Friday , December 15 2017
Home / مضامین / سال حال MBBS میں 600 مسلم طلبہ کو داخلے

سال حال MBBS میں 600 مسلم طلبہ کو داخلے

 

NEET کے رینک پر کونسلنگ ۔ تمام تین زمرہ جات کیلئے نئے قواعد
سیاست کی کونسلنگ کے دوررس نتائج

ایم اے حمید

تلنگانہ میں سال 2017 ء میں ایم بی بی ایس میں داخلے کیلئے قومی سطح کا انٹرنس NEET ہوا تھا اور اس کا انعقاد CBSE نے کیا تھا اور نئے طریقہ اور داخلے کیلئے نئے قوانین سے کئی مشکلات درپیش آئی۔ ادارہ سیاست کے تحت نیٹ کی مسلسل 50 دن تک روزانہ کونسلنگ، شخصی رہنمائی کی جاتی رہی نتیجہ میں ’A‘ زرہ میں گورنمنٹ اور نان میناریٹی میڈیکل کالجس میں 116 اور مسلم میناریٹی میڈیکل کالجس میں 214 طلبہ نے فری داخلے حاصل کیا اور بی زمرہ اور سی زمرہ میں 268 امیدواروں نے میڈیکل سیٹ پر داخلے لیا۔ اس طرح حیدرآباد اور تلنگانہ ریاست بھر میں سال 2017 ء میں 600 مسلم طلباء و طالبات نے ایم بی بی ایس میں داخلے لے کر اپنے ڈاکٹر بننے کی خواہش کی تکمیل کا آغاز کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال ایم بی بی ایس میں داخلے کیلئے تینوں زمرہ جات اے زمرہ، بی زمرہ اور سی زمرہ کیلئے کونسلنگ ہی رکھی گئی راست کالجس میں داخلہ پانے یا فارم بھرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا اور تینوں زمرہ کیلئے جہاں انٹرمیڈیٹ بی پی سی کامیابی کی شرط تھی وہیں پر نیٹ NEET میں کامیابی اور 720 نشانات کے پرچہ میں ہر صحیح جواب کے چار نشانات اور ہر غلط جواب پر ایک منفی نشان اور وہ بھی قومی سطح کے NCERT اور CBSE نصاب کے مطابق ہوئے امتحان تھا اور نتائج کے بعد نیٹ کے مارکس دیئے گئے اور Percentice دیا گیا۔ پھر آل انڈیا رینک پھر اسٹیٹ میں میرٹ لسٹ اور اسٹیٹ رینک میناریٹی طلبہ اپنے نشانات کیلئے میناریٹی رینک دیا گیا لیکن داخلہ بالکلیہ طور پر نیٹ کے مارکس اور آل انڈیا رینک ہی پر دیئے گئے۔ اس میں جو کامیابی یا اہلیت کے نشانات بنائے گئے وہ عام زمرہ کیلئے 720 کے منجملہ 131 نشانات پر Percentice 50 اور بی سی زمرہ OBC کیلئے 107 نشاناات پر اہل قرار دے کر کونسلنگ میں شرکت کے لئے طلب کیا گیا۔ تلنگانہ ریاست میں کونسلنگ کی ذمہ داری کے این آر کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلت سائنس ورنگل کو امتحان اور اس کے لئے اسنادات کی تصدیق کے دو کونسلنگ مراکز حیدرآباد میں عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں CDE میں اور جے این ٹی یو کوکٹ پلی میں بنائے گئے اور جو امیدوار کونسلنگ کے لئے رجسٹریشن کرواتے ہوئے اسنادات کی تصدیق کروایا صرف انھیں ویب آپشن کا موقع دیا گیا اور جو پہلے مرحلہ میں کونسلنگ میں داخلے کے لئے سیٹ الاٹمنٹ پر داخلے حاصل کئے انھیں دوسرے مرحلے کی کونسلنگ میں موقع دیا گیا ورنہ وہ کونسلنگ سے باہر ہوگئے۔ اس طرح بعض طلبہ رجسٹریشن نہیں کرائے داخلے نہیں لے سکیں اور بعض پہلی کونسلنگ سیٹ ملنے پر داخلہ نہیں لئے وہ دوسرے مرحلہ میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔ اب 600 مسلم طلبہ جو ڈاکٹر بن رہے ہیں اور جنھوں نے صرف تلنگانہ ریاست میں اس سال MBBS میں داخلے حاصل کیا۔ ان کے بارے میں نظر ڈالتے ہیں ماہ جون میں انٹرنس NEET کے نتائج آئے اور ماہ جولائی کے اواخر میں کونسلنگ ہوئی اور 31 اگسٹ کو داخلے مکمل ہوئے۔ نیٹ NEET کی تلنگانہ میں اے زمرہ کی جملہ چار مرحلے کی کونسلنگ ہوئی اور بی زمرہ مینجمنٹ کوٹہ اور سی زمرہ میں این آر آئی کوٹہ کے لئے بھی اسنادات کی تصدیق اور برسر موقع کونسلنگ میں سیٹ الاٹ کرتے ہوئے متعلقہ کالجس میں فیس داخل کرنے اور رپورٹ کرنے کو کہا گیا جبکہ اے زمرہ کے لئے ویب کونسلنگ تھی اور طلبہ کو ویب آپشن کے ذریعہ کالجس کا انتخاب کرنا تھا اور چوتھے مرحلہ کو PoP پاپ اب قرار دے کر جس کو سیٹ نہ ملی ہو صرف اُن کو ہی موقع دیا گیا۔ اس طرح اے زمرہ میں عثمانیہ میڈیکل کالج، گاندھی اور نان میناریٹی پرائیوٹ اور اضلاع کے گورنمنٹ کالجس میں جملہ 116 مسلم طلبہ کو عام زمرہ، بی سی ای زمرہ اور تحفظات میں ایم بی بی ایس میں داخلہ ملا اور تین مسلم میناریٹی میڈیکل کالجس میں 214 طلبہ کو اے زمرہ میں داخلہ ملا۔
میناریٹی میڈیکل کالجس میں دس فیصد نشستیں کم
ہائی کورٹ سے رجوع اور عبوری احکامات
تلنگانہ میں تین مسلم میناریٹی میڈیکل کالجس ہیں جو دکن میڈیکل کالج اے زمرہ 60 فیصد نشستیں، 90 اور شاداں میڈیکل کالج 60 فیصد 90 نشستیں اور ڈاکٹر وی آر کے ویمنس میڈیکل کالج 60 فیصد 60 نشستیں ہر سال دی جاتی ہے اور ان کے بی زمرہ کی فیس دیگر پرائیوٹ نان میناریٹی میڈیکل کالجس سے زیادہ ہے۔ بی زمرہ میں مسلم میناریٹی کالجس کی فیس 14 لاکھ روپئے ہے جبکہ نان میناریٹی پرائیوٹ میڈیکل کالجس کی فیس 11 لاکھ ہے۔ اس لئے یہاں اے زمرہ میں 60 فیصد نشستیں ہے اور نان میناریٹی کالجس میں اے زمرہ میں 50 فیصد نشستیں ہیں لیکن اس سال کے این آر یونیورسٹی آف ہیلت سائنس نے میناریٹی کالجس کے اے زمرہ کی 60 فیصد کوٹہ میں 10 فیصد کم کرتے ہوئے 50 فیصد کردیا جس کے لئے مسلم سرپرستوں نے معزز ہائی کورٹ سے رجوع ہوا ۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست نے بھی سرپرستی کی اور چیف منسٹر کو مکتوب لکھا۔ پھر معزز ہائی کورٹ نے ان تین مسلم میڈیکل کالجس کو اے زمرہ میں 10 فیصد بڑھانے کے احکامات صادر کئے۔ دوسری کونسلنگ اور تیسری کونسلنگ میں اس کا ذکر کیا لیکن اس پر پورا عمل نہیں ہوا۔ دکن میڈیکل کالج میں صرف 4 زائد نشستیں، شاداں میڈیکل کالج میں 7 نشستیں اور ڈاکٹر وی آر کے ویمن میڈیکل کالج میں 3 نشستیں دی گئی۔ اس طرح ہائیکورٹ کے 50 فیصد کو 60 فیصد کرنے پر 14 نشستوں کا اضافہ ہوا اور 26 نشستوں کا نقصان ہوا۔ کے این آر یونیورسٹی آف ہیلت سائنس کی کونسلنگ باقاعدگی سے پاک نہیں ری اور ایم سی آئی اور نیٹ کی ذمہ دار باڈی سی بی ایس ای ان عدلیہ کے احکامات پر عدم عمل آوری کے لئے متوجہ کرے گی تاکہ مستقبل میں 60 فیصد کوٹہ برقرار رہ سکے۔
600 مسلم طلباء کو اس سال MBBS میں داخلے کیلئے سیاست کی کونسلنگ نہایت مفید اور مددگار ثابت ہوئی۔ اے زمرہ میں تمام میڈیکل کالجس میں 332 طلبہ کو حکومت کی مقرر کردہ فیس پر داخلے ملا اور 268 مسلم طلبہ نے بی زمرہ اور سی زمرہ میں زائد مقرر کردہ فیس پر ذریعہ کونسلنگ داخلہ حاصل کئے۔

TOPPOPULARRECENT