Sunday , November 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / سال کے پہلے گرانڈ سلام آسٹریلین اوپن ٹورنمنٹ کا آج آغاز

سال کے پہلے گرانڈ سلام آسٹریلین اوپن ٹورنمنٹ کا آج آغاز

اینڈی مرے فائنل میں شکستوں کا سلسلہ روکنے کوشاں ۔ نڈال بھی چیلنج کیلئے تیار ۔ سیرینا بھی کامیابی کیلئے پر امید

ملبورن 15 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) سال کے پہلے گرانڈ سلام آسٹریلین اوپن کا کل آغاز ہونے والا ہے جس میں زبردست مقابلے دیکھنے میں آسکتے ہیں۔ مردوں کے زمرہ میں برطانیہ کے اینڈی مرے کل اپنے مقابلوں کا آغاز کرنے والے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آسٹریلین اوپن کے فائنل میں شکست کے طویل ریکارڈ کو ختم کیا جائے جبکہ ان کے کٹر مخالف نواک جوکووچ بھی اس سال کامیابی حاصل کرتے ہوئے آسٹریلین اوپن کی تاریخ میں عظیم کھلاڑی کی حیثیت سے اپنا نام درج کروانا چاہتے ہیں۔ خواتین کے زمرہ میں سریینا ولیمس اول نمبر سیڈ اینجلک کربر کی کامیابیوں کا سلسلہ روکنا چاہتی ہیں۔ سیرینا نے کہا کہ وہ اس سال آسٹریلین اوپن کا سنگلز خطاب جیتنے کا عزم لے کر یہاں آئی ہیں۔ سیرینا اس ٹورنمنٹ میں اپنا پہلا مقابلہ منگل کو سوئیٹزر لینڈ کی بیلنڈا بنسک کے خلاف کھیلنے والی ہیں جو ان کیلئے قدرے مشکل ہوسکتا ہے ۔ وہ چار ماہ تک کورٹ سے باہر رہنے کے بعد میدان پر آئی ہیں۔ برطانیہ کے اینڈی مرے آسٹریلین اوپن کے فائنل میں اب تک چھ مرتبہ شکست سے دوچار ہوچکے ہیں۔ 32 سالہ مرے آسٹریلین اوپن کی تاریخ میں اتنے زیادہ فائنل مقابلے ہارنے والے واحد کھلاڑی ہیں۔ ان کے کوچ ایوان لینڈل نے امریکی اوپن کے پانچ فائنل مقابلے ہارے تھے جس کے بعد انہوں نے نیویارک میں 1985 میں گرانڈ سلام میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ اینڈی مرے کل اپنا افتتاحی مقابلہ یوکرین کے الیا مارچینکو کے خلاف کھیلنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب بہتر موقف میں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ فائنل میں شکستوں کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے پہلی مرتبہ آسٹریلین اوپن گرانڈ سلام خطاب جیتیں۔ اس دوران اسپین کے رافیل نڈال نے بھی کہا کہ وہ اس سال یہاں بہتر مظاہرہ کیلئے پر عزم ہیں۔

انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پیٹھ کے درد کا تذکرہ کیا تاہم یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ اپنے نئے کوچ کارلوس مویا کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے گرانڈ سلام کیرئیر کو طوالت دینے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ زخموں کا شکار 30 سالہ اسپینی اسٹار نڈال نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے اس تکلیف کے ساتھ کھیل رہے ہیں لیکن انہیں امید ہے کہ وہ بڑے خطاب کی دوڑ میں دوسروں کو سخت چیلنج دینے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ اس سوال پر کہ آیا اب انہیں کوئی زخم نہیں ہے نڈال نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ وہ زخمی نہیں ہیں تاہم وہ تکلیف سے بھی آزاد نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ اب ایسے کوچ کے ساتھ ہیں جو ان کیلئے معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کے کوچ خود بہترین کھلاڑی رہے ہیں اور وہ ان کے کیرئیر میں فیصلہ کن رول ادا کرسکتے ہیں۔ اینڈی مری نے دوسری جانب کہا کہ اس بار وہ بھی پر اعتماد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے گذشتہ سیزن میں انہوں نے مظاہرہ کیا تھا اس سے انہیں اعتماد حاصل ہوا ہے ۔ وہ آسٹریلیا کے حالات سے مطمئن ہیں۔ یہاں انہوں نے کئی برسوں تک بہترین ٹینس کھیلی ہے ۔ وہ صرف فائنل رکاوٹ پار نہیں کرسکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ بہترین موقف میں ہیں تاکہ فائنل میں کامیابی حاصل کرسکیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس بار انہیں کامیابی حاصل کرنے کا اچھا موقع ہے ۔ مرے کیلئے 2016 کا سال بہترین رہا ہے ۔ اس سال میں انہوں نے دوسری مرتبہ ومبلڈن خطاب جیتا تھا ۔ وہ اولمپک خطاب کا دفاع کرسکے تھے اور پہلی مرتبہ جوکووچ کو پیچھے چھوڑ کر عالمی نمبر ایک مقام بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے ۔ خواتین کے زمرہ میں سیرینا ولیمس نے بھی اپنے عزائم واضح کردئے ہیں اور کہا کہ وہ یہاں کامیابی کیلئے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چار ماہ میدان سے دور رہیں لیکن اب زیادہ تر وقت میدان پر گذار رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں پہلے راونڈ میں ‘ دوسرے راونڈ میں یا کسی بھی راونڈ میں شکست کیلئے نہیں آئی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ میدان پر واپسی کرتے ہوئے وہ اچھا محسوس کر رہی ہیں اور کامیابی حاصل کرنے پر عزم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT