Wednesday , November 22 2017
Home / Mera Column / سالانہ امتحانات

سالانہ امتحانات

میرا کالم             سید امتیاز الدین
آج ہم ایک ایسے موضوع پر کالم لکھنے بیٹھے ہیں جس سے ہمارا علمی تعلق ختم ہوئے تقریباً نصف صدی گزر چکی ہے لیکن سالانہ امتحان کی ہیبت ہمارے دل میں ایسی بیٹھی ہوئی ہے کہ ابھی بھی ہم ایسے خواب دیکھتے ہیں کہ امتحان سر پر آچکا ہے اور ہم نے کچھ تیاری نہیں کی ہے ۔ پتہ نہیں کتنی دیر ہم نیند میں پسینہ پسینہ رہتے ہیں اور اگر حسن اتفاق سے ہماری آنکھ کھو لتی ہے تو ہم اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیںکہ نہ صرف ہم جتنا پڑھنا تھا پڑھ چکے اور جتنی نوکری کرنی تھی کرچکے۔ یہ تو تھی ہماری بات لیکن زندگی روپ بدل کر بار بار آتی ہے ۔ آج ہمارے پوتے امتحان دے رہے ہیں اورہمارا کام اتنا ہے کہ ہم انہیں اسکول لے جاتے ہیں اور اسکول سے لاتے ہیں۔ ہم جب اسکول کے طالب علم تھے تو یکم مارچ سے اسکولوں کے ا وقات صبح کے ہو جاتے تھے ۔ ہم کو صبح کے اوقات بہت اچھے لگتے تھے ۔ دوپہر میں ہم سوجاتے تھے اور راتوں میں کچھ زیادہ جاگتے تھے ۔ امتحان کے بعد جب اسکول بند ہوتا تھا تو پھر جون کی گیارہ کو کھلتا تھا ۔ اس سال سے نیا تعلیمی سال چند دنوں کیلئے اپریل میں ہی شروع ہورہا ہے ۔ پتہ نہیں اس میں کیا مصلحت ہے ۔ امتحان کے دنوں میں کھلنڈرے بچے بھی کھیل کود چھوڑ دیئے تھے لیکن آج کل بچے نہ ٹی وی کے پروگرام چھوڑتے ہیں اور نہ موبائیل فون ۔ جب ہم پرائمری اسکول کی جماعتوں میں تھے تو ہم نے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون کا نام بھی نہیں سنا تھا لیکن آج دوسری جماعت کا بچہ بھی کمپیوٹر کا امتحان دیتا ہے ۔ زمانہ روز بروز ترقی پر ہے ۔ بچوں کا طرز گفتگو گالیوں کے برمحل استعمال سے بہت مدلل اور پر زور ہوتا جارہا ہے ۔ امتحانات کا طریقہ بھی بہت اچھا ہوگیا ہے ۔ امتحان اور نتیجے کے بیچ میں ایک آدھ ہفتے کا وقفہ رکھا جاتا ہے تاکہ اگر کوئی لڑکا ایک یا ایک سے زیادہ مضمون میں فیل ہوجائے تو اسے دوبارہ امتحان دینے کا موقع مل جائے اور اس کا سال برباد نہ ہو ۔
یہ تو خیر طالب علموں کی تعلیمی زندگی کے امتحانات کا ذکر تھا لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو آدمی کیلئے زندگی قدم قدم پر ایک امتحان ہے ۔ جب ایک  نوجوان کم و بیش بیس ، پچیس برس دنیا بھر کے پاپڑ بیل کر فارغ التحصیل ہوتا ہے اور اپنے بل پر یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرتا ہے تب بھی اس کو اس بات کا کوئی یقین نہیں رہتا کہ اسے وطن عزیز میں ملازمت ملے گی یا اسے کسی بیرونی ملک میں جا کر قسمت آزمانی پڑے گی ۔ بیرونی ممالک کے دروازے بھی آہستہ آہستہ بھیڑے جارہے ہیں بلکہ ٹرمپ جیسے لوگ تو امریکہ کے دروازوں پر علی گڑھ کا تالہ لگا رہے ہیں۔

ہمارے ملک کی لڑکیوں کیلئے شادی بھی امتحان ہے۔ جب لڑکی کا رشتہ طئے پاتا ہے اور لڑکے والے اسے دیکھنے کیلئے آتے ہیں تو ان کے تیور ایسے ہوتے ہیں جیسے وہ کسی مقابلہ حسن میں جج کے فرائض انجام دینے کیلئے آئے ہوں۔ خیر سے شادی ہو بھی جائے تو دوسرا مرحلہ اولاد کاہوتا ہے کہ کتنی جلد ہوتی ہے ۔ حالانکہ اکثر شو ہر صاحب جائیداد نہیں ہوتے لیکن سوال وارث کا ہوتا ہے ۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ ان کی پہلی اولاد لڑکا ہو۔
آج کل سب سے بڑا سوپر امتحان ایک سال میں نہیں بلکہ پانچ سال میں ایک مرتبہ ہوتا ہے چاہے وہ اسمبلی الیکشن ہویا پارلیمنٹری الیکشن ۔ یہ امتحان الیکشن کا امیدوار بھی دیتا ہے اور ووٹ دینے والا شہری بھی ۔ کامیاب ایک امیدوار یا اُس کی پارٹی ہوتی ہے لیکن لاکھوں رائے دہندوں کی قسمت داؤ پر لگ جاتی ہے۔
یو پی کے انتخابات ہندوستان کی جمہوریت کیلئے ایک عجیب و غریب تجربہ ہیں۔ کامیاب ترین پارٹی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ اس کو ایسی کامیابی ملے گی ۔ خود وزیراعظم نے معلق اسمبلی کی پیش قیاسی کردی تھی ۔ اکھلیش یادو اور راہول گاندھی اپنے اتحاد کو نوجوانوں کی طاقت سے تعبیر کر رہے تھے ۔ یو پی کو یہ ساتھ پسند ہے کا نعرہ بالکل غلط ثابت ہوا ۔ پرشانت کشور نے 2014 ء کی کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھا تھا ۔ اس بار ان کے سہرے کے پھول کھل نہیں سکے ۔ ان کے بنائے ہوئے نغمے بے سرے ہوگئے ۔ اکھلیش اور ڈمپل نے بھائی اور بھابی کے رشتے کو خاندانی رنگ دینے کی کوشش کی لیکن یادو خاندان کی آپسی رنجشوں کا رنگ اتنا گہرا ہوگیا تھا کہ لوگ باپ بیٹے اور چچا بھتیجے کے جھگڑوں سے پریشان تھے۔ جو خاندان اپنے گھر کے جھگڑوں کو سلجھانے میں نا کام رہا ہو وہ اپنی ریاست کے جھگڑوں کو کیسے سلجھائے گا ۔ اس الیکشن میں لوگوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ لوگ سنگین جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں اور پو لیس انہیں کھلا چھوڑ دیتی ہے ۔ امیدوار جیل میں بیٹھ کر اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرتے ہیں اور اطمینان سے ہزاروں ووٹوں کی سبقت سے الیکشن جیت جاتے ہیں۔ تمام پارٹیاں (بی جے پی کے سوائے) اس اُمید پر بیٹھی تھیں کہ نوٹ بندی کی قطاروں میں کھڑے ہوئے مصیبت زدہ لوگ اپنے غصہ کا اظہار اپنی رائے دہی میں دکھائیں گے لیکن نوٹ بندی کی پریشانیوں کو جیسے سب نے دل و جان سے بھلادیا ۔ مایاوتی جی نے تو کسی پریشانت کشور جیسے پبلسٹی ایجنٹ کی خدمات بھی نہیں لیں بلکہ لکھی ہوئی تقریریں پڑھ پڑھ کر لوگوں کا دل جیتنے کی کوشش کرتی رہیں۔ اکھلیش یادو کو اچھی طرح معلوم ہوگیا ہوگا کہ کام بولتا ہے کا نعرہ اس لئے دیرپا نہیں ہوا کیونکہ لوگ کاموں کو ز یادہ دنوں تک یاد نہیں رکھتے۔ امیت شاہ اور مودی جی نے صدیوں کے آزمائے ہوئے فارمولے کو نئے انداز سے آزمایا۔ اگر قبرستان بنے گا تو شمشان بھومی بھی بننا چاہئے۔ ہم نے آج تک کبھی نہیں سنا کہ حکومت کی طرف سے نیا قبرستان بنا ہو یا نیا شمشان بنا ہو ۔ یہ بات سننے میں بھی عجیب لگتی ہے ۔ کیا آپ نے کبھی ایسا اشتہار دیکھا کہ کئی ایکر پر پھیلا ہوا ایک قطعہ زمین قبرستان یا شمشان  کے لئے مختص کیا گیا ہے جس کا افتتاح فلاں عزت مآب وزیر یا منتری جی کریں گے ۔ براہ کرم کثیر تعداد میں اس افتتاحی جلسے میں شرکت فرمائیں اور جلد سے جلد اس پرفضا مقام کو آباد کرنے کی کوشش کریں۔ شاید ہی کوئی کسی قبرستان کو آباد کرنے کی نیت سے ایسے کسی افتتاحی جلسے میں شرکت کرے گا۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ قبرستان یا شمشان بھومی کے اطراف چار دیواری اُٹھادی جائے تاکہ آوارہ جانوروں اور ا ٹھائی گیروں سے ایسی جگہیں محفوظ رہیں۔ اسی طرح یہ کہنا کہ اگر رمضان میں روشنی ہو تو دیوالی میں بھی روشنی ہو۔ رمضان میں لوگ صرف افطار اور تراویح کے وقت بلا وقفہ بجلی کی سربراہی چاہتے ہیں ۔ دیوالی روشنیوں کا تہوار ہے اور اس میں ز ائد بجلی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسے موضوع کو چھیڑنے کا جو مقصد تھا وہ اپنا کام کر گیا ۔
اکھلیش یادو نے  غیر ضروری طور پر گجرات کے گدھوں کا ذکر چھیڑ دیا جو ایک لحاظ سے فلاپ ہوگیا ۔ طلاق کے حساس مسئلہ کو چھیڑنے سے اگر مسلم خواتین نے بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا ہو تو ہم نہیں جانتے لیکن تین طلاق کا ذکر ہماری فلموں کی وجہ سے بھی مشہور ہوا ہے اور ہماری بدنامی کا سبب بنا ہے۔ ہمیں اپنے برادرانِ وطن کو سمجھانا چاہئے کہ طلاق ایک ناپسندیدہ اقدام ہے اور کوئی بھی یونہی طلاق نہیں دے دیتا جب تک حالات میاں بیوی کو مجبور نہ کردیں۔

یو پی کے نتائج سے صرف کسی ایک پار ٹی کی جیت ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے دور رس نتائج بھی ہوسکتے ہیں۔ ہر روز اخبار میں مسالخ کے بند ہونے کی خبریں آرہی ہیں۔ کسی گاؤں میں بعض لوگوں کے سماجی بائیکاٹ کی اطلاعات بھی آرہی ہیں۔
ہم نے کالم کی ابتداء طالب علموں کے سالانہ امتحان سے کی تھی ۔ پھر بات سیاستدانوں کے پانچ سالہ امتحان تک پہنچ گئی ۔ خدا وہ وقت نہ لائے کہ پرامن شہریوں کے روزانہ امتحان کا سلسلہ شروع ہوجائے ۔ یہ ملک صدیوں کے بھائی چارے اور ہم آہنگی ، صلح و آشتی سے عبارت ہے ۔ ہمیں امن اور بھائی چارے کی روایت کو ہر حال میں برقرار رکھنا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT