Sunday , January 21 2018
Home / ہندوستان / سبرتا رائے 40 دن پیرول کے خواہاں

سبرتا رائے 40 دن پیرول کے خواہاں

نئی دہلی ۔ 3 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) سہارا گروپ کے سربراہ سبرتا رائے نے ‘ جو گذشتہ چار ماہ سے جیل میں ہیں ‘ آج سپریم کورٹ میں درخواست کی کہ انہیں کم از کم 40 دن کیلئے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ وہ اپنی جائیدادیں فروخت کرکے 10,000 کروڑ روپئے جمع کرسکیں ۔ یہ رقم جمع کرنے پر انہیں عدالت سے ضمانت مل سکتی ہے ۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ وہ نیویارک

نئی دہلی ۔ 3 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) سہارا گروپ کے سربراہ سبرتا رائے نے ‘ جو گذشتہ چار ماہ سے جیل میں ہیں ‘ آج سپریم کورٹ میں درخواست کی کہ انہیں کم از کم 40 دن کیلئے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ وہ اپنی جائیدادیں فروخت کرکے 10,000 کروڑ روپئے جمع کرسکیں ۔ یہ رقم جمع کرنے پر انہیں عدالت سے ضمانت مل سکتی ہے ۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ وہ نیویارک اور لندن میں لکژری ہوٹلس فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی قیادت والی ایک بنچ نے تاہم سہارا کی جانب سے بین الاقوامی جائیدادوں کی فروخت کے تعلق سے اندیشے ظاہر کئے اور کمپنی سے کہا کہ وہ پہلے اندرون ملک اپنے اثاثہ جات کو فروخت کرے ۔ سبرتا رائے کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے وکیل راجیو دھون نے تاہم کہا کہ اندرون ملک سہارا گروپ کی جو جائیدادیں ہیں ان کی فروخت سے 5,000 کروڑ روپئے بھی حاصل نہیں ہو پائیں گے اور انہوں نے عدالت سے خواہش کی کہ ان کے موکل کو نیویارک میں ڈریم ڈاؤن ٹاؤن اور پلازا ہوٹل اور لندن میں گراسوینر ہاوز ہوٹل فروخت کرنے کی اجازت دی جائے ۔ ان جائیدادوں کی فروخت کیلئے بات چیت پہلے ہی سے جاری ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اسے ان جائیدادوں کی فروخت پر کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم یہ کام شفاف انداز میں ہونا چاہئے اور جائیدادوں کی مالیت کو کم کرکے نہیں دکھایا جانا چاہئے ۔ عدالت نے اس سلسلہ میں سکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا سے تجاویز طلب کی ہیں اور کہا کہ یہ دیکھا جانا چاہئے کہ اس میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے ۔

میٹرو ٹرین کے کوچس
میں بارش کا پانی
ممبئی۔/3جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) ممبئی میں ہوئی حالیہ شدید بارش نے جہاں کئی علاقوں کو زیر آب کیا ، ٹرین اور سڑک خدمات کو متاثر کیا وہیں گذشہ ماہ شروع کی گئی میٹرو ٹرین کی چھت سے بھی پانی کا اخراج ہونے لگا جو دراصل ایر کنڈیشنڈ فراہم کرنے کیلئے خلاء میں سے اندر ٹپکنے لگا ، جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اپنے آپ کو بچانے کیلئے کمپارٹمنٹ میں اِدھر سے اُدھر دوڑتے نظر آئے۔ اس واقعہ سے حکام کی قلعی کھل گئی کہ میٹرو ٹرین کے کوچس کا موازنہ دنیا کی کسی بھی ٹرین کے عصری نوعیت سے تعمیر کردہ کوچس سے کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT