام کو دلوں میں اُتارتے ہوئے اپنی زندگیوں میں نافذ کریں تاکہ عملی طور پر مسلمان بن سکیں۔ فضیلۃ الشیخ صالح بن محمد بن ابراہیم آل طالب نے نبی ﷺ و صحابہؓ کی ذات کو نمونہ بنانے اور اُسی کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ دشمنان اسلام صحابہ کو نشانہ بناتے ہوئے اُمت میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔ اِس انتشاری کیفیت سے بچنے کے لئے علوم حدیث سے واقفیت حاصل کریں اور قرآن و حدیث میں عیب تلاش کرنے والوں سے دوری اختیار کریں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ائمہ اربعہ نے اسلامی عقائد کے تحفظ کے لئے خدمات انجام دیں۔ چاروں ائمہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا اور جو فروعی اختلاف تھے وہ اُمت کے لئے رحمت ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ائمہ اربعہ کا یہ قول رہا کہ جو بات صحیح حدیث سے ثابت وہی ہمارا مسلک۔ امام حرم نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ قرآن و سنت کی بنیاد پر متحد رہیں۔ فن تعمیر شاہکار مسجد عاقل حسامیؒ کی افتتاحی تقریب کے دوران مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے اہم شخصیتیں موجود تھیں۔ اِس جلسہ سے جناب محمد محمود علی اور جناب محمد علی شبیر نے بھی مخاطب کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد حمیدالدین عاقل حسامیؒ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور حضرت مولانا کے دعوتی کاموں کو یاد کرتے ہوئے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی گئی۔ جلسہ کے اختتام کے فوری بعد فضیلۃ الشیخ صالح بن محمد بن ابراہیم آل طالب کی امامت میں نماز عشاء ادا کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT