Saturday , December 16 2017
Home / ادبی ڈائری / ساہتیہ اکاڈمی دہلی کے زیر اہتمام ہمہ لسانی محفل رپورتاژ

ساہتیہ اکاڈمی دہلی کے زیر اہتمام ہمہ لسانی محفل رپورتاژ

ڈاکٹر رؤف خیر
ساہتیہ اکاڈمی دہلی ملک کے مختلف مقامات اور یونیورسٹیوں میں ہمہ لسانی مشاعرے اور سمینار کرواتی ہی رہتی ہے تاکہ مختلف زبانوں کے لکھنے والوں کے سوچنے کے انداز سے قلم کار ایک دوسرے سے واقف ہوں ۔ مجھے اس سے پہلے بھی کئی بار مدعو کیا گیا ۔ اس بار ساہتیہ اکاڈمی دہلی نے اپنے سہ روزہ پروگرام کے لئے ڈبرو گڑھ یونیورسٹی آسام کا انتخاب کیا ۔ اس طرح مختلف علاقوں کے قلم کاروں کو ایک دوسرے سے ملنے کے ساتھ ساتھ نئے نئے مقامات دیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ ایسا ہی ایک ہمہ لسانی پروگرام 4 تا 6 ستمبر آسام میں تھا ۔
ساہتیہ اکاڈمی کے سکریٹری کے سری نواس راؤ صاحب نے مشاعرے میں اردو کی نمائندگی کے لئے ای میل کے ذریعے دعوت دی ۔ میرے بڑے بیٹے رافف خیری نے 5 ستمبر کی فلائٹ سے میری سیٹ بک کردی اور پھر واپسی 7 ستمبر کو طے ہوئی ۔ حیدرآباد سے دہلی پھر دہلی سے براہ کلکتہ ڈبرو گڑھ آسام 5 ستمبر کی دوپہر میں پہنچا ۔ ساہتیہ اکاڈمی کی طرف سے ایرپورٹ پر کار موجود تھی وہاں سے سیدھے نٹراج ہوٹل پہنچایا گیا جہاں ہمارے لئے کمرہ محفوظ کردیا گیا تھا ۔
پروگرام کے پہلے روز بعض مترجمین کی خدمات کے اعتراف میں انھیں انعامات و اکرامات سے نوازا گیا ۔ دوسرے اور تیسرے روز ہمہ لسانی کل ہند مشاعرے ہوئے جس میں مختلف علاقوں سے مختلف  زبانوں کے شاعروں نے اپنی اپنی منتخب تخلیقات پیش کرتے ہوئے ایک دو نظموں کے انگریزی تراجم بھی پیش کئے ۔
مشاعرے کے آغاز میں ساہتیہ اکاڈمی دہلی کے سکریٹری کے سری نواس راؤ صاحب نے ابتدائی کلمات کے ذریعے اپنے اسٹاف اور فن کاروں کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا جب کہ افتتاحی پروگرام کی صدارت ساہتیہ اکاڈمی کے صدر جناب وشوا ناتھ پرساد تیواری فرمارہے تھے اور مہمان خصوصی ڈبرو گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر آلک بروگو جین تھے ۔ ساہتیہ اکاڈمی دہلی سے وابستہ آسامی مشہور و ممتاز قلم کار محترمہ کرابی دیکا ہزاری نے اکاڈمی کے ایسے پروگراموں کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ قابل ذکر تخلیق کاروں کی بہت اہم تخلیقات کا ترجمہ چوبیس زبانوں میں اکاڈمی کے ذریعے کرکے فنکاروں کو پورے ملک سے متعارف کرایا جاتا ہے ۔ مہمان خصوصی وائس چانسلر سے پہلے صدر ساہتیہ اکاڈمی دہلی نے اپنے صدارتی خطبے میں فرمایا کہ فنکار کا کام اپنے آپ کا اظہار کرنا ہوتا ہے ۔ یہ پوری کائنات دیوتا کی کویتا ہے ۔ یعنیPoetry of God ۔ ہر شخص ہر جاندار ہر شئے اپنے آپ کو پہچنوانا چاہتی ہے اپنی اہمیت کا احساس دلانا چاہتی ہے ۔ کولرج کہتا ہے جو جتنا خود کو سلجھا لیتا ہے وہ اتنا ہی بڑا فنکار ہے ۔ کوی زبان کے انجماد کو توڑتا ہے ۔ اس کی تحریروں سے فنکاری کے چشمے پھوٹتے ہیں ۔ تخلیقی ادب میں سائنسی داب کے مقابلے میں اپنی شناخت بنوانے کے زیادہ مواقع ہیں ۔ انھوں نے اپنی تقریر میں میر و غالب و جگر کے برمحل اشعار بھی سنائے ۔ مثلاً جگر کا یہ شعر بھی انھوں نے پڑھا      ؎
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
سکریٹری صاحب نے صدر ساہتیہ اکاڈمی کو دعوت خطاب دیتے ہوئے ان سے نظموں کی گزارش بھی کی تھی  ۔ انھوں نے دو نظمیں سنائی جس میں ایک نظم کا عنوان تھا ’’کہاں دیکھا تھا اسے یاد نہیں آتا ہے‘‘
مہمان خصوصی پروفیسر آلک بروگو جین نے ساہتیہ اکاڈمی دہلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ اعزاز ڈبرو گڑھ یونیورسٹی کے حصے میں آیا کہ ملک کے مختلف حصوں سے تشریف لانے والے مترجمین ، شعراء ادباء کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا ۔ وہ ہر چند کہ سائنس کے آدمی ہیں پھر بھی شعر و ادب سے گہرا شغف ہے ۔ اس کے بعد محفل شعر سجائی گئی ۔ جبن نارا (آسامی) ، رتنیشور باسو ماترے (بوڈو) جی بی شرما (منی پوری) ارون چندر رائے (نیپالی) ایپا مادھون (ملیالم)کے وینکٹیشور ریڈی (تلگو) اور پھر رؤف خیر (اردو) نے اپنی اپنی تخلیقات سے رنگ جمایا ۔ میں نے اپنی دو نظمیں پناہ اور شاپنگ سنائی ۔ پناہ کا انگریزی ترجمہ جمیل شیدائی نے اور شاپنگ کا ترجمہ بلراج کومل نے جو کیا تھا وہ بھی سنادیا اور داد پائی ۔ اس کے بعد دو تین غزلوں کے منتخب اشعار سنا کر خوب داد پائی ۔ چونکہ اردو ایک ایسی زبان ہے جو ہندی ، نیپالی ، پنجابی ، آسامی وغیرہ وغیرہ سب سمجھ لیتے ہیں اس لئے سامعین میں موجود خواتین و حضرات اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے میری نظموں غزلوں کی بہت داد دی ۔ دو شعر ہیں ۔
گرفتاری کے سب حربے شکاری لے کے نکلا ہے
پرندہ بھی شکاری کی سپاری لے کے نکلا ہے
سنا ہے آپ وہاں بھی قیام کرتے ہیں
جہاں کبھی کوئی نیٹ ورک ہی نہیں لگتا
رات ساڑھے آٹھ بجے وائس چانسلر کی طرف سے ڈبرو گڑھ یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں ڈنر کا اہتمام کیا گیا ۔

دوسرے دن کا پہلا اجلاس بہت دلچسپ تھا جس کی صدارت پروفیسر ناگین سائیکیہ نے کی ۔ مختلف زبانوں کے چار اہم لکھنے والوں سے اپنے لکھنے کے محرکات پر روشنی ڈالنے کے لئے کہا گیا  ۔صدر اجلاس بجائے خود ناظم اجلاس بھی تھے ۔ سب سے پہلے ملیالم کے مشہور  وممتاز ناول نگار پی سچیدا نندم کو زحمت کلام دی گئی ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ تقریباً 53 سال بعد ڈبرو گڑھ آئے ہیں ۔ وہ آسام میں 1962ء میں انجینئر رہے ۔ 1965 ء میں وہ آرمی کمیشن میں کیپٹن تھے ۔ چین سے جنگ کے وقت ہندوستانی فوج پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئی تھی ۔
ان کے بعد بنگالی کے نقاد سِل ادتیہ سین نے کہا کہ وہ شروع ہی سے ویپوتی بھوشن کی تحریروں سے متاثر رہے جن کے ناولوں پر ستیہ جیت رے جیسے فلم ڈائرکٹر نے فلمیں بنائی ہیں جیسے پاتھر پنچالی وغیرہ ۔ ادتیہ سین نے کہا کہ میں ایک ایسی نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس نے نہ کوئی جنگ عظیم دیکھی نہ تقسیم کی اذیت جھیلی نہ فسادات ۔ انھوں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف بنگالی قلم کاروں کی تخلیقات ہی پڑھتے ہیں جو ان کی تحریروں کو باوقار بناتی ہیں ۔ وہ بنگلہ زبان سے ہٹ کر کسی اور زبان میں نہیں لکھتے (ہر چند کہ یہ مضمون انھوں نے انگریزی میں لکھ کر سنایا)
منی پوری کے ڈاکٹر ارون گھن دیون سنگھ نے کہا کہ وہ جب بھی موقع ملتا ہے لکھتے پڑھتے ہیں ۔ وقت گزارتے رہے ہیں کہا کہ شاعری میرے دل کی آواز ہے اور اس صدا آلودگی Noise pollution کے دور میں اپنی آواز بنانا بہت مشکل ہے ۔ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ہی ہمارے ہونے کا ثبوت ہے  ۔

مراٹھی کے رنجن گواس نے اپنا مضمون ہندی میں سنایا ۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کو زبردستی اسکولوں میں شریک کروادیا جاتا تھا ۔ میں بھی ایسا ہی بچہ تھا ۔ میٹرک تک کویتائیں پڑھ پڑھ کر ہم بھی کوی ہوگئے  ۔کالج میں آئے تو استادوں نے ہمیں آندولنوں میں ڈھکیلا ۔ ہم نے بھی دیوداسی اندولن چلایا ۔ لوگ سمجھتے تھے کہ مراٹھی ادب صرف پونے اور بمبئی ہی میں لکھا جاتا ہے حالانکہ دیہاتوں میں بھی کئی لکھنے والے تھے  ۔ مہاتما پھولے نے انقلابی فکر دی ۔ امبیڈکر نے بہوجن سماج میں ہنگامی مچادیا ۔ پنڈلک نائک کی صدارت میں کہانی سیشن ہوا ۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کہانی سگریٹ جیسی ہو جس میں اچھا تمباکو ہو اور سگریٹ جھٹکے سے ختم ہو تو پتہ چلتا ہے کہ اچھا سگریٹ ختم ہوگیا اس طرح کہانی بھی جھٹکے سے ختم ہونی چاہئے ۔ دادی ماں پہلے کہانی سناتی تھی کہ بچوں کو نیند آجائے ۔ آج کہانی نیند اڑادیتی ہے ۔ پنڈلک نائک نے ڈبرو گڑھ کے مشہور کہانی کار سید عبدالقدوس ملک کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ بھوپن ہزاریکا کو بھی یاد کیا گیا ۔
اڑیا کے واحد کہانی کار ڈاکٹر دیباسس پنی گریہی ۔ اڑیہ کٹک میں انسپکٹر جنرل آف پولیس IG ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ناز ہے کہ میں اڑیا کا نمائندہ افسانہ نگار ہوں ۔ انھوں نے ایک پتے کی بات کہی کہ آپ اپنی مادری زبان میں بھلے ہی اچھے تخلیق کار ہوں آپ کی شناخت اس وقت بنتی ہے جب آپ کی تخلیقات کا ترجمہ دوسری زبانوں میں ہوتا ہے اور وہاں پذیرائی ملتی ہے ۔ تب گھر والوں کو احساس ہوتا ہے ۔ اس جذبے کے تحت ڈاکٹر دیباسس پنی گریہی نے اپنی اڑیا کہانیوں کا انگریزی ترجمہ Things left unsaid شائع کروایا ۔ میں نے جب شعر سنائے تھے تو ایک شعر یہ بھی پڑھا تھا۔
کھلے گا ان پہ جو بین السطور پڑھتے ہیں
وہ حرف حرف جو اخبار میں نہیں آتا
میں نے اپنے شعر کی انگریزی میں صراحت کی تھی کہ اصل مواد تو Between the lines ہوتا ہے ۔ میرے شعر کی آئی جی دیباسس نے بڑی تعریف کی اور خاص طور پر اپنی انگریزی کتاب اپنے دستخط سے مجھے عنایت کی ۔ اس سیشن میں انھوں نے اپنی ایک کہانی ’درگا موسی‘‘ بھی سنائی جو بہت متاثر کن ثابت ہوئی ۔ راجستھانی کے مشہور و ممتاز شاعر چندر پرکاش دیول کی صدارت میں دوسرا مشاعرہ ہوا جس میں موہن سنگھ نے ڈوگری میں نظم مرغا جگاتا ہے ، سنجیو والا نے گجراتی میں ، سوپربھا جھا نے میتھلی میں ، شریمتی جئے شری چٹوپادھیائے نے سنسکرت میں ، ست پال نے پنجابی اور ہریش کرم چندانی نے سندھی میں نظمیں سنائیں ۔
صدر مشاعرہ چندر پرکاش دیول نے اپنی راجستھانی نظموں کا ہندی ترجمہ سنا کر محفل کو گرمادیا ۔ انھوں نے قلعے کے اندر بے کار پڑی توپ کے احساسات کو ’’توپ نامہ‘‘ کے نام سے کئی نظموں میں بیان کیا ۔ ایسی خوبصورت نظموں کے ساتھ یہ محفل اختتام کو پہنچی ۔ میں ممنون کرم ہوں ساہتیہ اکاڈمی دہلی کا کہ مجھے مختلف زبانوں کے مخلص فن کاروں کی شاہ کار تخلیقات سے استفادے کا موقع دیا اور وہاں اپنی تخلیقات سے متاثر کرنے کا موقع بھی دیا ۔

TOPPOPULARRECENT