Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ساہتیہ ایوارڈس واپس کرنے والوں کی ستائش

ساہتیہ ایوارڈس واپس کرنے والوں کی ستائش

این ڈی اے حکومت کے منہ پر طمانچہ، محمد فاروق حسین کا ردعمل
حیدرآباد /16 اکتوبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے ساہتیہ ایوارڈ واپس کرنے والوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان ادیبوں نے ملک کا سر فخر سے بلند کردیا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے، آزادی کے 60 سال بعد بی جے پی کو یقیناً مرکز میں واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے، مگر ملک کے سیکولر ذہنیت رکھنے والے عوام، ادباء اور شعراء وغیرہ ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے کے خلاف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے 24 ادیبوں نے اخلاق کے قتل کے خلاف احتجاجاً ساہتیہ اکیڈمی کے ایوارڈس واپس کردیئے، جو بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ نریندر مودی جب گجرات کے چیف منسٹر تھے تو گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور جب سے نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں، ملک کی ہندوتوا طاقتیں ملک کے امن و امان کو بگاڑنے کے درپے ہیں، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ایک منظم سازش کے تحت ہراساں کیا جا رہا ہے، جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں فرقہ پرست طاقتوں کو جکڑکر رکھا گیا تھا اور سیکولرازم کو فروغ دیتے ہوئے بھائی چارگی کے ماحول کو پروان چڑھایا گیا، تاہم جب سے مرکز میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت تشکیل پائی ہے، ملک کو ہندو راشٹرا میں تبدیلی کے منصوبہ پر عمل کیا جا رہا ہے اور حکومت کا ریموٹ کنٹرول آر ایس ایس کے ہاتھ میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ نصاب تعلیم کو زعفرانی رنگ دیا جا رہا ہے، لوجہاد اور گھرواپسی کے بعد بیف پر امتناع کا تماشہ کرکے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جب کہ وزیر اعظم مودی خاموشی اختیار کرکے ہندوتوا طاقتوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اقلیتوں کے خلاف ہونے والے حملوں پر صدر امریکہ بارک اوباما نے ردعمل ظاہر کیا، تاہم نریندر مودی ان واقعات پر لب کشائی سے گریز کر رہے ہیں۔ انھوں نے سیکولر ذہنیت کی حامل تمام شخصیتوں سے اپیل کی کہ وہ ساہتیہ ایوارڈس واپس کرنے والے ادیبوں کا احترام کریں اور سیکولرازم کے استحکام کے لئے اپنی ذمہ داری نبھائیں۔

TOPPOPULARRECENT