Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / سال 2020 ء تک تلنگانہ میں 1.24 لاکھ ایکڑ اراضی پر زراعت

سال 2020 ء تک تلنگانہ میں 1.24 لاکھ ایکڑ اراضی پر زراعت

چاول کے ساتھ دیگر اجناس کی پیداوار پر توجہ دینے پر زور، بھوپتی راجو ناگیندر کا توسیعی لکچر

حیدرآباد 4 مارچ (سیاست نیوز) کسی بھی ریاست کی ترقی میں شعبہ زراعت اور آبپاشی پراجکٹ کا اہم حصہ ہوا کرتا ہے۔ ان شعبہ جات میں علیحدہ ریاست تلنگانہ تشکیل پانے کے بعد مختلف فصلوں میں اہم اُمور انجام دیئے گئے۔ زراعت کے شعبہ میں ملازمتیں بھی فراہم ہوتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مسٹر بھوپتی راجو ناگیندر راؤ انجینئر اِن چیف (اڈمنسٹریشن) آبپاشی اور سی اے ڈی ڈپارٹمنٹ حکومت تلنگانہ نے آج شام دی انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرس انڈیا تلنگانہ کے زیراہتمام منعقدہ آنجہانی ڈاکٹر جے پرشوتم یادگار لکچر سے کیا۔ یہ لکچر وشویشوریہ بھون خیریت آباد میں منعقد ہوا۔ لکچر کی صدارت ڈاکٹر ایس ستیہ نارائنا صدرنشین آئی ای آئی تلنگانہ نے کی۔ ڈاکٹر بی رامیشور راؤ نے خیرمقدم کیا۔ مسٹر بھوشی دامو ناگیندر راؤ انجینئر اِن چیف نے کہاکہ اچھی زراعت کا انحصار نفع بخش بارش پر ہوا کرتا ہے اس لئے دیکھا گیا کہ ریاست کے بعض اضلاع اور دیہاتوں میں فصل کو جتنی بارش کی ضرورت تھی وہ ہو نہ پائی۔ انھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں زراعت کے لئے ذخائر آب میں پانی موجود ہے مگر اس میں بارش کی بھی بڑی اہمیت ہوا کرتی ہے جس سے پیداوار اور فصل و کاشت میں اضافہ ممکن ہے۔ انھوں نے کہاکہ ہر سال نلگنڈہ اور محبوب نگر کے دیہاتوں اور زرعی مقامات پر بارش کم ہی ہوتی ہے۔ سال 2013 ء اور سال 2014 ء میں بھی بارش میں اضافہ نہیں ہوپایا اور سال 2017 ء میں ماہ ستمبر میں بارش کا آغاز بعض اضلاع میں ہوا تو حکومت نے پانی کے ذخیرہ کے لئے جو واٹر ٹینکس بنائے تھے اُس میں پانی جمع نہ ہوسکا۔ انھوں نے سال 2018 ء کا تجزیہ کرتے ہوئے کہاکہ 49.30 ایکڑ اراضی پر چاول کے ساتھ گیہوں اور پھلی کی کاشت کی گئی اور گیہوں اور پھلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے اِس بات کا اظہار کیاکہ جون تا ستمبر فصل میں کمی واقع ہوگی اس لئے کہ ذخائر آب میں پانی کی بڑی کمی ہے اور توقع ظاہر کی کہ جون تا ستمبر جو بارش کے موسم میں پیداوار میں اضافہ ہو۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ چاول کی پیداوار کے ساتھ دیگر زرعی شعبہ میں حکومت دھیان دے تو اس کے نتائج ثمرآور ثابت ہوں گے۔ انھوں نے مچھلیوں کی افزائش پر حکومت توجہ مبذول کی ہے کہاکہ ڈائیری کی اشیاء میں حکومت 50 فیصد سبسیڈی دے رہی ہے۔ انھوں نے اپنے لکچر کے دوران اس اُمید کا اظہار کیاکہ سال 2020 ء تک ریاست تلنگانہ 1.24 لاکھ ایکڑ اراضی پر زراعت ہوگی۔ اگر حکومت زراعت کے شعبہ میں مزید دو لاکھ ملین سرمایہ کاری کی جائے تو اس بات کا امکان ہے کہ ریاست شعبہ زراعت میں نمبر ون ریاست کہلائے گی۔ ڈاکٹر جے اشون کمار نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT