سالانہ 80 لاکھ روپئے تنخواہ کے لیے امریکی کمپنی کا پیشکش اللہ کا رحم : رحیم النساء

شیخ نصیر بابا کے گاوں سوریہ پیٹ میں خوشی کی لہر ، ہم نے اپنے بچوں کو زکواۃ لے کر تعلیم دلائی ، خوشی سے سرشار ماں سے بات چیت

شیخ نصیر بابا کے گاوں سوریہ پیٹ میں خوشی کی لہر ، ہم نے اپنے بچوں کو زکواۃ لے کر تعلیم دلائی ، خوشی سے سرشار ماں سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 5 ۔ دسمبر : ( محمد ریاض احمد ) : ناخواندگی ، غربت ، بیروزگاری اور بے حسی و کاہلی کی تباہ کن بیماریاں اگر کسی قوم میں سرائیت کر جائیں تو اسے دنیا کی کوئی طاقت تباہی و بربادی کی زد میں آنے سے نہیں بچا سکتی ۔ علم ہی ایسا واحد ہتھیار ہے جس کے ذریعہ نہ صرف مذکورہ تمام بیماریوں کا بلکہ تعصب ، جانبداری کا کامیاب مقابلہ کیا جاسکتا ہے لیکن حصول علم کے لیے جنون کی حد تک شوق چاہئے اپنے دل میں کچھ کرنے کی تمنا چاہئے اگر کسی قوم میں حصول علم کا شوق جنون میں تبدیل ہوجائے تو سمجھئے کہ خوشحالی ، ترقی ، کامیابی و کامرانی ، عزت و اکرام آگے بڑھ کر اس کے قدم چوم لیتے ہیں اور اس کے لیے نئی راہیں کھل جاتی ہیں ۔ سوریہ پیٹ نلگنڈہ کے ہونہار طالب علم شیخ نصیر بابا کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے ۔ انہوں نے غربت کا رونا رونے ، اپنے والدین کی قلیل آمدنی ، محدود وسائل اور کسمپرسی کی حالت پر توجہ دینے کی بجائے اپنی ساری توجہ حصول علم پر مرکوز کردی کیوں کہ انہیں اندازہ تھا کہ علم ہی کے ذریعہ ان کا اور ان کے والدین و بہنوں کا مستقبل روشن ہوسکتا ہے اور زندگی میں خوشحالی کی روشنی بکھر سکتی ہے نتیجہ میں آج انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کانپور ( آئی آئی ٹی کانپور ) کے اس قابل طالب علم کو امریکی کمپنی اوراکل نے ملازمت کا پیشکش کرتے ہوئے سالانہ 79.81 لاکھ روپئے تنخواہ کا پیشکش کیا ہے ۔ یعنی شیخ نصیر بابا کو ماہانہ 6.65 لاکھ روپئے تنخواہ حاصل ہوگی ۔ اس لڑکے نے اپنی تعلیمی صلاحیتوں کے ذریعہ نہ صرف غریب ماں باپ بلکہ سارے نلگنڈہ سارے سوریہ پیٹ اور سارے تلنگانہ کا نام روشن کرتے ہوئے یہ پیام دیا ہے کہ غربت حصول علم میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔ تاہم طلباء کو غیر ضروری چیزوں میں مشغول ہونے کی بجائے پوری طرح تعلیم میں منہمک ہوجانا چاہئے ۔ نونہالان ملت کے لیے ایک ماڈل کی حیثیت سے ابھرنے والے 20 سالہ شیخ نصیر بابا کی قابل فخر ماں رحیم النساء سے راقم الحروف نے بات کی ۔ بارگاہ رب العزت میں ہمیشہ اپنے بیٹے کی کامیابی و کامرانی کے لیے دست بہ دعا رہنے والی اس خاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر شیخ جمال الدین ایک مقامی گرانائیٹ فیکٹری میں پالش کا کام کرتے ہیں ۔ اس طرح اس کام سے انہیں ماہانہ تقریبا 5 ہزار روپئے تنخواہ حاصل ہوتی ہے جب کہ وہ خود اپنے گھر میں ٹیلرنگ اور ساڑیوں وغیرہ پر ذردوزی کا کام کرتے ہوئے ماہانہ 3 ہزار روپئے تک کما لیتی ہیں یہ خاندان کرایہ کے گھر میں مقیم ہے ۔ جس کا کرایہ 1000 روپئے ہے ۔ رحیم النساء کے مطابق غربت کے باوجود ہم نے اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہماری توجہ سے زیادہ بچوں نے محنت کی ہے ۔ وہ دو لڑکیوں اور ایک بیٹے ( شیخ نصیر بابا ) کی ماں ہے ۔ اپنے ٹیلرنگ کے کام سے متعلق رحیم النساء نے بتایا کہ پچھلے تیرہ برسوں سے وہ یہ کام کررہی ہیں ۔ ان کی بڑی بیٹی نسرین بیگم نے انٹر میڈیٹ کے بعد ٹی ٹی سی کا کورس مکمل کیا اور اسے سرکاری اسکول میں ٹیچر کی ملازمت حاصل ہوگئی ہے ۔ شیخ نصیر بابا کا دوسرا نمبر ہے ۔ تیسری اور چھوٹی بیٹی آفرین بیگم کو بھی نلگنڈہ ڈائٹ کالج میں میرٹ کی بنیاد پر داخلہ ملا ہے ۔ امید ہے کہ کورس کی تکمیل پر اسے بھی سرکاری ملازمت حاصل ہوجائے گی ۔ رحیم النساء نے مزید بتایا کہ انہوں نے صرف 7 ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور ان کے شوہر شیخ جمال الدین نے انٹر میڈیٹ کیا ہے ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس غریب جوڑے نے اپنے تینوں بچوں کو سوریہ پیٹ کے تلگو میڈیم اسکول نوودیا مندر میں ایس ایس سی تک تعلیم دلائی ۔ اپنے ہونہار بیٹے شیخ نصیر بابا کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ نصیر نے ایس ایس سی میں 600 نشانات میں سے 587 نمبرات حاصل کرتے ہوئے سال 2008-09 میں سارے آندھرا پردیش کے دس سرفہرست طلباء میں اپنا نام شامل کرایا تھا ۔ ان کے نور نظر کی علمی لیاقت کو دیکھتے ہوئے سری چیتنیہ حیدرآباد میں اسے مفت داخلہ دیا گیا ۔ اس ادارہ کی خوبی یہ ہے کہ وہاں طلباء کو آئی آئی ٹی کے لیے تیار کیا جاتا ہے ۔ جس طرح شیخ نصیر بابا نے ایس ایس سی میں امتیازی کامیابی حاصل کی ۔ انٹر میڈیٹ میں بھی وہ ریاست کے سرفہرست طلبہ میں شامل رہے اور آئی آئی ٹی کے داخلہ ٹسٹ میں سارے ملک میں 239 واں رینک حاصل کیا ۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ شیخ نصیر بابا اسکول میں جو پڑھایا جاتا تھا اسے اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھالیتے ۔ ان میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ نماز قضاء نہیں کرتے پنجوقتہ نمازی ہیں ۔ صوم و صلواۃ کی پابندی اور ماں باپ کی فرمانبرداری کے باعث ہی اللہ نے میرے بیٹے پر رحم کرتے ہوئے قابل بنایا ہے ۔ رحیم النساء نے بتایا کہ انہیں ان کے بیٹے نے جب بتایا کہ اسے اوراکل جیسی کمپنی نے سالانہ 79.81 لاکھ روپئے تنخواہ کی ملازمت کا پیشکش کیا ہے اسے سن کر انہیں بے انتہا خوشی ہوئی اور وہ سوچنے لگی کہ لوگوں کی زکواۃ حاصل کرتے ہوئے پڑھائی کے مصارف ادا کرنے والے اس خاندان پر اللہ تعالیٰ نے کیسا رحم کیا ہے ۔ جس پر اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔ گلوگیر لہجہ میں رحیم النساء نے بتایا کہ ہمیں غربت کے باعث بچوں کی تعلیم کے لیے زکواۃ کی رقم لینی پڑتی تھی ۔ کم از کم تین مرتبہ صاحب خیر حضرات سے زکواۃ حاصل کرتے ہوئے ان کے شوہر نے اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کئے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایس ایس سی میں امتیازی کامیابی کے بعد ٹی وی 9 میں ایک رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی کسی صاحب خیر نے دس ہزار روپئے زکواۃ کی رقم دی تھی ۔ اس طرح ہمدردان ملت کے تعاون سے ان کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد ملی ۔ رحیم النساء کے اس جواب پر ہم سوچنے لگے کہ کاش ملت میں زکواۃ کی رقم کا صحیح استعمال ہو خاص طور پر ایسے نادار بچوں کی تعلیم پر خرچ کیا جائے تو ایک تعلیمی انقلاب برپا ہوگا ۔ رحیم النساء کے مطابق ان کے بیٹے کو امریکی کمپنی کی پیشکش پر گاؤں میں محلہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی کے ارکان و مصلیوں میں بھی خوشی کی لہر دور گئی ہے ۔ بہر حال شیخ نصیر بابا ملت کے ہر طالب علم کے لیے ایک مثال ہے ۔ انہوں نے اپنی کامیابی سے یہ ثابت کردیا کہ تعلیم ہی غربت بر آسانی سے قابو پاسکتی ہے ۔ واضح رہے کہ شیخ نصیر بابا کمپیوٹر سائنس میں انجینئرنگ کے بی ٹیک کے سال آخر میں زیر تعلیم ہیں ۔۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT