Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / سبزی اور میوؤں کی بڑھتی قیمتوں سے عام شہری پریشان

سبزی اور میوؤں کی بڑھتی قیمتوں سے عام شہری پریشان

ترکاریاں غریبوں کی دسترس سے باہر ، مہنگائی دہشت گردی کے مترادف عوام کا تاثر

ترکاریاں غریبوں کی دسترس سے باہر ، مہنگائی دہشت گردی کے مترادف عوام کا تاثر
حیدرآباد ۔ 14 ۔ جولائی : ساری دنیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں ۔ ان کے خیال میں دہشت گردی پرامن دنیا کے لیے بہت خطرناک ہے اور دہشت گردوں کے مکمل صفائے تک دنیا میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن دنیا نے اب تک دہشت گردی کی حقیقی طور پر تشریح نہیں کی ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں چنانچہ ہمارے خیال میں دہشت گردی کئی قسم کی ہوتی ہے تو پھر ہمارے ملک بالخصوص شہر حیدرآباد میں بڑھتی مہنگائی بھی شائد دہشت گردی کی ایک قسم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کے باعث عوام میں بے چینی ، فکر مندی اور دہشت پھیلی ہوئی ہے ۔ غریب تو دور متوسط خاندان بھی فی الوقت سبزی اور میوے خریدنے کے موقف میں نہیں ۔ ترکاریوں کی قیمتیں تو آسمان کو چھو رہی ہیں ۔ راقم الحروف نے شہر کی مختلف سبزی مارکٹوں کا جائزہ لیا دیکھا کہ لوگ مہنگائی کے نتیجہ میں بہت پریشان ہیں ۔ کچھ دن تک انہیں پیاز رلاتی رہی لیکن اب وٹامن سے بھر پور سبزیاں ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہونے کا باعث بن رہے ہیں ۔ مادنا پیٹ سبزی مارکٹ کے تاجرین کا کہنا ہے کہ مانسون کی آمد کے باوجود ناکافی بارش کے نتیجہ میں سبزیوں اور میوؤں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے ۔ جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ ایک اور تاجر نے بتایا کہ رمضان شریف میں مسلمان سبزیاں اور میوے بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ایسے میں اس ایک ماہ کے دوران بھی قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے ، رمضان کا ایک مہینہ کمانے کا مہینہ ہوتا ہے ۔ ہم نے دیکھا کہ اس سبزی مارکٹ میں بھینڈی 36 روپئے ، دونڈا 15 روپئے ، بیگن 20 روپئے ’ نیم چڑھا کریلا ‘ محاورہ کے مصداق کریلے کی قیمت 40 روپئے ، بنیس کی پھلی 60 روپئے ، گنوار کی پھلی 20 روپئے ، سیم کی پھلی 50 روپئے ، اروی 30 روپئے ، موٹی مرچ 55 روپئے ، ہری مرچ 50 روپئے ، گاجر 50 روپئے ، کھیرا 30 روپئے ، ترائی 40 روپئے ، چقندر 40 روپئے ، آلو 28 روپئے ، پتہ گوبھی 25 روپئے ، ٹماٹر 40 روپئے ، لوھیا 40 روپئے ، چگور 50 روپئے اور پیاز 25 تا 30 روپئے فی کیلو فروخت کی جارہی ہے ۔ جب کہ ادرک لہسن ( مکس ) 60 روپئے اور چھلا ہوا 100 روپئے کلو دستیاب ہے ۔ سوجنی کی پھلی اب 20 روپئے میں 5 ، مولی 20 روپئے میں 3 ، لیمو 10 روپئے کے پانچ 10 کے تین پودینہ ، دس کے چار کٹے کریاپات ، 10 روپئے کے 8 کٹے کوتھمیر ، پالک کی بھاجی 10 روپئے کے دس کٹے ، امباڑھے کی بھاجی 10 روپئے میں دس کٹے فروخت کئے جارہے ہیں ۔ ہم نے عام شہریوں سے بات کی خانگی خدمات انجام دینے والے فیروز علی نے بتایا کہ بڑھتی قیمتوں نے غریبوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے ۔ تنخواہیں کم اور مہنگائی زیادہ کے نتیجہ میں غریب اور متوسط طبقہ معیاری غذاؤں سے محروم ہورہا ہے ۔ سرکاری ملازم محمد ساجد کا کہنا ہے کہ پہلے 100 روپئے میں ترکاریوں سے تھیلیاں بھر جاتی تھیں لیکن آج 300 روپئے میں بھی ایک تھیلی نہیں بھررہی ہے ۔ ہم تو بنیس اور سیم کی پھلی خریدنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔ ملک پیٹ کے رہنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ ہر ہفتہ سبزی خریدی کے لیے مادنا پیٹ سبزی مارکٹ آتے ہیں لیکن وہ دیکھ رہے ہیں کہ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے اور ترکاریوں اور میوہ جات کی قیمتیں سن کر عوام پر ایک قسم کی دہشت طاری ہورہی ہے ۔ اگر کچھ عرصہ تک یہی حال رہا تو پھر غریب عوام کے چولہوں پر دال کی ہینڈیاں نظر آئیں گی ۔ ملک کے سیاسی حالات پر گہری نظر رکھنے والے ایک صاحب نے مہنگائی کے لیے مودی حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت بھی اسی صورتحال سے دوچار ہوگئی جس طرح یو پی اے حکومت اقتدار سے محروم ہوئی ہے ۔ اس حکومت کو صرف اور صرف مہنگائی لے ڈوبی اور اب مودی حکومت بھی اسی راہ پر گامزن دکھائی دیتی ہے ۔ مہنگائی سے متعلق عوام کی برہمی کو دیکھ کر ہمیں آج کل سوشیل میڈیا پر پیش کئے جارہے لطائف میں سے ایک لطیفہ یاد آیا جو اس طرح ہے ’ شوہر نے اپنی بیوی سے بڑے پیار سے کہا میں تمہارے لیے سونے کے زیورات لاؤں گا ‘ فلاں فلاں چیزیں آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا ۔ اپنے شوہر کے بلند بانگ دعوؤں اور وعدوں کو سن کر وہ بھڑک اٹھی اور کہا ’ شوہر ہی رہو بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے مودی مت بنو کیوں کہ مودی نے وعدے تو بڑے کئے لیکن انہیں وفا نہیں کیا ۔ اس بے چارے نے ہندوستانیوں کو اچھے دن کا نعرہ دیا لیکن اب ہندوستانیوں کے لیے اتنے برے دن آگئے ہیں کہ وہ سبزی اور میوہ خریدنے کے موقف میں نہیں ، کیوں کہ مہنگائی نے ان کی کمر توڑ ڈالی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT