Wednesday , December 12 2018

سبسیڈی اور سرکاری اسکیمات سے استفادہ کیلئے 19 اگست کا گھر گھر سروے میں حصہ لینا ضروری

تلنگانہ کے دیگر اضلاع اور حیدرآباد میں مسلمانوں کے لیے اہم موقع حیدرآباد ۔ 8 ۔ اگست : تلنگانہ بھر میں 19 اگست کو عوام کا جو خصوصی سروے

تلنگانہ کے دیگر اضلاع اور حیدرآباد میں مسلمانوں کے لیے اہم موقع
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اگست : تلنگانہ بھر میں 19 اگست کو عوام کا جو خصوصی سروے
Samagrah Kutamba Survey ہونے والا ہے ۔ اس بارے میں عوام خاص کر اقلیتوں میں شعور کی بیداری بہت ضروری ہے کیوں کہ اقلیتیں بالخصوص مسلمان معاشی تعلیمی سیاسی اور سماجی ہر لحاظ سے پسماندہ ہیں ۔ ان کی معاشی و تعلیمی پسماندگی کا حال یہ ہے کہ وہ ملک کا سب سے پسماندہ طبقہ ہیں ۔ اسی طرح سیاسی شعبہ میں بھی ملک کی اس سب سے بڑی اقلیت کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ان حالات میں حکومت تلنگانہ نے گھر گھر سماجی و معاشی سروے کا جو اعلان کیا ہے وہ بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ اس سروے کی بنیاد پر ریاست میں آبادی ، عوام کے سماجی و معاشی موقف وغیرہ کا تعین کرتے ہوئے سبسیڈی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ حکومت اور سرکاری عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ سیول سپلائز / غذائی سبسیڈی پر 1400 کروڑ روپئے صرف کئے جارہے ہیں جب کہ وظیفہ پیرانہ سالی و وظیفہ معذورین اور بیواؤں کو دئیے جانے والے پنشن ( وظائف ) پر خرچ کی جانے والی رقم 4000 کروڑ روپئے تک پہنچ جائے گی ۔ اسی طرح فیس باز ادائیگی اسکیم کے باعث حکومت پر 6200 کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہوگا ۔ ایسی صورتحال میں ریاستی حکومت 19 اگست کو گھر گھر سروے کرتے ہوئے مستحق شہریوں کو سبسیڈی کے ثمرات سے مستفید کرانے کی خواہاں ہے ۔ اس سروے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں جس فارم کی خانہ پری کی جائے گی اس میں آپ کی آمدنی ، عمر ، مذہب ، پیشہ ، ذات پات ، تعلیم ، نوکری ( ملازمت ) وغیرہ کی تفصیلات درج کی جائیں گی ۔ 19 اگست کو گھر گھر پہونچکر سرکاری ملازمین بشمول بلدی ملازمین و اساتذہ جن فارمس کی خانہ پری کرائیں گے ان میں یہ پوچھا جائے گاکہ آپ کے پاس ایل پی جی کنکشن ( گیس سیلنڈر ہے یا نہیں ) ، آپ کس ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب مسلم اقلیتیں ہی دے سکتی ہیں کہ وہ معاشی طور پر انتہائی پسماندہ ہیں ۔ مسلمانوں میں بیاک ورڈ کلاس بھی ہیں اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے زمرہ میں آنے والے لوگ بھی ہیں جو ای بی سی سرٹیفیکٹس حاصل کرسکتے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سروے میں یہ بھی پوچھا جائے گا کہ آپ انکم ٹیکس ادا کرنے والے ہیں یا نہیں ۔ آیا آپ بنک اکاونٹ رکھتے ہیں اور رکھتے ہیں تو اس بنک کی برانچ کہاں ہے اور اکاونٹ نمبر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ وظیفہ پیرانہ سالی ، وظیفہ معذورین اور وظیفہ بیوگان کے بارے میں بھی فارم میں اندراج عمل میں آئے گا ۔ آدھار کارڈ کی تفصیلات حاصل کی جائیں گی ۔ اگر جسمانی طور پر معذور ہیں تو اس کا سرٹیفیکٹ طلب کیا جائے گا ۔ سروے میں یہ بھی پوچھا جائے گا کہ آیا آپ ایک طویل مدت سے بیمار تو نہیں ؟ کیا آپ ذاتی مکان میں رہتے ہیں یا کرایہ کے گھر میں مقیم ہیں ؟ کیا آپ کے گھر میں برقی کنکشن ہے اور اگر ہے تو میٹرکا نمبر کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق فارم میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنے گھر میں اے سی لگایا ہے یا نہیں ؟ کہیں آپ دوسری ریاست سے یہاں منتقل تو نہیں ہوئے ۔ آپ کونسی زبان بولتے ہیں اور حیدرآباد منتقلی کس برس اور کس ماہ میں ہوئی ہے ۔ واضح رہے کہ جی ایچ ایم سی ( مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ) کے حدود میں ایک لاکھ سے زائد ملازمین تقریبا 20 لاکھ گھروں کا سروے کریں گے ۔ عوام میں اس تعلق سے شعور بیدار کرنے کے لیے اعلیٰ عہدہ دار 17 اور 18 اگست کو گھروں کے دورے کریں گے ۔ 17 اگست کو یہ عہدہ دار اپنے دورہ کے دوران عوام کو بتائیں گے کہ وہ 19 اگست کو ہونے والے سروے کے لیے کونسے دستاویزات تیار رکھیں ۔ مثال کے طور پر راشن کارڈس ، آدھار کارڈ ، کاسٹ سرٹیفیکٹس ، ایل پی جی کنکشن ، وظیفوں اور دیگر دستاویزات تیار رکھنا ضروری ہے ۔ 2011 کی مردم شماری میں جی ایچ ایم سی کی آبادی 77 لاکھ بتائی گئی تھی ۔ کمشنر بلدیہ مسٹر سومیش کمار کے مطابق اب جی ایچ ایم سی حدود کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے ۔ شہر کی مذہبی ، سیاسی ، سماجی و ثقافتی تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس سروے کے تعلق سے مسلمانوں کو کسی قسم کی غفلت نہیں برتنی چاہئے کیوں کہ ہر لحاظ سے مسلمان ہی سب سے زیادہ پسماندہ ہیں ۔ اس سروے کی بنیاد پر مستقبل میں ہاوزنگ ( امکنہ کی فراہمی ) ، راشن کارڈس کی اجرائی ، وظیفہ کی منظوری ، فیس باز ادائیگی ، اور دیگر سرکاری اسکیمات سے استفادہ کا موقع فراہم کیا جائے گا ۔ ایسے میں شہر اور اضلاع کے مسلمانوں کو مذکورہ تمام دستاویزات کے ساتھ 19 اگست کے گھر گھر سروے کے لیے تیار رہنا چاہئے کیوں کہ یہ ایک مردم شماری کی بھی حیثیت رکھتا ہے ۔ ڈسٹرکٹ کلکٹر مکیش کمار مینا اور جی ایچ ایم سی کمشنر سومیش کمار کے مطابق اس خصوصی سروے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور امید ہے کہ 19 اگست کو صرف ایک دن میں یہ مکمل ہوجائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT