Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / ساڑیوں کی تقسیم اسکیم کی جوڈیشیل تحقیقات کا مطالبہ

ساڑیوں کی تقسیم اسکیم کی جوڈیشیل تحقیقات کا مطالبہ

ناقص ساڑیوں کا انتخاب ، حقائق کو منظر عام پر لایا جائے : اپوزیشن

حیدرآباد 19 ستمبر (پی ٹی آئی) ریاست میں مفت ساڑیوں کی تقسیم کے پروگرام پر حکمراں ٹی آر ایس اور اپوزیشن میں لفظی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ بی جے پی اور سی پی آئی (ایم) نے اِس اسکیم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے بتکماں تہوار کے موقع پر کل مفت ساڑیوں کی تقسیم کا پروگرام شروع کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیاکہ غیر معیاری ساڑیوں کی تقسیم کے ذریعہ حکومت ریاست کے خواتین کی توہین کررہی ہے۔ ریاستی صدر بی جے پی کے لکشمن نے حکومت کے اِس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ٹکسٹائیل ٹاؤن سرسلہ سے یہ ساڑیاں حاصل کی گئی ہیں، یہاں کتنی تعداد میں ساڑیاں تیار ہوئیں اور حکومت نے کتنی ساڑیاں خریدیں، اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ سرسلہ میں بنکروں کو نہیں بلکہ فیاکٹری مالکین سے یہ ساڑیاں خریدی گئی ہیں۔ اِس کے علاوہ دیگر مقامات سے بھی ساڑیوں کی خریدی ہوئی۔ اُنھوں نے اِن تمام تفصیلات پر مبنی وائیٹ پیپر کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی صدر این اتم کمار ریڈی نے کہاکہ ٹی آر ایس حکومت خواتین کے احتجاج کے لئے کانگریس کو مورد الزام قرار دے رہی ہے۔ اس کے بجائے اُسے غیر معیاری اور ناقص ساڑیوں کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دینا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ کسی طرح بے قاعدگی نہیں ہوئی ہے تو پھر اُسے جوڈیشیل تحقیقات کرانی چاہئے۔ سی پی آئی (ایم) ریاستی سکریٹری ٹی ویرابھدرم نے بھی ساڑیوں کی خریدی کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ وزیر انیمل ہسبینڈری ٹی سرینواس یادو نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ ریاستی حکومت جب بھی کوئی کام کررہی ہے اُسے سیاسی رنگ دیا جارہا ہے۔ اپوزیشن قائدین کو یہ دیکھنا چاہئے کہ ریاستی حکومت کی اسکیمات پر اپوزیشن ارکان اسمبلی کے نمائندگی کرنے والے حلقوں میں بھی عمل ہورہا ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے 222 کروڑ روپئے کے مصارف سے تقریباً 1.04 کروڑ ساڑیوں کی غریب خواتین میں مفت تقسیم کا منصوبہ بنایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT