Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / سالار جنگ میوزیم کے کتب خانے میں 62 ہزار کمیاب کتابوں کا ذخیرہ

سالار جنگ میوزیم کے کتب خانے میں 62 ہزار کمیاب کتابوں کا ذخیرہ

قرآن حکیم کے 365 قلمی نسخے ، ساری دنیا کے عوام کی توجہ کا مرکز ، صدر شعبہ مخطوطات احمد علی سے خصوصی ملاقات

قرآن حکیم کے 365 قلمی نسخے ، ساری دنیا کے عوام کی توجہ کا مرکز ، صدر شعبہ مخطوطات احمد علی سے خصوصی ملاقات
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : کسی بھی ملک کی تاریخ ، تہذیب و تمدن اور ثقافت کا اندازہ اس ملک میں موجود تاریخی عمارتوں اور مقامات سے ہی نہیں بلکہ اس ملک کے حکمرانوں کے ذوق علوم و فن تعمیر سے لگایا جاسکتا ہے جب کہ شہر حیدرآباد کا نام لیتے ہی چارمینار ذہن میں آتا ہے لیکن تاریخی عمارت چارمینار کے دامن میں سالار جنگ میوزیم کی اہمیت کا اندازہ تو بیرون ملک کے اسکالرس اور سیاح ہی بہتر جانتے ہیں کیوں کہ اس کا قیام اور اس میں نادر نواردات ، بیش بہا قیمتی اشیاء کے علاوہ قلمی نسخے اور کمیاب ہزاروں کتابوں کی موجودگی ایسا کارنامہ ہے جو حکومتیں انجام نہیں دے سکتی ۔ لیکن صرف فرد واحد نواب یوسف علی خاں ( سالار جنگ سوم ) کے اعلی و عمدہ ذوق و شوق کی ترجمانی ہے ۔ 1951 میں قائم سالار جنگ میوزیم کا شمار یوں تو ملک کے 6 قومی اہمیت کے حامل میوزیم میں ہوتا ہے ۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ ساری دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد اور منفرد میوزیم ہے ۔ موسیٰ ندی کے کنارے جنوب میں 10 ایکڑ اراضی پر واقع سالار جنگ میوزیم کی عالمی انفرادیت کا اندازہ لگانے کے لیے آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے 29 ستمبر 1952 کو دورہ سالار جنگ میوزیم کے مشاہدے اور اس کے بعد کئے جانے والے ان کے خیالات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ سالار جنگ میوزیم کے مشاہدے کے بعد مولانا آزاد لکھتے ہیں کہ ’ مجھے سالار جنگ میوزیم کے معائنے سے خوشی حاصل ہوئی ۔ ایک شخصی ذوق نے اتنا سامان بہم پہنچادیا کہ حکومتوں کی کوشش سے بھی فراہم نہیں ہوا کرتا ۔‘ سالار جنگ میوزیم میں تین علحدہ وسیع و عریض بلاک میں موجود 43000 نادر و نایاب اشیاء کی مالیت کا تخمینہ لگانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے کیوں کہ بعض ایسے شہہ پارے بھی ہیں جن کی قیمت کے تصور سے ہی ہوش اڑ جاتے ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہے کہ 1968 میں اس میوزیم کو دیوان دیوڑھی سے موجودہ عمارت میں منتقل کیا گیا ہے اور تقریبا 40 سال بعد اس کی تزئین نو کے ذریعہ موجودہ عمارت کو بہتر صورت گیری فراہم کی گئی ہے۔ سالار جنگ میوزیم کا وجود ریسرچ اسکالرس اور علم کا ذوق رکھنے والوں کے لیے کسی انمول نعمت سے کم نہیں کیوں کہ تحقیق کرنے و الوں کے لیے یہ علم کا مرکز اور گہوارہ ہے ۔ سالار جنگ میوزیم میں موجود کتب خانے کو ہندوستان بھر میں ایک انفرادی اہمیت ہے کیوں کہ اس میں 62 ہزار کتابیں موجود ہیں جو کہ اردو ، عربی ، فارسی ، ہندی ، تلگو ، گجراتی ، بنگالی ، ترکی اور پشتو زبانوں میں ہے ۔ اس کتب خانے میں اردو کی 16 ہزار کتابیں ہیں جب کہ عربی کی 2 ہزار اور فارسی کی 3 ہزار قدیم کتابیں ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا بھر اور خصوصاً ایشیائی ممالک کے اسکالرس روزانہ میوزیم کے اس کتب خانہ کا رخ کرتے ہیں اور گھنٹوں ان قدیم اور کمیاب کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے اپنی تحقیق کے لیے ایک جملہ ، ایک تاریخ ، ایک صفحہ نمبر اور ایک سطر کو حاصل کرتے ہیں ۔ اسکالرس کے علاوہ عوام کے لیے بھی یہاں کئی نادر قلمی نسخے موجود ہیں اور ان کی تعداد 365 ہے ۔ نادر اور کمیاب کتابوں میں 1200 سال قدیم قرآن حکیم بھی موجود ہے جو کہ خلافت عباسیہ کے دور کی ہے ۔یہ قرآن مجید خط کوفی میں ہے جو کہ ہرن کی جلد پر تحریر کی گئی ہے ۔ اس متبرک نسخے کے مشاہدہ کو عوام ایک اعزاز سمجھتی ہے ۔ جو دراصل 6×12 انچ کے سائز میں ایک سورۃ ہے ۔ سالار جنگ میوزیم میں شعبہ مخطوطات کے صدر جناب احمد علی نے راقم الحروف سے کتب خانے کی دیگر تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کتب خانے میں 8 ہزار مخطوطات ہیں ۔ جن میں 1250 مخطوطات واحد نسخہ ہیں ۔ قارئین آپ کو بتاتے چلیں کہ واحد نسخہ اسے کہتے ہیں جس کی نقل دنیا میں کہیں اور موجودنہیں ہوتی ہے جو آج کی عام فہم زبان میں ’ سنگل پیس ‘ کہا جاتا ہے ۔ ایران ، انقرہ اور اس طرح کے اہم مقامات کے ایسے نسخے بھی موجود ہیں جن میں 125 نسخوں میں تصاویر بھی موجود ہیں جو کہ صدیوں پرانی ہیں ۔ 92 فنون پر جو کتابیں یہاں موجود ہیں ان میں خاص طور پر تاریخ اور تاریخ اسلام کے موضوعات نمایاں ہیں ۔ ان تمام کو ڈیجٹیلائز کیا جارہا ہے اور اسکالرس کے لیے تو خوش خبری ہے کہ عنقریب یہ تمام آن لائن دستیاب ہوجائیں گی ۔ دریں اثناء انہوں نے کہا کہ نادر کتب خانہ ہونے کے باجود اس کے مشاہدے کے لیے دن بہ دن عوام کی گھٹتی تعداد مایوس کن ہے جب کہ صرف اسکالرس ہی اپنی تحقیق کی غرض سے اس کتب خانے کا رخ کرتے ہیں ۔ دنیا کی یہ سب سے بڑی سچائی ہے کہ جس نعمت کی قدر اور اس کا شکر نہیں کیا جاتا ہے وہ نعمت چھین لی جاتی ہے ۔ لہذا سالار جنگ میوزیم جو ہمارے لیے ایک عظیم اور بیش بہا ورثہ ہے اس کی قدر دانی یہی ہے کہ ہم اس کو قائم کرنے والے ہمارے حکمراں اور یہاں موجود نادر اشیاء اور کتب سے نوجوان نسل کو واقف کروائیں تاکہ ان میں بھی علم کا شوق اور اس کی قدر کرنے کا جذبہ پروان چڑھے ۔ واضح رہے کہ اس وقت سالار جنگ میوزیم کے مسٹر ناگیندر ریڈی انچارج ڈائرکٹر ہیں ۔ جب کہ جناب احمد علی نے 13 جولائی 2013 کو صدر شعبہ مخطوطات کا عہدہ سنبھالا ہے تاہم وہ گذشتہ 38 برس سے میوزیم سے جڑے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ ان کے والد یسین علی ( مرحوم ) بھی شعبہ فوٹو گرافی کے انچارج تھے ۔ سالار جنگ میوزیم کے اوقات صبح 10 بجے تا 5 بجے ہیں جب کہ جمعہ کو ہفتہ واری تعطیلات ہوتی ہے ۔ نیز داخلہ ٹکٹ بڑوں کیلئے 10 روپئے اور بچوں کے لیے 5 روپئے ہے ۔ گرمائی تعطیلات کی وجہ سے سالار جنگ میوزیم کا مشاہدہ ان دنوں روزانہ 10 تا 12 ہزار لوگ ک

TOPPOPULARRECENT