Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / سارے تلنگانہ میں تحفظات تحریک کی گونج ‘ مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی نمائندگیاں

سارے تلنگانہ میں تحفظات تحریک کی گونج ‘ مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی نمائندگیاں

حیدرآباد /18 ستمبر ( سیاست نیوز ) مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات کی تحریک تلنگانہ میں دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے ۔ روزنامہ سیاست کی شروع کردہ تحریک سے تلنگانہ کا مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر جڑنے لگا ہے ۔ ملی سیاسی سماجی ہر طرح سے تحریک کی مضبوط کرنے کوشش جاری ہے اور مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہوگیا کہ جب تک مسلمان تحفظات کیلئے کمر بستہ نہیں ہونگے تحفظات ملنا یقینی نہیں ہوسکتا ۔ انفرادی و اجتماعی کوششوں سے ہی بی سی کمیشن کا قیام یقینی ہوگا اور تحفظات حاصل ہونگے ۔ تلنگانہ 12 فیصد مسلم تحفظات سے کم از کم 10 ہزار مسلم خاندانوں کو فائدہ ہوگا اور ہر سال 300 ڈاکٹرس و 200 بی ڈی ایس طلبا کے علاوہ مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں بے شمار فائدے ہونگے ۔ خالص قوم کے فائدہ اور نوجوانوں مسلم نسل کی تعمیر نو کی غرض سے سیاست نے اس تحریک کا آغاز کیا اور تلنگانہ کے مسلمانوں نے ہمیشہ کی طرح سیاست کی کوششوں پر لبیک کہا ہے ۔ آج نماز جمعہ سے قبل اور بعد نماز جمعہ مساجد سے تحریک کی آواز بلند ہوئی اور مسلمانوں نے سرکاری دفاتر کو وفود کی شکل میں پہونچکر بی سی کمیشن کے ذریعہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے نمائندگیاں پیش کیں ۔ آج تلنگانہ کے تمام اضلاع بشمول حیدرآباد میں بھی نمائندگیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ بی سی کمیشن کی سفارش اور اس بنیاد پر تحفظات فائدہ مند اور قانونی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہونگے بلکہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت قائم سدھیر کمیٹی کی سفارش تحفظات کی فراہمی اور اسکو یقینی بنانے میں موثر ثابت نہیں ہوگی ۔ تحفظات کو خطرہ لاحق رہے گا جبکہ سال 2007 میں تحفظات 5 فیصد سے 4 ہوگئے اور اس وقت عدالت نے بھی یہ کہا تھا کہ تحفظات کیلئے بی سی کمیشن کی سفارش مجاز ہوگی ۔ تاہم سابقہ حالات اور مسلمانوں کے موجودہ حالات و چیف منسٹر کے وعدہ کے مطابق سیاست کی 12 فیصد تحفظات تحریک زور پکڑتی جارہی ہے ۔ اس ضمن میں آج حیدرآباد کے پرانے شہر میں 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے نمائندگی کی گئی ۔      ( باقی سلسلہ صفحہ 6 پر )

TOPPOPULARRECENT