Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / سالارجنگ میوزیم کی بین الاقوامی سطح پر انفرادی پہچان

سالارجنگ میوزیم کی بین الاقوامی سطح پر انفرادی پہچان

میوزیم میں ایک ہفتہ طویل تقاریب کا افتتاح، خواجہ ایم شاہد و دیگر کا خطاب

میوزیم میں ایک ہفتہ طویل تقاریب کا افتتاح، خواجہ ایم شاہد و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔14جون(سیاست نیوز) سالا ر جنگ سوم کی 125ویں یومِ پیدائش کے موقع پر سالا ر جنگ میوزیم حیدرآباد ‘ وزارت کلچر‘ گورنمنٹ آف انڈیا کی جانب سے ایک ہفتہ طویل تقاریب کا افتتاح جناب خواجہ ایم شاہد وائس چانسلرمولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کے ہاتھوں‘ نواب میر تراب علی خان آڈیٹوریم میںعمل میںآیا۔ تقریب کی نگرانی نواب میر تراب علی خان نے کی جبکہ ڈاکٹراے ناگیندر ریڈی ڈائرکٹر سالا ر جنگ میوزیم اور بورڈ ممبرذاکر حسین بھی اس موقع پر موجود تھے۔خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے ڈائرکٹر میوزیم نے سالار جنگ سوم نواب میر یوسف علی خان کی یوم پیدائش تقریب میں مہمانِ خصوصی کے علاوہ دیگر تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہاکہ سالار جنگ میوزیم کی بین الاقوامی سطح پر انفرادی پہنچان ہے‘ اس پہنچان میںسالار جنگ سوم نواب میر یوسف علی خان بہادر کے افراد خاندان کا اہم رول ہے جنھوں نے سالار جنگ سوم کے انتقال کے بعد ان کے استعمال میں آنے والے تمام نایاب اشیاء کو سالار جنگ میوزیم کی زینت بنایا۔ انہوں نے کہاکہ سالار جنگ میوزیم کی اپنی انفرادی پہنچان بھی ہے اور اس پہچان کو مزید وسعت دینے کے لئے بیس ہزار اسکوئر فٹ پر مستقل اسلامک آرٹ گیلری قائم کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ سالار جنگ سوم کے مزید تصوئیری گیلری بھی میوزیم کی تیسری منزل پر قائم کی جارہی ہے۔صدر تقریب نواب میراحترام علی خان رکن سالارجنگ میوزیم بورڈ نے سالار جنگ سوم کی مختصر سوانح پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ نواب میر یوسف علی خان بہادر کو بچپن سے ہی اپنے استعمال میں آنے والی چیزوں کو صاف ستھرا رکھنے کی عادت تھی۔ انہوں نے کہاکہ آج بھی میوزیم میںسالا رجنگ سوم کے بچپن کی یادیں ان کے کھلونوں کے طور پر مشاہدے کے لئے رکھی گئی ہیں۔ مہمانِ خصوصی خواجہ ایم شاہد نے کہاکہ حیدرآباد دکن آصف جاہی سلطنت کا نمائندہ علاقہ ہے انہوں نے مزید کہاکہ گنگاجمنی تہذیب کی مثال حیدرآباد دکن کے لئے ایک حقیقت ہے جہاں پرمختلف مذاہب اور زبانوں کا استعمال کرنے والے پورے اتحاد کے ساتھ رہتے ہیں۔انہوں نے منتظمین تقریب سے کہاکہ سالار جنگ سوم کی جامعہ سوانح تیار کی جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو سالار جنگ سوم کے کارناموں سے واقف کروایا جاسکے۔ انہوں نے سوانح کی تیاری میں مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کے مکمل تعاون کا بھی وعدہ کیا۔اس موقع پر صدر تقریب اور مہمان ِ خصوصی کے ہاتھوں کیوریٹر میوزیم جناب احمد علی کی دو تخلیقات سیر ت نگاری میں ہندوستانی علمائوں کے خدمات اور کتاب خانہ نواب سالار جنگ کے اُردو مخطوطات کی وضاحتی فہرست کی رسم اجرائی بھی انجام پائی۔

TOPPOPULARRECENT