Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / سال 2017 میں وسط مدتی انتخابات کی پیش قیاسی

سال 2017 میں وسط مدتی انتخابات کی پیش قیاسی

چیف منسٹر کے سی آر کا ترقی کا نشانہ مزید بڑھ گیا ، محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد ۔ 3 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے آئندہ سال 2017 میں وسط مدتی انتخابات منعقد ہونے کی پیش قیاسی کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی یوم تاسیس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے اس کا اشارہ دیا ہے ۔ آج اسمبلی کے پریس کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ مختلف جماعتوں کے 23 ارکان اسمبلی اور 2 ارکان پارلیمنٹ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں جس میں کانگریس کے 6 ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں ۔ کانگریس کے علاوہ دوسری جماعتوں نے انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کرنے کی اسپیکر اسمبلی کو یادداشت پیش کرنے کے علاوہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں انہیں امید ہے ہائی کورٹ ان کے حق میں فیصلہ دے گا ۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد 23 اسمبلی اور 2 لوک سبھا کے منی انتخابات کرانا لازمی ہوجائے گا ۔ ریاست کے عوام نے 5 سال یعنی 2019 تک حکومت کرنے کا اختیار دیا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے ابھی تک 2017 تک ریاست کو فاضل برقی پیدا کرنے والے اسٹیٹ میں تبدیل کرنے اور ایک لاکھ ہیکڑ اراضی کو سیراب کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ لیکن تلنگانہ کے دوسرے یوم تاسیس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے ان وعدوں کے ٹارگیٹ کو بڑھا کر 2022 تک کردیا ۔ اس پر بحیثیت اصل اپوزیشن کانگریس کو تعجب ہوا کیوں کہ عوام نے ٹی آر ایس کو 2019 تک کے لیے اقتدار سونپا ہے اور چیف منسٹر 2022 کی باتیں کررہے ہیں کافی سونچنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہونچے ہے کہ 23 اسمبلی اور 2 لوک سبھا کے منی انتخابات سے بچنے اور عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہونے پر عوام کی برہمی اور ان کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے چیف منسٹر کے سی آر 2017 میں وسط مدتی انتخابات کی تیاریاں شروع کرچکے ہیں اور کانگریس پارٹی اس کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں عوام سے 182 وعدے کئے ہیں ۔ وہ فی الوقت اس پر کوئی روشنی ڈالنے کے بجائے 2 جون 2014 کو علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے موقع پر چیف منسٹر کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے سرکاری ایمپلائز کے لیے کئے گئے وعدے کی یاد دلاتے ہیں کے سی آر نے تلنگانہ کے سرکاری ملازمین کو مرکزی ملازمین کے طرز پر تنخواہیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اس پر آج تک عمل نہیں ہوا ۔ سرکاری ملازمین کو ہیلت کارڈس فراہم کرنے ڈبل بیڈروم فلیٹس فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ آج تک اس پر عمل آوری نہیں ہوئی ہے ۔ حیدرآباد کو گلوبل سٹی کے طرز پر ترقی دینے کا اعلان کیا تھا تاہم حال ہی میں 20 منٹ کی بارش سے سٹی کا کیا حال ہوا ہے وہ عوام جانتے ہیں ۔ 2 جون 2015 کی یوم تاسیس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے 25 ہزار سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر صرف 5 ہزار ملازمتیں ہی فراہم کی گئیں ۔ مسلمانوں اور قبائلوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا جس پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ۔ ابھی تک ٹی آر ایس کے دور حکومت میں ایک یونٹ برقی پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی ایک گز اراضی کو سیراب کیا گیا ہے ۔ کانگریس پارٹی نے ٹی آر ایس کے دو سالہ دور اقتدار میں ریاست کی ترقی پر خرچ کئے گئے فنڈز ، اس کے نتائج اور حاصل کردہ قرض پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا تھا ۔ حکومت نے یوم تاسیس تقریب کے موقع پر اخبارات کو 4 تا 6  صفحات کے اشتہارات مگر اصل اپوزیشن کے سوال پر اخبارات کے ذریعہ جواب دینا مناسب نہیں سمجھا خشک سالی دوسرے مسائل سے عوام پریشان ہے حکومت جشن کے نام پر کروڑہا روپئے ضائع کی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT