Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / ساکھ و اعتبار کی حفاظت میڈیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج

ساکھ و اعتبار کی حفاظت میڈیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج

کولھاپور 3 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہاکہ میڈیا اپنی ساکھ، صداقت اور اعتبار کا تحفظ کرنا ہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اُنھوں نے جمہوریت کی پاکیزگی کیلئے تنقید کی اہمیت پر زور دیا لیکن الزام تراشیوں کے عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ مراٹھی روزنامہ ’’پودھاری‘‘ کی پلاٹینم جوبلی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر

کولھاپور 3 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہاکہ میڈیا اپنی ساکھ، صداقت اور اعتبار کا تحفظ کرنا ہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اُنھوں نے جمہوریت کی پاکیزگی کیلئے تنقید کی اہمیت پر زور دیا لیکن الزام تراشیوں کے عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ مراٹھی روزنامہ ’’پودھاری‘‘ کی پلاٹینم جوبلی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہاکہ ’’اگر تنقید و مذمت نہ ہو تو جمہوریت جامد و ساکن ہوجائے گی۔ پانی اُس وقت صاف رہتا ہے جب تک وہ بہتا رہتا ہے اور جب اس کی روانی ختم ہوجاتی ہے اور ٹھہر جاتا ہے تو گندہ و آلودہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح تنقید بھی جمہوریت کو صاف کرنے کا بہترین طریقہ کار ہے‘‘۔ مسٹر مودی نے کہاکہ ’’تنقیدوں کا احترام کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ سچائی کے امتحان میں معاون ہوتا ہے اور غلط راستہ پر بھٹکنے سے روکتا ہے۔ میڈیا یہ خدمت انجام دے سکتا ہے۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایسی تنقیدیں نہیں ہورہی ہیں جس کے نتیجہ میں حکومت میں شامل افراد صحیح رہنمائی و مشوروں سے محروم ہورہے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہاکہ ’’یہ جمہوریت کی بدبختی ہے کہ یہاں بہت ہی کم تنقید اور بہت زیادہ الزام تراشیاں ہورہی ہیں اور یہ الزامات میں کہیں کا نہیں چھوڑ رہے ہیں‘‘۔ مودی نے کہاکہ ایک جمہوریت میں جہاں میڈیا کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے میڈیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنی ساکھ، صداقت و اعتبار کو برقرار رکھے۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’ایمرجنسی میں شخصی ہوس اقتدار کے سبب جمہوریت کی پامالی دیکھی گئی۔ اس کے خلاف آواز اُٹھانے والے اخبارات کی تالہ بندی کردی گئی اور ان کے مالکین کو جیل بھیج دیا گیا۔ اخبارات میں صرف وہی شائع ہوتا تھا جو حکومت چاہتی تھی۔ عوام کوجب یہ معلوم ہوا تو عوام نے اخبارات پڑھنا چھوڑ دیا تھا‘‘۔ وزیراعظم نے کہاکہ ایک جمہوری معاشرہ میں عوام محض حکومت کے وعدوں پر یقین کرنے تیار نہیں رہتے بلکہ دیگر ذرائع سے ان دعوؤں کی صداقت چاہتے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے یاد دلایا کہ ایمرجنسی کے دور میں میڈیا کے بعض گوشوں کے بارے میں بھی بدگمانیاں رہیں، کئی سال کی مساعی کے بعد میڈیا نے اپنی ساکھ و صداقت بحال کی۔ مسٹر مودی نے کہاکہ آج میڈیا کو ایسی صداقت و اعتبار حاصل ہے کہ عام آدمی اخبارات و دیگر ذرائع ابلاغ پر ہی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اُس کو سچ بتایا جائے۔ یہ ساکھ، صداقت و اعتبار، میڈیا پر بھاری ذمہ داری بھی عائد کرتے ہیں جن کا تحفظ میڈیا کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ وزیراعظم نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ اپنی تنقیدوں میں مزید شدت پیدا کریں۔ الزامات عائد کرنا آسان ہوتا ہے لیکن تنقید نگاری کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی حکومت پر جس حد تک تنقید کی جائے اس کی حکمرانی اس حد تک بہتر ہوسکتی ہے۔ نریندر مودی نے کہا تھا کہ عوام ’’سچی خبریں‘‘ چاہتے ہیں۔ اب وہ اچھی خبریں بھی چاہنے لگے ہیں جو میڈیا ادارے اس بات کو سمجھیں گے ان کی ساکھ و صداقت میں اضافہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT